Meta نے TRIBE v2 نامی ایک جدید AI ماڈل متعارف کرایا ہے، جسے انسانی دماغ کے رویے اور ردعمل کو سمجھنے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ یہ ماڈل ویژول، آڈیو اور ٹیکسٹ ان پٹ کی بنیاد پر دماغ کے ردعمل کا اندازہ لگاتا ہے۔ کمپنی کے مطابق، اسے بڑے ڈیٹا سیٹس اور زیادہ شرکاء کے ساتھ تربیت دی گئی ہے تاکہ تحقیق کے عمل کو تیز اور زیادہ درست بنایا جا سکے۔ اس کا مقصد نیوروسائنس، ہیلتھ کیئر اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے شعبوں میں نئی ممکنات کو فروغ دینا ہے۔
TRIBE v2 ایک جدید AI ماڈل ہے جو انسانی دماغ کے کام کرنے کے طریقے کو سمجھنے کی کوشش کرتا ہے۔ یہ ویژول، آڈیو اور ٹیکسٹ جیسے تین مختلف ان پٹ کو ایک ساتھ پراسیس کرکے دماغ کے ردعمل کا اندازہ لگاتا ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ ماڈل پچھلے ورژن کے مقابلے میں زیادہ درست اور تفصیلی معلومات فراہم کرتا ہے۔ اسے بڑے ڈیٹا سیٹس اور زیادہ شرکاء کی مدد سے تربیت دی گئی ہے، جس سے اس کی تجزیاتی صلاحیت بہتر ہوئی ہے۔
دماغ سے متعلق تحقیق میں اب تک ہر مطالعے کے لیے نئی برین ریکارڈنگ کی ضرورت ہوتی تھی، جو وقت طلب اور مہنگی تھی۔ TRIBE v2 اس عمل کو آسان بنا سکتا ہے، جس سے تحقیق کی رفتار میں نمایاں اضافہ ممکن ہے۔ Meta کے مطابق، جہاں پہلے کسی مطالعے کو مکمل کرنے میں مہینے لگتے تھے، اب وہی کام چند منٹوں میں کیا جا سکتا ہے۔ اس سے نیوروسائنس، ہیلتھ کیئر اور AI تحقیق میں اہم تبدیلیاں ممکن ہو سکتی ہیں۔
یہ AI ماڈل تین مراحل میں کام کرتا ہے۔ پہلے مرحلے میں، یہ ویژول، ساؤنڈ اور ٹیکسٹ کو تجزیے کے لیے موزوں ڈیٹا فارمیٹ میں تبدیل کرتا ہے۔ دوسرے مرحلے میں، یہ تمام ان پٹس کو ملا کر انسانی دماغ کے پیٹرنز کو سمجھتا ہے۔ آخری مرحلے میں، یہ اندازہ لگاتا ہے کہ کسی مخصوص ان پٹ پر دماغ کا کون سا حصہ فعال ہوگا۔ یہی صلاحیت اسے روایتی AI ماڈلز سے مختلف بناتی ہے۔





