مشرق وسطیٰ کشیدگی اور تیل قیمتوں میں اضافے کے درمیان بھارتی شیئر بازار میں نفٹی 5.3 فیصد اور سینسی

مشرق وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی اور تیل کی قیمتوں میں اضافے کے باعث بھارتی شیئر بازار میں نمایاں ہفتہ وار گراوٹ ریکارڈ کی گئی۔ اس دوران نفٹی–50 میں 5.3 فیصد اور سینسیکس میں 5.5 فیصد کمی آئی، جس کے نتیجے میں بی ایس ای میں درج کمپنیوں کے مارکیٹ کیپٹل

اس ہفتے مشرق وسطیٰ میں کشیدگی اور تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث بھارتی شیئر بازار دباؤ میں رہا۔ اس دوران نفٹی–50 اور بی ایس ای سینسیکس نے گزشتہ برسوں کی سب سے بڑی ہفتہ وار گراوٹ درج کی۔

جمعہ 13 مارچ کو نفٹی–50 میں 2.06 فیصد کمی ہوئی اور یہ 23,151.1 پر بند ہوا۔ اسی طرح سینسیکس 1.93 فیصد گر کر 74,563.92 پر بند ہوا۔ ہفتہ وار بنیاد پر نفٹی تقریباً 5.3 فیصد نیچے آیا، جو جون 2022 کے بعد سب سے بڑی ہفتہ وار گراوٹ ہے۔ سینسیکس میں اس ہفتے 5.5 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جو مئی 2020 کے بعد سب سے بڑا ہفتہ وار نقصان سمجھا جا رہا ہے۔

مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع اور توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو متاثر کیا ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرتی ہے تو مہنگائی میں اضافے اور معاشی ترقی کی رفتار سست ہونے کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔ یہ صورتحال خاص طور پر بھارت جیسے بڑے تیل درآمد کرنے والے ممالک کے لیے اہم سمجھی جا رہی ہے۔

مشرق وسطیٰ میں کشیدگی فروری کے آخر میں اسرائیل اور امریکا کی جانب سے ایران پر مشترکہ حملوں کے بعد شروع ہوئی۔ اس تنازع میں اب تک 2,000 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ لاکھوں افراد متاثر ہوئے ہیں۔ اس صورتحال نے عالمی توانائی اور مالیاتی منڈیوں میں غیر یقینی صورتحال کو بڑھا دیا ہے۔ مارکیٹ ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز کے راستے تیل کی سپلائی میں رکاوٹ کا خدشہ بھارت کے متعدد شعبوں کو متاثر کر سکتا ہے۔

اس بحران سے متاثر ہونے والے شعبوں میں آٹوموبائل، آئل مارکیٹنگ، سیاحت، صارفین کے پائیدار سامان، الیکٹرانک مینوفیکچرنگ سروسز، کھاد اور کیمیکل صنعتیں اور سٹی گیس ڈسٹری بیوشن شامل ہیں۔ چولامندلم سکیورٹیز کے ایکویٹی ریسرچ کے سربراہ دھرمیـش کانت کے مطابق کمپنیوں کی آمدنی پر اثر اس بات پر منحصر ہوگا کہ یہ تنازع کتنی مدت تک جاری رہتا ہے۔ موجودہ حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے مالی سال 2027 میں بھارتی کمپنیوں کی آمدنی کے تخمینوں میں تقریباً 200 بیسس پوائنٹس کی کمی آ سکتی ہے۔

اس ہفتے تمام 16 بڑے سیکٹرل انڈیکسز میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ مڈ کیپ انڈیکس 4.6 فیصد اور اسمال کیپ انڈیکس 3.7 فیصد نیچے آئے۔ آٹو سیکٹر کے شیئرز میں سب سے زیادہ گراوٹ دیکھی گئی اور یہ تقریباً 10.6 فیصد تک نیچے آگئے۔ سرمایہ کاروں کو خدشہ ہے کہ مشرق وسطیٰ کی جنگ پیداوار اور برآمدات کو متاثر کر سکتی ہے، جس کے باعث اس شعبے میں گزشتہ چھ برسوں کی سب سے بڑی ہفتہ وار گراوٹ سامنے آئی۔

مالیاتی شعبے کے بڑے شیئرز بھی 5.7 فیصد گر گئے۔ غیر ملکی سرمایہ کاروں کی تیز فروخت نے اس شعبے میں کمی کو مزید بڑھا دیا۔ تاہم مجموعی گراوٹ کے باوجود کول انڈیا کے شیئرز تقریباً 6 فیصد بڑھ گئے۔ ماہرین کے مطابق گرمیوں کے موسم کے جلد آغاز اور کوئلے کی بڑھتی ہوئی طلب کے باعث اس کمپنی کے شیئرز میں اضافہ دیکھا گیا۔

اس ہفتے کی گراوٹ کے باعث سرمایہ کاروں کو بڑا مالی نقصان اٹھانا پڑا۔ بی ایس ای میں درج کمپنیوں کا مجموعی مارکیٹ کیپٹلائزیشن 43,00,474 کروڑ روپے رہ گیا، جبکہ گزشتہ جمعہ 6 مارچ کو یہ 44,93,547 کروڑ روپے تھا۔ اس طرح اس ہفتے مارکیٹ میں سرمایہ کاروں کی مجموعی دولت میں تقریباً 19,34,973 کروڑ روپے کی کمی ریکارڈ کی گئی۔

Leave a comment