نوئیڈا کے سیکٹر-65 میں واقع ایک فن ٹیک کمپنی کے سرور کو ہیک کرکے 2.42 کروڑ روپے سے زائد رقم منتقل کیے جانے کا سائبر جرم کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ پولیس کے مطابق سائبر جعل سازوں نے کمپنی کے اے پی آئی پورٹل کا استعمال کرتے ہوئے چند گھنٹوں کے اندر رقم کو مختلف لین دین میں تقسیم کرکے متعدد بینک اکاؤنٹس میں منتقل کیا۔
کمپنی کے ڈائریکٹر کی شکایت پر سائبر کرائم تھانے میں ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔ پولیس ڈیجیٹل شواہد اور بینکنگ لین دین کے ریکارڈ کی بنیاد پر تحقیقات کر رہی ہے۔
497 لین دین کے ذریعے 58 اکاؤنٹس میں رقم منتقل
پولیس کے مطابق کمپنی کے اکاؤنٹ سے مجموعی طور پر 2,42,65,576 روپے 497 لین دین کے ذریعے 28 مختلف بینکوں کے 58 اکاؤنٹس میں منتقل کیے گئے۔ پوری رقم کو ایک ہی اکاؤنٹ میں منتقل کرنے کے بجائے سیکڑوں چھوٹے اور بڑے لین دین میں تقسیم کیا گیا۔
تفتیشی ٹیم تمام لین دین کے ریکارڈ کا جائزہ لے رہی ہے تاکہ رقم کے حتمی وصول کنندگان اور اس کے بعد ہونے والے لین دین کی کڑی کا پتہ لگایا جا سکے۔
ڈیجیٹل اور مالی خدمات فراہم کرنے والی کمپنی کو نشانہ بنایا گیا
پولیس کی معلومات کے مطابق نشانہ بنائی گئی کمپنی کا نام رینووا پے ٹیک ہے اور اس کا صدر دفتر نوئیڈا میں ہے۔ کمپنی اپنے ڈیجیٹل پلیٹ فارم کے ذریعے مقامی ریٹیل دکانداروں کو بینکنگ اور مالی خدمات فراہم کرنے میں مدد کرتی ہے۔
اس پلیٹ فارم کے ذریعے موبائل اور ڈی ٹی ایچ ریچارج، بجلی، پانی اور گیس کے بلوں کی ادائیگی، آدھار پر مبنی ادائیگی کی سروس، مائیکرو اے ٹی ایم اور گھریلو منی ٹرانسفر جیسی سہولیات چلائی جاتی ہیں۔
تقریباً آٹھ گھنٹوں کے دوران سرور میں مداخلت
کمپنی کے ڈائریکٹر راج کمار نے پولیس کو دی گئی شکایت میں بتایا کہ 13 ستمبر کو دوپہر تقریباً 12 بجے سے رات 8 بجے کے درمیان کمپنی کے سرور کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی گئی۔
اسی مدت کے دوران جعل سازوں نے اے پی آئی پورٹل کے ذریعے کمپنی کے اکاؤنٹ سے 2,42,65,576 روپے منتقل کیے۔ شکایت کے مطابق کمپنی کو اس سرگرمی کی طویل عرصے تک اطلاع نہیں ہو سکی۔
سرور تک رسائی کے طریقے کی تحقیقات
پولیس اس بات کی تحقیقات کر رہی ہے کہ سائبر مجرموں نے کمپنی کے سسٹم تک رسائی کیسے حاصل کی۔ تفتیشی ادارے یہ جانچ رہے ہیں کہ آیا کسی لاگ اِن آئی ڈی اور پاس ورڈ کی معلومات چوری کی گئی تھیں، اے پی آئی کی کسی سکیورٹی خامی کا فائدہ اٹھایا گیا تھا یا کسی دوسرے ذریعے سے سرور تک رسائی حاصل کی گئی تھی۔
پولیس نے ہیکنگ کے طریقے کے بارے میں ابھی حتمی نتیجہ جاری نہیں کیا ہے۔ تکنیکی تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی یہ واضح ہو سکے گا کہ حملہ آوروں نے سسٹم کی سکیورٹی کو کس طرح عبور کیا۔
نیشنل سائبر کرائم رپورٹنگ پورٹل پر بھی تقریباً 10 شکایات
کمپنی کی جانب سے نیشنل سائبر کرائم رپورٹنگ پورٹل پر بھی تقریباً 10 شکایات درج کرائی گئی ہیں۔ پولیس ان شکایات اور بینکنگ لین دین کے ریکارڈ کو آپس میں ملا کر تحقیقات کر رہی ہے۔
497 لین دین کے ذریعے رقم مختلف اکاؤنٹس تک پہنچنے کی وجہ سے تفتیش کاروں کو ہر لین دین کی الگ الگ تصدیق کرنا ہوگی۔ اس سے یہ معلوم کرنے میں مدد مل سکتی ہے کہ کن اکاؤنٹس کو براہ راست رقم وصول کرنے کے لیے استعمال کیا گیا اور کن اکاؤنٹس سے رقم آگے منتقل کی گئی۔
سرور لاگز اور اے پی آئی سرگرمیوں کی جانچ
سائبر کرائم ٹیم رقم وصول کرنے والے بینک اکاؤنٹس کی معلومات جمع کر رہی ہے۔ اس کے ساتھ سائبر ماہرین کی مدد سے ڈیجیٹل سسٹم اور سرور کی بھی جانچ کی جا رہی ہے۔
سرور لاگز، اے پی آئی سرگرمی، لاگ اِن ریکارڈ اور متعلقہ ڈیجیٹل شواہد کو تحقیقات میں اہم سمجھا جا رہا ہے۔ ان شواہد کے ذریعے یہ معلوم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ واقعے کے دوران کس سسٹم سے کون سی سرگرمی ہوئی اور غیر مجاز لین دین کس طریقے سے کیے گئے۔
2.42 کروڑ روپے کی منی ٹریل کی تحقیقات
پولیس کے مطابق 2.42 کروڑ روپے کی رقم 58 اکاؤنٹس میں پہنچی۔ اب پولیس یہ معلوم کرنے کی کوشش کر رہی ہے کہ ان اکاؤنٹس کے مالکان کون ہیں، ان کے اکاؤنٹس کس مقصد کے لیے استعمال ہوئے اور رقم پہنچنے کے بعد اس میں سے کتنی رقم آگے منتقل یا نکالی گئی۔
سائبر جرائم کے معاملات میں رقم کئی مراحل پر مختلف اکاؤنٹس میں منتقل کی جا سکتی ہے۔ اس لیے ہر مرحلے کا ریکارڈ جمع کرنا تحقیقات کا حصہ ہے۔
اندرونی شخص کے ممکنہ کردار کی بھی تحقیقات
پولیس یہ بھی جانچ رہی ہے کہ اس واقعے میں صرف بیرونی سائبر مجرم ملوث تھے یا کمپنی کے سسٹم اور کام کے طریقہ کار سے واقف کوئی شخص بھی اس میں شامل ہو سکتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق تفتیشی ٹیم کسی واقف کار کے ممکنہ کردار کے حوالے سے بھی تحقیقات کر رہی ہے، تاہم ابھی تک کسی شخص کے کردار کے بارے میں حتمی نتیجہ سامنے نہیں آیا ہے۔ کسی ملازم یا واقف شخص کے خلاف الزام عائد کرنے سے پہلے پولیس کو ڈیجیٹل اور مالی شواہد کی بنیاد پر اس کا کردار ثابت کرنا ہوگا۔
رینووا پے ٹیک کی بنیاد فروری 2024 میں رکھی گئی
رینووا پے ٹیک کی بنیاد فروری 2024 میں رکھی گئی تھی۔ کمپنی ڈیجیٹل پلیٹ فارم اور سافٹ ویئر کے ذریعے ریٹیل دکانداروں کو بینکنگ اور مالی خدمات فراہم کرنے میں مدد کرتی ہے۔
ایسے پلیٹ فارمز میں مختلف ادائیگی اور بینکنگ خدمات تکنیکی نظام سے منسلک ہوتی ہیں۔ اس لیے سرور یا اے پی آئی میں سکیورٹی کی خلاف ورزی ہونے کی صورت میں مالی لین دین متاثر ہو سکتے ہیں۔
سائبر ماہرین نے متعدد ممکنہ ذرائع کی نشاندہی کی
سائبر ماہرین کے مطابق سرور تک غیر مجاز رسائی حاصل کرنے کے لیے کمزور پاس ورڈز، چوری شدہ لاگ اِن تفصیلات، غیر محفوظ اے پی آئی، پرانا سافٹ ویئر یا ملازمین کو بھیجے گئے مشتبہ لنکس جیسے مختلف ذرائع استعمال کیے جا سکتے ہیں۔
مالی خدمات فراہم کرنے والی کمپنیوں میں اے پی آئی مختلف سسٹمز اور ادائیگی کی خدمات کو آپس میں جوڑنے کا کام کرتا ہے۔ اے پی آئی کی سکیورٹی میں خامی ہونے کی صورت میں حملہ آور غیر مجاز لین دین کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔ تاہم نوئیڈا کے اس معاملے میں اصل تکنیکی طریقہ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی سامنے آئے گا۔
جون 2024 میں نینی تال بینک کے معاملے میں بھی سرور سے متعلق واقعہ
نوئیڈا میں سرور ہیک کرکے مالی رقم منتقل کیے جانے کا یہ پہلا معاملہ نہیں ہے۔ اس سے قبل جون 2024 میں سیکٹر-62 میں واقع نینی تال بینک کی شاخ کے سرور سے تقریباً 16.71 کروڑ روپے مشتبہ لین دین کے ذریعے مختلف اکاؤنٹس میں منتقل کیے گئے تھے۔
اس معاملے کی تحقیقات کے دوران بینک مینیجر کی لاگ اِن آئی ڈی اور پاس ورڈ استعمال کرکے آر ٹی جی ایس چینل تک رسائی حاصل کیے جانے کی بات سامنے آئی تھی۔ نئے معاملے کے بعد سابقہ سائبر جرائم کے طریقہ کار کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔
ایف آئی آر درج، تحقیقات جاری
پولیس نے معاملے میں ایف آئی آر درج کرکے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ سائبر کرائم ٹیم بینک اکاؤنٹس کی معلومات جمع کرنے کے ساتھ رقم کی منی ٹریل بھی تلاش کر رہی ہے۔
پولیس یہ معلوم کرنے کی کوشش کر رہی ہے کہ 2.42 کروڑ روپے کی رقم کن افراد تک پہنچی اور اس کے بعد کہاں منتقل کی گئی۔ اس کے ساتھ سرور تک رسائی حاصل کرنے والے سائبر مجرموں کی شناخت کے لیے تکنیکی شواہد بھی جمع کیے جا رہے ہیں۔
تحقیقات آگے بڑھنے کے ساتھ بینک اکاؤنٹ ہولڈرز سے پوچھ گچھ، ڈیجیٹل آلات اور لین دین سے متعلق ریکارڈ کی جانچ اور سرور کا فرانزک معائنہ اہم ہو سکتا ہے۔ فی الحال اس معاملے میں کسی ملزم کی گرفتاری کی اطلاع سامنے نہیں آئی ہے۔







