قومی ایوارڈ یافتہ اداکار منوج باجپائی کے مطابق، پردے پر کسی کردار کی عمر سے زیادہ اس کی گہرائی، مختلف پرتیں اور کہانی میں اس کی معنویت اہم ہوتی ہے۔ انہوں نے اپنی آنے والی فلم ‘لاسٹ مین اِن ٹاور’ کی تشہیری تقریب کے دوران اداکاری کی تیاری کے بارے میں بات کرتے ہوئے یہ بات کہی۔
ممبئی میں منعقدہ اس تقریب میں منوج باجپائی کے ساتھ فلم کی معاون اداکارہ دیویا دتہ اور ہدایت کار بین ریکھی بھی موجود تھے۔ میڈیا سے گفتگو کے دوران ان سے پردے پر مختلف عمروں کے کردار ادا کرنے اور اداکاری کی تیاری کے بارے میں سوال کیا گیا۔
کردار کی عمر سے زیادہ اس کی گہرائی اہم
منوج باجپائی نے کہا کہ اداکاروں کو کسی مخصوص عمر کے کردار کو ادا کرنے کے حوالے سے زیادہ فکرمند ہونے کی ضرورت نہیں۔ ان کے مطابق، اداکار کی توجہ اس بات پر ہونی چاہیے کہ وہ کردار کی شخصیت اور اس کی کہانی کی کتنی پرتیں ناظرین کے سامنے پیش کر سکتا ہے۔
گفتگو کے دوران انہوں نے کرداروں کا موازنہ پیاز کی پرتوں سے کیا۔ ان کے مطابق، انسانوں کی طرح ہر کردار کے اندر بھی کئی پرتیں ہوتی ہیں اور انہیں ایک ایک کرکے سمجھنا اور پردے پر پیش کرنا اداکار کے لیے ایک چیلنجنگ کام ہے۔
اداکار نے بتایا کہ جب وہ کسی کردار کی تیاری کرتے ہیں تو صرف مکالمے یا مناظر یاد کرنے تک محدود نہیں رہتے۔ وہ کردار کے مکمل پس منظر کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ اس کا رویہ اور شخصیت پردے پر فطری نظر آئے۔
اسکرپٹ سے کردار کو سمت ملتی ہے
منوج باجپائی کے مطابق، کسی کردار کی تیاری اسکرپٹ سے شروع ہوتی ہے۔ اسکرپٹ اداکار کو کردار کے بارے میں کئی اہم اشارے فراہم کرتی ہے۔ انہی اشاروں کی بنیاد پر اداکار کردار کی شخصیت اور اس کے ماضی کو سمجھنے کی کوشش کرتا ہے۔
ان کے مطابق، ہر کردار کی ایک بیک اسٹوری، اپنی کریکٹرائزیشن اور ایک مخصوص نفسیات ہوتی ہے۔ وہ اسکرپٹ پڑھنے کے بعد ان پہلوؤں کو نوٹ کرتے ہیں اور پھر ان کی بنیاد پر کردار کا تفصیلی پس منظر تیار کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
اس عمل میں کردار کے گرے شیڈز، باریکیاں اور اس کے اندر موجود مختلف جذباتی سطحیں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔
شوٹنگ شروع ہونے کے بعد بھی تیاری جاری رہتی ہے
منوج باجپائی کا کہنا ہے کہ اداکار کا اصل کام صرف شوٹنگ شروع ہونے سے پہلے کی تیاری تک محدود نہیں رہتا۔ کیمرے کے سامنے آنے کے بعد بھی کردار اور اداکاری کو سمجھنے کا عمل مسلسل جاری رہتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ شوٹنگ کے دوران حالات حقیقی وقت میں بدلتے رہتے ہیں۔ سیٹ کا ماحول، ہدایت کار کا طریقہ کار اور معاون اداکار کی توانائی اداکار کی کارکردگی کو متاثر کر سکتی ہے۔ ایسی صورت میں فنکار کو حالات کے مطابق اپنے کام میں معمولی تبدیلیاں کرنا پڑ سکتی ہیں۔
ان کے مطابق، کسی فلم کی شوٹنگ کے دوران کئی ایسی چیزیں سامنے آتی ہیں جن کا تیاری کے وقت مکمل طور پر اندازہ نہیں لگایا جا سکتا۔ اسی لیے اداکار کو حالات کے مطابق خود کو ڈھالنے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔
معاون اداکار کی توانائی سے نیا نقطۂ نظر
منوج باجپائی نے اداکاری کے عمل میں معاون اداکاروں کے کردار کو بھی اہم قرار دیا۔ ان کے مطابق، سامنے والا فنکار جس توانائی اور انداز میں اپنے کردار کو ادا کرتا ہے، اس کا اثر دوسرے اداکار کی کارکردگی پر بھی پڑ سکتا ہے۔
سیٹ پر موجود حالات اور دیگر فنکاروں کی اداکاری بعض اوقات کسی کردار کی نئی پرتوں کو سمجھنے میں مدد دیتی ہے۔ اس سے اداکار کو اپنے کردار کے بارے میں نئے خیالات مل سکتے ہیں اور وہ اپنی کارکردگی میں مزید باریکیاں شامل کر سکتا ہے۔
اس طرح اداکاری ان کے لیے ایک ایسا عمل ہے جو شوٹنگ کے ساتھ آگے بڑھتا رہتا ہے۔ کردار سے متعلق نئے تجربات اور حالات اداکار کو اپنی کارکردگی میں تبدیلی اور بہتری کا موقع دیتے ہیں۔
’نامعلوم راستے‘ پر چلنے کا تجربہ
منوج باجپائی نے اداکاری کو ایک مسلسل جاری رہنے والا عمل قرار دیتے ہوئے کہا کہ کبھی کبھی شوٹنگ کے دوران کہانی ایسی سمت میں آگے بڑھتی ہے جس کی پہلے سے تیاری نہیں کی گئی ہوتی۔
انہوں نے اس تجربے کو ایک نامعلوم راستے پر سفر کرنے سے تشبیہ دی۔ ان کے مطابق، ابتدا میں ایسی صورت حال کچھ خوفناک محسوس ہو سکتی ہے کیونکہ فنکار کو معلوم نہیں ہوتا کہ آگے کیا ہونے والا ہے۔ لیکن ایک بار جب وہ اس عمل کا حصہ بن جاتا ہے تو اسے اس میں لطف آنے لگتا ہے۔
اداکار کے مطابق، یہی غیر یقینی صورت حال اداکاری کو دلچسپ بناتی ہے۔ مکمل تیاری کے باوجود سیٹ پر پیش آنے والے نئے تجربات کسی کردار کو مختلف سمت دے سکتے ہیں۔
’لاسٹ مین اِن ٹاور‘ میں نظر آئیں گے منوج باجپائی
منوج باجپائی ان دنوں اپنی آنے والی فلم ‘لاسٹ مین اِن ٹاور’ کی تشہیر میں مصروف ہیں۔ فلم میں ان کے ساتھ دیویا دتہ بھی نظر آئیں گی۔ فلم کی ہدایت کاری بین ریکھی نے کی ہے۔
تشہیری تقریب کے دوران فلم سے متعلق سوالات کے ساتھ منوج باجپائی سے ان کے اداکاری کے عمل اور کرداروں کے حوالے سے ان کی سوچ پر بھی بات کی گئی۔ اداکار نے واضح کیا کہ وہ کسی کردار کو صرف عمر کے نقطۂ نظر سے نہیں دیکھتے۔
ان کے لیے کردار کی کہانی، اس کا پس منظر، جذباتی پرتیں اور پردے پر اس کی معنویت زیادہ اہم ہیں۔
11 ستمبر کو ریلیز ہوگی فلم
منوج باجپائی کی ‘لاسٹ مین اِن ٹاور’ 11 ستمبر 2026 کو سینما گھروں میں ریلیز ہونے والی ہے۔ فلم کی ریلیز سے قبل اداکار اس کی تشہیر میں مصروف ہیں۔
فلم کی تشہیر کے دوران منوج باجپائی نے اداکاری کے بارے میں اپنی سوچ بھی بیان کی۔ ان کے مطابق، ایک اداکار کے لیے سیکھنے اور کردار کو بہتر طور پر سمجھنے کا عمل کبھی ختم نہیں ہوتا۔
ان کے مطابق، اسکرپٹ سے تیاری شروع ہونے کے بعد حقیقی شوٹنگ میں معاون اداکاروں، سیٹ اور حالات سے ملنے والے تجربات کردار کو مسلسل نئی شکل دیتے رہتے ہیں۔ کردار کی عمر چاہے جو بھی ہو، اس کی گہرائی اور اس کے اندر موجود پرتوں کو سمجھنا اداکار کے لیے اہم چیلنج ہے۔






