وزیراعظم نریندر مودی نے انڈیا موبائل کانگریس کے 10ویں ایڈیشن سے خطاب کرتے ہوئے بھارت میں 5G کی توسیع، موبائل انٹرنیٹ کی رفتار، گیمنگ، کانٹینٹ کریئیشن، ڈیجیٹل کنیکٹیویٹی، سیمی کنڈکٹر اور سائبر سیکیورٹی سے متعلق پیش رفت پر بات کی۔
5G کی توسیع سے موبائل انٹرنیٹ کی رفتار میں اضافہ
وزیراعظم مودی نے 8 اکتوبر کو انڈیا موبائل کانگریس کے 10ویں ایڈیشن سے خطاب کرتے ہوئے بھارت کے ٹیلی کام اور ڈیجیٹل شعبوں میں ہونے والی تبدیلیوں کا ذکر کیا۔ ایئرفورس ڈے کے موقع پر دیے گئے خطاب میں انہوں نے کہا کہ موبائل فون اب صرف گفتگو یا چیٹنگ کا ذریعہ نہیں رہا، بلکہ یہ ڈیجیٹل معیشت، تفریح، کاروبار اور کریئیٹو انڈسٹری کا اہم حصہ بن چکا ہے۔
وزیراعظم نے یاد دلایا کہ 2022 میں اسی پلیٹ فارم سے بھارت میں 5G خدمات کا آغاز کیا گیا تھا۔ ان کے مطابق، ملک میں اب 5.5 لاکھ سے زیادہ 5G بیس اسٹیشن فعال ہیں۔ 5G نیٹ ورک کی توسیع کے ساتھ بھارت میں موبائل انٹرنیٹ کی رفتار 2022 کے مقابلے میں تقریباً 10 گنا تک بڑھ گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت اب صرف نیٹ ورک کی توسیع ہی نہیں بلکہ تحقیق اور عالمی تکنیکی معیارات کے شعبے میں بھی آگے بڑھ رہا ہے۔
گیمنگ اور کانٹینٹ کریئیشن کے لیے موبائل پلیٹ فارم
وزیراعظم مودی نے موبائل ٹیکنالوجی کے بدلتے ہوئے استعمال پر بھی بات کی۔ انہوں نے کہا کہ اسمارٹ فون اب صرف چیٹنگ کے لیے استعمال ہونے والا ڈیوائس نہیں ہے۔ موبائل نے گیمنگ، ویڈیو سازی اور ڈیجیٹل تفریح کے لیے نئے مواقع پیدا کیے ہیں۔
وزیراعظم کے مطابق، بھارت میں 50 کروڑ سے زیادہ لوگ گیمنگ ایکو سسٹم سے وابستہ ہیں۔ اس شعبے میں نوجوان نئے کاروبار اور اسٹارٹ اپس تیار کر رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی علاقائی زبانوں میں OTT اور ویڈیو پلیٹ فارمز کی توسیع نے کانٹینٹ انڈسٹری کے لیے ایک بڑی مارکیٹ تیار کی ہے۔
علاقائی ڈیجیٹل کانٹینٹ کے بڑھتے ہوئے اثر سے مقامی زبانوں کے ناظرین تک رسائی آسان ہوئی ہے۔ اس سے چھوٹے شہروں اور مختلف لسانی علاقوں کے کریئیٹرز کے لیے بھی ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر اپنی شناخت بنانے کے مواقع بڑھے ہیں۔
DBT سے ڈیجیٹل گورننس کو تقویت
وزیراعظم نے ڈیجیٹل کنیکٹیویٹی کو گڈ گورننس سے بھی جوڑا۔ ڈائریکٹ بینیفٹ ٹرانسفر یعنی DBT کی مثال دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی نے سرکاری اسکیموں کی رقم براہ راست مستحقین تک پہنچانے میں مدد کی ہے۔
وزیراعظم کے مطابق، DBT کے ذریعے تقریباً 50 لاکھ کروڑ روپے براہ راست مستحقین کے بینک اکاؤنٹس میں بھیجے گئے ہیں۔ اس سے تقریباً 5 لاکھ کروڑ روپے کی لیکیج روکنے میں مدد ملی ہے۔ انہوں نے پی ایم کسان جیسی اسکیموں کا بھی ذکر کیا، جن میں ڈیجیٹل ذرائع کے ذریعے رقم براہ راست مستحقین تک پہنچتی ہے۔
سائبر سیکیورٹی کے لیے عالمی فریم ورک کی ضرورت
وزیراعظم نے ڈیجیٹل توسیع کے ساتھ سائبر سیکیورٹی کے چیلنج پر بھی زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی اسی وقت بڑے پیمانے پر کامیاب ہو سکتی ہے جب لوگوں کا اس پر اعتماد برقرار رہے۔ سائبر جرائم کسی ایک ملک کی سرحد تک محدود نہیں ہیں، اس لیے ان سے نمٹنے کے لیے بین الاقوامی سطح پر تعاون ضروری ہے۔
انہوں نے حکومتوں، ٹیک کمپنیوں اور مالیاتی اداروں سے سائبر فراڈ روکنے کے لیے ایک مضبوط عالمی فریم ورک تیار کرنے کی اپیل کی۔ اس کا مقصد ڈیجیٹل فراڈ کو عام شہریوں تک پہنچنے سے پہلے روکنے کے لیے ایک مشترکہ نظام تیار کرنا ہے۔
وزیراعظم نے اپنے خطاب میں بھارت کے سیمی کنڈکٹر شعبے میں بڑھتی ہوئی صلاحیت کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے ڈیجیٹل کنیکٹیویٹی، ٹیلی کام انفراسٹرکچر اور تکنیکی مینوفیکچرنگ کو بھارت کی ڈیجیٹل معیشت کے اگلے مرحلے کے لیے اہم بنیاد قرار دیا۔







