بھارتی شیئر بازار میں سرمایہ کاری کرنے والوں کے لیے ہفتہ عام طور پر تعطیل کا دن ہوتا ہے، لیکن 11 جولائی 2026 کو صورتحال مختلف رہی۔ اس روز نیشنل اسٹاک ایکسچینج (NSE) اور بمبئی اسٹاک ایکسچینج (BSE) نے خصوصی موک ٹریڈنگ (Mock Trading) سیشن کا انعقاد کیا۔ یہ معمول کا تجارتی سیشن نہیں تھا بلکہ ایک تکنیکی سمولیشن (Simulation Exercise) تھا، جس کا مقصد ایکسچینج کے ٹریڈنگ سسٹم، نیٹ ورک انفراسٹرکچر اور ڈیزاسٹر ریکوری (Disaster Recovery) نظام کی جانچ کرنا تھا۔
عام طور پر بھارتی شیئر بازار ہفتہ اور اتوار کو بند رہتے ہیں، اس لیے ہفتہ کے روز بازار کھلنے کی اطلاع سرمایہ کاروں کے لیے دلچسپی کا باعث بنی۔ تاہم، اس خصوصی سیشن کے دوران کسی بھی سرمایہ کار کی حقیقی رقم استعمال نہیں کی گئی اور نہ ہی حقیقی شیئرز کی خرید و فروخت ہوئی۔
موک ٹریڈنگ ایک کنٹرول شدہ ماحول میں ہونے والا تکنیکی امتحان ہے، جس میں ایکسچینجز، ٹریڈنگ ممبران، بروکریج کمپنیاں اور تکنیکی خدمات فراہم کرنے والے اپنے نظام کی کارکردگی کا جائزہ لیتے ہیں۔ اس کا بنیادی مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ مستقبل میں اگر کسی تکنیکی خرابی، سائبر واقعے یا کسی ہنگامی صورتحال کے باعث مرکزی ٹریڈنگ سسٹم متاثر ہو جائے تو بیک اپ (Business Continuity Plan/Disaster Recovery) نظام بغیر کسی رکاوٹ کے بازار کی سرگرمیاں جاری رکھ سکے۔ اس نوعیت کے امتحانات عالمی مالیاتی منڈیوں میں بھی وقتاً فوقتاً منعقد کیے جاتے ہیں تاکہ بازار کی قابلِ اعتماد کارکردگی برقرار رہے۔
11 جولائی 2026 کے اس خصوصی موک ٹریڈنگ سیشن میں ایکویٹی، ایکویٹی ڈیریویٹوز، فیوچرز اینڈ آپشنز، کرنسی ڈیریویٹوز، کموڈیٹی ڈیریویٹوز اور الیکٹرانک گولڈ ریسیٹس (Electronic Gold Receipts – EGR) سمیت کئی اہم مارکیٹ سیگمنٹس شامل تھے۔ ان تمام سیگمنٹس میں صرف سسٹم ٹیسٹنگ اور پروسیس ویلیڈیشن (Process Validation) کے مقصد سے ٹریڈنگ سرگرمیوں کی مشق کی گئی۔
NSE اور BSE نے بالترتیب 8 اور 9 جولائی 2026 کو الگ الگ سرکلرز جاری کرکے اس خصوصی موک ٹریڈنگ سیشن کے بارے میں مارکیٹ شرکاء کو پہلے ہی آگاہ کر دیا تھا۔ ایکسچینجز نے واضح کیا تھا کہ یہ مشق ان کی پرائمری سائٹ اور بیک اپ (BCP/DR) انفراسٹرکچر پر کی جائے گی۔ NSE نے اپنے سرکلر میں بتایا تھا کہ اس دوران ایکویٹی کیش سیگمنٹ میں کلوزنگ آکشن سیشن (Closing Auction Session – CAS) سے متعلق طریقہ کار کی بھی جانچ کی جائے گی۔
دوسری جانب، BSE نے ٹریڈنگ ممبران، خصوصاً تھرڈ پارٹی ٹریڈنگ پلیٹ فارم استعمال کرنے والے شرکاء کو مختلف ٹریڈنگ حالات اور سسٹم کی فعالیت کا جائزہ لینے کے موقع سے فائدہ اٹھانے کا مشورہ دیا۔
ہفتہ کو منعقد کیے گئے اس خصوصی سیشن کو کئی مراحل میں تقسیم کیا گیا تھا، جن میں پری اوپن سرگرمیاں، آرڈر انٹری، ٹریڈنگ، سسٹم سوئچ اوور، دوبارہ لاگ اِن اور دیگر تکنیکی ٹیسٹ شامل تھے۔ اس کا تفصیلی شیڈول متعلقہ ایکسچینجز نے پہلے ہی جاری کر دیا تھا اور تمام ٹریڈنگ ممبران کو اسی کے مطابق اپنے نظام کی جانچ کرنے کی ہدایت دی گئی تھی۔
موک ٹریڈنگ کے دوران کیے جانے والے تمام آرڈرز اور ٹریڈز صرف آزمائشی عمل کا حصہ ہوتے ہیں۔ ان کا حقیقی شیئر بازار یا سرمایہ کاروں کے پورٹ فولیو پر کوئی مالی اثر نہیں پڑتا۔ اس عمل کے دوران نہ حقیقی شیئرز کی منتقلی ہوتی ہے اور نہ ہی کسی قسم کی ادائیگی یا سیٹلمنٹ کی جاتی ہے، اس لیے سرمایہ کاروں کی رقم یا سرمایہ کاری پر کوئی خطرہ نہیں ہوتا۔
موک ٹریڈنگ، جسے پیپر ٹریڈنگ یا ورچوئل ٹریڈنگ بھی کہا جاتا ہے، ایک ایسا سمولیٹڈ ٹریڈنگ ماحول ہے جس میں شرکاء حقیقی رقم کے بجائے ورچوئل فنڈز استعمال کرتے ہوئے ٹریڈنگ کے عمل کی مشق کرتے ہیں۔ یہ نظام نئے سرمایہ کاروں کو شیئر بازار کے طریقہ کار کو سمجھنے، ٹریڈنگ حکمت عملیوں کو آزمانے اور ٹریڈنگ پلیٹ فارم کا عملی تجربہ حاصل کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ اسی طرح بروکریج فرمیں، ایکسچینجز اور ادارہ جاتی شرکاء اپنے تکنیکی نظام، رسک مینجمنٹ کے طریقہ کار اور ٹریڈنگ انفراسٹرکچر کی قابلِ اعتماد کارکردگی جانچنے کے لیے بھی اس کا استعمال کرتے ہیں۔









