ہزاروں صارفین کو نشانہ بنانے والی QR کوڈ فشنگ اسکیمز پر مائیکروسافٹ کی وارننگ

مائیکروسافٹ نے QR کوڈ فشنگ اسکیمز میں اضافے کے حوالے سے وارننگ جاری کی ہے۔ کمپنی کے مطابق جعلی ای میلز اور فرضی لاگ اِن پیجز کے ذریعے پاس ورڈز، سیشن ٹوکنز اور حساس معلومات چوری کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ 13,000 کمپنیوں کے 35,000 سے زائد صارفین کو نشانہ

مائیکروسافٹ نے QR کوڈ فشنگ اسکیم کے حوالے سے نئی وارننگ جاری کی ہے۔ جعلی ای میلز اور فرضی لاگ اِن پیجز کے ذریعے ہیکرز صارفین کی لاگ اِن معلومات اور حساس ڈیٹا چوری کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

مائیکروسافٹ کے سائبر سیکیورٹی ماہرین کے مطابق حملہ آور پیشہ ورانہ انداز میں تیار کی گئی جعلی ای میلز اور PDF فائلز کے ذریعے QR کوڈ استعمال کر کے صارفین کو فرضی لاگ اِن پیجز پر بھیج رہے ہیں۔ ان اسکیمز کے ذریعے پاس ورڈز، اکاؤنٹ تک رسائی اور دیگر حساس معلومات حاصل کی جا رہی ہیں۔

مائیکروسافٹ نے کہا کہ سائبر جرائم پیشہ عناصر ای میلز میں QR کوڈ بھیج کر لوگوں کو جعلی ویب سائٹس تک پہنچا رہے ہیں۔ یہ ای میلز اکثر HR ڈیپارٹمنٹ، IT سپورٹ یا کمپنی انتظامیہ کی جانب سے بھیجے گئے سرکاری پیغامات جیسی دکھائی دیتی ہیں۔

ای میلز میں اکاؤنٹ بلاک ہونے، سیکیورٹی اپ ڈیٹ یا لازمی کمپلائنس جیسے معاملات کا حوالہ دے کر صارفین پر فوری کارروائی کے لیے دباؤ ڈالا جاتا ہے۔ جیسے ہی صارف QR کوڈ اسکین کرتا ہے، اسے ایک جعلی لاگ اِن پیج پر ری ڈائریکٹ کر دیا جاتا ہے جہاں اس کی لاگ اِن معلومات چوری کی جا سکتی ہیں۔

مائیکروسافٹ کے سیکیورٹی محققین کے مطابق اب تک 13,000 کمپنیوں کے 35,000 سے زائد صارفین کو اس نوعیت کی اسکیمز کے ذریعے نشانہ بنایا جا چکا ہے۔ حملہ آور صرف پاس ورڈز ہی نہیں بلکہ سیشن ٹوکنز اور دیگر حساس معلومات حاصل کرنے کی بھی کوشش کر رہے ہیں۔

کمپنی نے کہا کہ بعض معاملات میں ٹو اسٹیپ ویریفکیشن فعال ہونے کے باوجود اکاؤنٹس تک رسائی حاصل کیے جانے کے خدشات سامنے آئے ہیں۔ سائبر سیکیورٹی ماہرین کے مطابق QR کوڈز کو عام طور پر محفوظ سمجھا جاتا ہے، جس کے باعث بہت سے صارفین بغیر تصدیق کیے انہیں اسکین کر لیتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ یہ اسکیمز تیزی سے پھیل رہی ہیں۔

سائبر سیکیورٹی ماہرین نے صارفین کو مشورہ دیا ہے کہ نامعلوم ای میلز یا پیغامات میں موصول ہونے والے QR کوڈز اسکین نہ کریں۔ کسی بھی لنک یا لاگ اِن پیج تک رسائی سے پہلے بھیجنے والے کی شناخت کی تصدیق کریں اور جلد بازی یا خوف پیدا کرنے والی ای میلز سے محتاط رہیں۔

ماہرین نے فون اور سسٹمز کو باقاعدگی سے اپ ڈیٹ رکھنے اور تمام اہم اکاؤنٹس میں ٹو فیکٹر آتھنٹیکیشن فعال رکھنے کی بھی سفارش کی ہے۔

اگر کسی مشتبہ QR کوڈ کو اسکین کر لیا گیا ہو تو فوری طور پر انٹرنیٹ کنکشن بند کرنے، پاس ورڈ تبدیل کرنے اور اکاؤنٹ سرگرمیوں کا جائزہ لینے کا مشورہ دیا گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق ضرورت پڑنے پر متاثرہ ڈیوائس کو فیکٹری ری سیٹ کرنا بھی محفوظ اقدام ہو سکتا ہے۔

Leave a comment