وزیر اعظم نریندر مودی آج ہریانہ، پنجاب اور مرکز کے زیر انتظام علاقے چندی گڑھ میں مختلف ترقیاتی منصوبوں کا افتتاح اور سنگ بنیاد رکھیں گے۔ اس دورے کے دوران وہ ملک کی پہلی ہائیڈروجن ٹرین کا افتتاح بھی کریں گے، جسے بھارتی ریلوے کی گرین ٹرانسپورٹ مہم کی سمت ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
وزیر اعظم نریندر مودی جمعہ کو ہریانہ، چندی گڑھ اور پنجاب کے ایک روزہ دورے پر متعدد ترقیاتی منصوبوں کا افتتاح اور سنگ بنیاد رکھیں گے۔ اس دورے کی نمایاں تقریب ہریانہ کے جِند سے ملک کی پہلی ہائیڈروجن ٹرین کو ہری جھنڈی دکھانا ہوگی۔ اس کے علاوہ وہ تینوں خطوں میں مجموعی طور پر 26,800 کروڑ روپے سے زائد مالیت کے بنیادی ڈھانچے، نقل و حمل، صحت، تعلیم اور ریلوے سے متعلق منصوبوں کا آغاز کریں گے۔
دورے کا آغاز ہریانہ کے جِند سے ہوگا، جہاں وزیر اعظم نریندر مودی جِند-سونی پت ریلوے سیکشن پر ملک کی پہلی ہائیڈروجن ٹرین کو ہری جھنڈی دکھائیں گے۔ ہائیڈروجن ایندھن پر مبنی اس ٹرین کو روایتی ڈیزل ٹرینوں کے مقابلے میں زیادہ ماحول دوست سمجھا جاتا ہے۔ اس ٹیکنالوجی میں ہائیڈروجن فیول سیل کے ذریعے بجلی پیدا کی جاتی ہے، جس سے کاربن کے اخراج میں نمایاں کمی آتی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ اقدام بھارت کے صاف توانائی مشن اور نیٹ زیرو اخراج کے اہداف کی سمت ایک اہم پیش رفت ثابت ہو سکتا ہے۔
![]()
اس منصوبے کے ساتھ بھارت ان منتخب ممالک کی صف میں شامل ہونے کی سمت آگے بڑھ رہا ہے جنہوں نے ریلوے نقل و حمل میں ہائیڈروجن ٹیکنالوجی اپنانے کا آغاز کیا ہے۔
جِند کے دورے کے دوران وزیر اعظم ایکلویہ اسٹیڈیم میں منعقدہ پروگرام میں مختلف ترقیاتی منصوبوں کا افتتاح اور سنگ بنیاد رکھیں گے۔ ان منصوبوں کی مجموعی لاگت تقریباً 14,700 کروڑ روپے بتائی گئی ہے۔ ان میں سڑک، ریلوے، توانائی، شہری ترقی اور دیگر عوامی بنیادی ڈھانچے سے متعلق منصوبے شامل ہیں۔
پروگرام کے بعد وزیر اعظم ایک عوامی جلسے سے بھی خطاب کریں گے، جہاں ترقیاتی منصوبوں اور حکومت کی ترجیحات پر اپنے خیالات کا اظہار کرنے کا امکان ہے۔پنجاب میں ریلوے اور سڑک نیٹ ورک کے منصوبے
چندی گڑھ کے بعد وزیر اعظم پنجاب کے جالندھر جائیں گے، جہاں وہ تقریباً 5,470 کروڑ روپے مالیت کے ریلوے اور سڑک منصوبوں کا افتتاح اور سنگ بنیاد رکھیں گے۔ ان منصوبوں کا مقصد ریاست میں نقل و حمل کے نیٹ ورک کو مضبوط بنانا، لاجسٹکس کو بہتر کرنا اور اقتصادی سرگرمیوں کو فروغ دینا ہے۔ بہتر سڑک اور ریلوے رابطوں سے صنعت، تجارت، زراعت اور سیاحت کے شعبوں کو بھی فائدہ پہنچنے کی توقع ہے۔
حالیہ برسوں میں بھارت حکومت نے صاف توانائی پر مبنی نقل و حمل، جدید ریلوے نیٹ ورک اور بڑے پیمانے پر بنیادی ڈھانچے کی ترقی پر خصوصی توجہ دی ہے۔ ہائیڈروجن ٹرین منصوبہ اسی وسیع حکمت عملی کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر ہائیڈروجن پر مبنی ریلوے ٹیکنالوجی کامیاب رہتی ہے تو مستقبل میں اسے دیگر ریلوے راستوں پر بھی نافذ کیا جا سکتا ہے۔ اس سے فوسل ایندھن پر انحصار کم ہوگا اور ماحولیات کے تحفظ کی کوششوں کو بھی تقویت ملے گی۔
وزیر اعظم نریندر مودی کے اس دورے کے دوران ہریانہ، پنجاب اور چندی گڑھ میں مجموعی طور پر 26,800 کروڑ روپے کے منصوبوں کا آغاز علاقائی ترقی کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ نقل و حمل، صحت، تعلیم اور بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری سے روزگار کے مواقع پیدا ہونے، عوامی خدمات میں بہتری اور اقتصادی سرگرمیوں کو فروغ ملنے کی توقع ہے۔







