NASA کے Perseverance rover نے مریخ کے Jezero Crater میں موجود قدیم چٹانوں میں complex organic carbon compounds کی نشاندہی کی ہے۔ یہ دریافت اس امکان کو مزید مضبوط کرتی ہے کہ اربوں سال پہلے مریخ پر زندگی کے لیے سازگار ماحول موجود ہو سکتا تھا، تاہم زندگی کے براہِ راست شواہد اب تک نہیں ملے ہیں۔
Perseverance rover نے Jezero Crater کے Bright Angel علاقے سے دو mudstone samples جمع کیے تھے۔ اس علاقے کو کبھی قدیم دریا Neretva Vallis کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔ SHERLOC نامی جدید laser spectrometer کی مدد سے ان چٹانوں کا تجزیہ کیا گیا، جس کے دوران سیکڑوں organic signatures اور بڑے carbon-bearing molecules یعنی macromolecular carbon کی شناخت ہوئی۔
سائنس دانوں کے مطابق، Jezero Crater میں اب تک کی یہ سب سے جامع organic detection ہے۔ اس نوعیت کے carbon compounds زمین کی کئی انتہائی قدیم چٹانوں میں بھی پائے جاتے ہیں اور بعض صورتوں میں انہیں قدیم microbial activity کے ممکنہ آثار سے بھی منسلک کیا گیا ہے۔
مریخ پر organic compounds اس سے پہلے بھی دریافت ہو چکے ہیں، لیکن اس بار کی دریافت اس لیے اہم سمجھی جا رہی ہے کیونکہ پہلی مرتبہ Jezero Crater کی قدرتی چٹانوں کی سطح پر macromolecular carbon کی تصدیق ہوئی ہے۔ یہ Gale Crater کے بعد Martian mudstones میں اس نوعیت کی دوسری بڑی شناخت بھی ہے۔
یہ دریافت اس مقام کے قریب ہوئی جہاں گزشتہ سال سائنس دانوں نے "Cheyava Falls" نامی چٹان دریافت کی تھی۔ اس چٹان پر موجود leopard-spot جیسے نشانات نے بھی سائنس دانوں کی توجہ حاصل کی تھی۔ بعض محققین کا خیال ہے کہ یہ ساختیں قدیم حیاتیاتی سرگرمیوں سے متعلق ہو سکتی ہیں، تاہم اس حوالے سے ابھی تک کوئی حتمی نتیجہ اخذ نہیں کیا گیا۔
NASA اور محققین نے واضح کیا ہے کہ complex organic molecules صرف جانداروں کی وجہ سے ہی وجود میں نہیں آتے۔ Hydrothermal activity، چٹانوں کے اندر ہونے والے کیمیائی عمل یا meteorites کے ذریعے بھی ایسے compounds بن سکتے ہیں۔ اس لیے موجودہ شواہد کی بنیاد پر یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ مریخ پر کبھی زندگی یقینی طور پر موجود تھی۔
Perseverance rover پر نصب آلات اتنے مؤثر نہیں ہیں کہ وہ ان compounds کی حیاتیاتی یا ارضیاتی اصل کی حتمی تصدیق کر سکیں۔ اسی وجہ سے اس مشن کا سب سے اہم مقصد ایسے samples جمع کرنا ہے جنہیں مستقبل میں زمین پر لا کر جدید تجربہ گاہوں میں تفصیلی تجزیے کے لیے استعمال کیا جا سکے۔
اگر مستقبل میں مریخ سے لائے گئے rock samples کی زمین پر جانچ کے دوران حیاتیاتی سرگرمی کے واضح شواہد ملتے ہیں، تو یہ انسانی تاریخ کی اہم ترین سائنسی دریافتوں میں سے ایک ہو سکتی ہے۔ فی الحال، NASA کی یہ نئی دریافت اس امکان کو مزید تقویت دیتی ہے کہ اربوں سال پہلے مریخ پر ایسا ماحول موجود تھا جہاں زندگی کے ارتقا کے امکان کو مکمل طور پر مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ تاہم، زندگی کے براہِ راست شواہد اب تک دستیاب نہیں ہیں۔








