مڈل ایسٹ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث جمعرات، 19 مارچ کو بھارتی شیئر بازار میں تیز گراوٹ ریکارڈ کی گئی۔ مسلسل تین ٹریڈنگ سیشنز میں اضافے کے بعد بازار میں اچانک کمزوری دیکھنے کو ملی۔ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے ساؤتھ پارس گیس فیلڈ اور اس کے اطراف کے ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی خبروں نے عالمی مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال کو بڑھا دیا، جس کا براہ راست اثر بھارتی بازار پر بھی پڑا۔
بازار کھلتے ہی سرمایہ کاروں میں بے چینی کا ماحول پیدا ہوا اور بڑی سطح پر فروخت دیکھی گئی، جس سے سینسیکس اور نفٹی دونوں بڑے انڈیکسز پر دباؤ بڑھ گیا۔
تیس شیئرز پر مشتمل بی ایس ای سینسیکس 1500 سے زائد پوائنٹس کی گراوٹ کے ساتھ 74,750.92 کی سطح پر کھلا۔ بازار کھلنے کے بعد بھی گراوٹ جاری رہی اور صبح 9:42 بجے سینسیکس 1687.05 پوائنٹس یا 2.20 فیصد کمی کے ساتھ 75,017.08 پر ٹریڈ کر رہا تھا۔ اسی طرح نیشنل اسٹاک ایکسچینج کا نفٹی-50 بھی 2 فیصد سے زیادہ گر گیا۔ نفٹی 23,180.95 پر کھلا اور صبح 9:44 بجے 507.05 پوائنٹس یا 2.13 فیصد کمی کے ساتھ 23,270.75 پر کاروبار کرتا دیکھا گیا۔
عالمی مارکیٹس میں بھی گراوٹ کا اثر نظر آیا۔ جمعرات کو ایشیائی بازاروں میں کمزوری دیکھی گئی جہاں جاپان کا نِکّے 225 تقریباً 2.74 فیصد گر گیا جبکہ جنوبی کوریا کا کوسپی 2.50 فیصد نیچے ٹریڈ کرتا رہا۔ ان بازاروں پر وال اسٹریٹ کی گراوٹ کا اثر واضح رہا۔
امریکی بازاروں میں ایس اینڈ پی 500 میں 1.36 فیصد کی کمی ہوئی جبکہ ڈاؤ جونز انڈسٹریل ایوریج 1.63 فیصد نیچے بند ہوا۔ نیسڈیک کمپوزٹ بھی 1.46 فیصد گر کر بند ہوا۔ سرمایہ کاروں کی نظریں اب بینک آف جاپان کے شرح سود کے فیصلے پر مرکوز ہیں، جو آئندہ بازار کے رخ کے بارے میں اشارہ دے سکتا ہے۔
امریکی فیڈرل ریزرو نے اپنی دو روزہ میٹنگ کے بعد شرح سود کو 3.5 سے 3.75 فیصد کے درمیان برقرار رکھا ہے۔ فیڈ چیئرمین جیروم پاول نے کہا کہ ایران سے متعلق تنازع نے مہنگائی کے منظرنامے کو مزید غیر یقینی بنا دیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی اشارہ دیا کہ آئندہ وقت میں شرح سود کی سمت کا تعین آسان نہیں ہوگا۔ اس بیان کا اثر بھی بازاروں پر پڑا ہے۔
مڈل ایسٹ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کا اثر توانائی کے شعبے پر بھی دیکھا گیا۔ اسرائیل اور ایران کے درمیان حملوں کے باعث سپلائی میں رکاوٹ کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔ برینٹ کروڈ کی قیمت 112 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی ہے۔ مئی فیوچرز کنٹریکٹ 1.24 فیصد بڑھ کر 112.6 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ کر رہا تھا۔
تیل کی قیمتوں میں یہ اضافہ بھارت جیسے درآمد پر انحصار کرنے والے ملک کے لیے اہم عنصر ہے، جو مہنگائی اور کمپنیوں کی لاگت پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔
آئی پی او مارکیٹ میں بھی سرگرمیاں جاری ہیں۔ جی ایس پی کراپ سائنس آئی پی او میں سرمایہ کاری کا آخری دن جمعرات ہے۔ اس ایشو کو دوسرے دن تک 1.64 گنا سبسکرپشن حاصل ہو چکی ہے۔ کمپنی اس آئی پی او کے ذریعے تقریباً ₹400 کروڑ جمع کرنا چاہتی ہے۔ اس کی ممکنہ لسٹنگ تاریخ 24 مارچ مقرر کی گئی ہے۔
اسی طرح نووس لائلٹی آئی پی او بھی سرمایہ کاروں کے لیے کھلا ہوا ہے۔ پہلے دن اس ایشو کو 0.88 گنا سبسکرپشن ملا۔ یہ ₹60.15 کروڑ کا بک بلڈ ایشو ہے اور دوسرے دن بھی اس میں سرمایہ کاری جاری ہے۔




