ویلنٹائن ویک اینڈ پر ‘او رومیو’ ریلیز، ترپتی ڈمری نے تجربات بیان کیے

فلم ‘او رومیو’ ویلنٹائن ویک اینڈ کے دوران ریلیز ہوئی۔ اداکارہ ترپتی ڈمری نے ایک انٹرویو میں فلم، ہدایتکار وشال بھردواج کے ساتھ کام کے تجربے اور اپنے کیریئر سے متعلق معلومات فراہم کیں۔

فلم ‘او رومیو’ ویلنٹائن ویک اینڈ کے موقع پر سنیما گھروں میں ریلیز ہو چکی ہے، جس میں شاہد کپور اور ترپتی ڈمری مرکزی کردار ادا کر رہے ہیں۔ محبت کے لیے مختص سمجھے جانے والے اس ہفتے کے دوران ہی فلم کو پیش کیا گیا ہے۔ ترپتی ڈمری اس وقت اپنی آنے والی فلم ‘اسپرٹ’ کی شوٹنگ میں مصروف ہیں۔

فلم سے متعلق ترپتی ڈمری کا بیان

روزنامہ دینک جاگرن سے گفتگو کرتے ہوئے ترپتی ڈمری نے کہا کہ ‘او رومیو’ ان کے لیے ایک خاص فلم ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ طویل عرصے سے وشال بھردواج کی فلموں کی مداح رہی ہیں اور پہلے کئی مرتبہ ان کی فلموں کے لیے آڈیشن دیے لیکن منتخب نہیں ہوئیں۔ ان کے مطابق جب ہدایتکار نے اس فلم کے لیے خود فون کیا تو انہوں نے اسکرپٹ سنے بغیر ہی حامی بھر لی۔ انہوں نے کہا کہ ان کے ساتھ کام کرنا ایکٹنگ اسکول جیسا تجربہ ہے جہاں ہر روز کچھ نیا سیکھنے کو ملتا ہے۔

کیریئر کے تجربات پر اظہار خیال

ترپتی ڈمری کے مطابق گزشتہ پانچ برسوں میں ان کے کیریئر میں کئی اتار چڑھاؤ آئے جنہوں نے انہیں نہ صرف نڈر بلکہ محتاط بھی بنایا۔ انہوں نے کہا کہ انسان کو ہمیشہ وہی کام کرنا چاہیے جو دل چاہے کیونکہ زندگی میں سب سے بڑا جواب خود کو دینا ہوتا ہے۔

فلم کے موضوع پر وضاحت

انہوں نے کہا کہ یہ فلم محبت اور جذبات کی گہرائی کو پیش کرتی ہے۔ ان کے مطابق آج کے نوجوان بھی گزشتہ صدی کی نوّے کی دہائی جیسی محبت پسند کرتے ہیں اور نسل کوئی بھی ہو، ناظرین اسی طرز کی محبت کی کہانیاں دیکھنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فلموں سے لوگ محبت کرنا سیکھتے ہیں اور شاہ رخ خان کو اسکرین پر دیکھ کر ویسی محبت کا تصور کرتے ہیں جیسی حقیقی زندگی میں ہونا چاہیے۔ ان کے مطابق محبت ایک مضبوط جذبہ ہے جو ہر انسان کے اندر موجود ہوتا ہے اور کبھی خوشی تو کبھی غم کا باعث بنتا ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ فلم میں دکھائے گئے جذبات ہر عمر اور ہر نسل کے لوگوں کے لیے موزوں ہیں۔

شاہد کپور اور ہدایتکار کے ساتھ کام کا تجربہ

ترپتی ڈمری نے کہا کہ شاہد کپور کے ساتھ اسکرین شیئر کرنا ان کے لیے تجرباتی لحاظ سے اہم رہا۔ انہوں نے کہا کہ وشال بھردواج جیسے ہدایتکار کے ساتھ کام کرنا سیکھنے کا موقع ہوتا ہے اور وہ ہر منظر میں چھوٹے چھوٹے زاویوں، تاثرات اور جذبات پر تفصیل سے کام کرواتے ہیں۔ ان کے مطابق ہدایتکار اداکاری کو ایک فن کے طور پر سمجھتے ہیں اور ٹیم کو بھی یہی نقطۂ نظر اپنانے کا موقع دیتے ہیں۔

فلم کے ردِعمل سے متعلق معلومات

رپورٹ کے مطابق فلم کی کہانی اور رومانوی جذبات کی پیشکش کو ناظرین نے قبول کیا ہے جبکہ فلم میں شاہد کپور اور ترپتی ڈمری کی کیمسٹری کو بھی دیکھا گیا ہے۔

کیریئر کی جدوجہد پر بیان

ترپتی ڈمری نے کہا کہ ان کا فلمی سفر آسان نہیں رہا اور انہیں کئی بار مسترد کیے جانے کا سامنا کرنا پڑا۔ ان کے مطابق مسترد ہونا ایک سبق ہوتا ہے جو آگے بڑھنے کے لیے درکار محنت اور صبر کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر وشال بھردواج انہیں منتخب کرتے ہیں تو وہ اس موقع کو ہاتھ سے نہیں جانے دیں گی۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ ‘او رومیو’ ان کے لیے صرف ایک فلم نہیں بلکہ کیریئر کا اہم مرحلہ ہے جس نے انہیں اپنی اداکاری کی گہرائی اور کردار کے مختلف پہلوؤں کو سمجھنے کا موقع دیا۔

Leave a comment