پٹنہ ناسک حیدرآباد میں 2870 کروڑ روپے کے ملٹی موڈل لاجسٹکس پارکس

پٹنہ، ناسک اور حیدرآباد میں تقریباً 2,870 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری سے ملٹی موڈل لاجسٹکس پارکس تیار کرنے کی تیاری ہے۔ دہلی-ممبئی ریلوے روٹ کے وڈودرا-رتلام سیکشن میں تیسری اور چوتھی ریلوے لائن تیار کرنے کا منصوبہ بھی ہے۔

ملک میں مال برداری کو آسان بنانے اور تجارت کو فروغ دینے کے لیے مرکزی حکومت سڑک، ریل اور دیگر ذرائع نقل و حمل کے درمیان بہتر تال میل قائم کرنے کے مقصد سے ملٹی موڈل لاجسٹکس پارکس تیار کر رہی ہے۔ سڑک ٹرانسپورٹ اور قومی شاہراہوں کی وزارت کے تحت کام کرنے والی نیشنل ہائی وے لاجسٹکس مینجمنٹ لمیٹڈ (NHLML) ملک کے مختلف حصوں میں ایسے پارکس تیار کر رہی ہے۔

اس منصوبے کے تحت پٹنہ، ناسک اور حیدرآباد میں تین نئے ملٹی موڈل لاجسٹکس پارکس تیار کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔ ان تینوں منصوبوں پر مجموعی طور پر تقریباً 2,870 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری متوقع ہے۔

ان منصوبوں کا مقصد سڑک، ریل اور دیگر ذرائع نقل و حمل کے درمیان بہتر تال میل قائم کرکے مال کی نقل و حرکت کو آسان بنانا ہے۔ اس سے طویل فاصلے تک سامان پہنچانے میں لگنے والے وقت اور لاجسٹکس سے متعلق اخراجات کو کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ منصوبوں کی تکمیل کے بعد متعلقہ علاقوں میں تجارتی سرگرمیوں اور سپلائی چین کو بھی تقویت ملنے کی توقع ہے۔

پٹنہ، ناسک اور حیدرآباد میں لاجسٹکس پارکس

سڑک ٹرانسپورٹ اور قومی شاہراہوں کی وزارت کے تحت کام کرنے والی نیشنل ہائی وے لاجسٹکس مینجمنٹ لمیٹڈ (NHLML) ملک کے مختلف حصوں میں ملٹی موڈل لاجسٹکس پارکس تیار کر رہی ہے۔ اسی سلسلے میں پٹنہ، ناسک اور حیدرآباد کے مجوزہ منصوبوں کی حتمی رپورٹ تیار کرکے حکومت کی منظوری کے لیے بھیجی گئی ہے۔

مجوزہ منصوبے کے مطابق پٹنہ میں تقریباً 870 کروڑ روپے کی لاگت سے 103 ایکڑ زمین پر لاجسٹکس پارک تیار کیا جائے گا۔ حیدرآباد میں تقریباً 1,300 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری سے 156 ایکڑ رقبے پر پارک بنانے کا منصوبہ ہے۔ تینوں منصوبوں میں رقبے کے لحاظ سے حیدرآباد کا پارک سب سے بڑا ہوگا۔

ناسک میں مجوزہ ملٹی موڈل لاجسٹکس پارک پر تقریباً 700 کروڑ روپے خرچ ہونے کا اندازہ ہے۔ یہ منصوبہ تقریباً 123 ایکڑ رقبے میں تیار کیا جائے گا۔ حکومت کی منظوری ملنے کے بعد ان منصوبوں کے لیے ٹینڈر کا عمل شروع کیا جا سکتا ہے۔ اس کے بعد تعمیراتی کام مرحلہ وار آگے بڑھانے کا منصوبہ ہے۔

ملٹی موڈل لاجسٹکس پارکس کا ڈھانچہ

ملٹی موڈل لاجسٹکس پارکس ایسے مراکز ہوتے ہیں جہاں مختلف ذرائع نقل و حمل کو ایک ہی لاجسٹکس نیٹ ورک سے منسلک کیا جاتا ہے۔ اس سے مال کو ایک ذریعے سے دوسرے ذریعے میں منتقل کرنا آسان ہوجاتا ہے۔ بھارت میں سڑک ٹرانسپورٹ کے ساتھ ریلوے نیٹ ورک کو لاجسٹکس نظام سے جوڑنا مال برداری کی لاگت کم کرنے کی سمت میں اہم سمجھا جاتا ہے۔

ایسے پارکس میں گودام، مال کی درجہ بندی، پیکیجنگ، ٹرانس شپمنٹ اور دیگر لاجسٹکس خدمات کے لیے سہولیات تیار کی جا سکتی ہیں۔ ان مراکز کے ذریعے صنعتوں اور کاروباری اداروں کو سامان کی نقل و حرکت کے لیے بہتر بنیادی ڈھانچہ دستیاب ہونے کی توقع ہے۔ خاص طور پر مینوفیکچرنگ، زراعت، ای کامرس اور دیگر شعبوں کی سپلائی چین کو اس سے فائدہ مل سکتا ہے۔

دہلی-ممبئی ریلوے روٹ پر مال برداری کی صلاحیت میں اضافہ

لاجسٹکس پارکس کے ساتھ ساتھ دہلی-ممبئی ریلوے روٹ کی صلاحیت بڑھانے پر بھی کام کیا جا رہا ہے۔ اس روٹ پر مسافر اور مال بردار ٹرینوں کے بڑھتے ہوئے دباؤ کو دیکھتے ہوئے وڈودرا-رتلام سیکشن کے درمیان تیسری اور چوتھی ریلوے لائن تیار کرنے کا منصوبہ ہے۔

ریلوے وزارت نے تقریباً 259 کلومیٹر طویل اس منصوبے کو خصوصی ریلوے منصوبے کے طور پر آگے بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اسے سال 2029 تک مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

نئی ریلوے لائنیں بننے کے بعد اس روٹ پر مال بردار ٹرینوں کی آمدورفت کے لیے اضافی صلاحیت دستیاب ہوگی۔ منصوبے کی تکمیل کے بعد سالانہ تقریباً 1.65 کروڑ ٹن اضافی مال برداری کی صلاحیت شامل ہونے کا اندازہ ہے۔

Leave a comment