نیوزی لینڈ کے دورے کے دوران وزیرِ اعظم نریندر مودی نے آکلینڈ میں بھارتی برادری سے خطاب کرتے ہوئے اپنی پرانی یادیں تازہ کیں۔ انہوں نے کہا کہ تقریباً 40 برس بعد بھارت کا کوئی وزیرِ اعظم نیوزی لینڈ کے دورے پر آیا ہے۔ وزیرِ اعظم بننے کے بعد یہ ان کا پہلا نیوزی لینڈ کا دورہ ہے، تاہم تقریباً 25 سے 30 برس قبل، جب وہ کسی حکومت کا حصہ نہیں تھے، تب بھی انہیں یہاں آنے کا موقع ملا تھا۔
آکلینڈ میں بڑی تعداد میں موجود بھارتی نژاد افراد سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ اعظم نے بھارت اور نیوزی لینڈ کے تاریخی تعلقات، اقتصادی تعاون، ثقافتی روابط اور بھارت کے ترقیاتی سفر پر تفصیل سے اظہارِ خیال کیا۔ انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا اور کہا کہ آنے والے برسوں میں تعاون کا دائرہ مزید وسیع ہوگا۔
وزیرِ اعظم نے بھارتی برادری کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ سمندر پار مقیم بھارتی، بھارت اور نیوزی لینڈ کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانے میں اہم پل کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی نژاد افراد جہاں بھی رہتے ہیں وہاں کی ترقی میں فعال کردار ادا کرتے ہیں اور اپنی ثقافتی جڑوں سے بھی وابستہ رہتے ہیں۔
اپنے خطاب میں وزیرِ اعظم نے نیوزی لینڈ کی ماؤری روایت "واکا" (Waka) کا ذکر کرتے ہوئے اسے بھارت اور نیوزی لینڈ کے مشترکہ سفر کی علامت قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ تجارت، تعلیم، اختراع، زراعت، سائنس اور ٹیکنالوجی سمیت متعدد شعبوں میں دونوں ممالک کے درمیان تعاون کے وسیع مواقع موجود ہیں۔
انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ دونوں ممالک کے عوام کے درمیان شراکت داری مستقبل میں دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنائے گی اور نئی اقتصادی اور تزویراتی مواقع پیدا کرے گی۔
نیوزی لینڈ میں مقیم بھارتی برادری کی کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے وزیرِ اعظم نے کہا کہ بھارتی نژاد شہری تعلیم، تجارت، سائنس، عوامی زندگی، کھیل اور مختلف پیشہ ورانہ شعبوں میں نمایاں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی ملک کی سب سے بڑی طاقت اس کے عوام ہوتے ہیں اور نیوزی لینڈ نے تنوع کو اپناتے ہوئے ایک جامع معاشرے کی مثال قائم کی ہے۔ بھارتی برادری بھی اس سماجی اور اقتصادی ترقی کا اہم حصہ بن چکی ہے۔
وزیرِ اعظم نے ان بھارتی نژاد افراد کا بھی ذکر کیا جنہوں نے نیوزی لینڈ کے مختلف شعبوں میں قیادت کا کردار ادا کیا ہے اور دونوں ممالک کے تعلقات کو مضبوط بنانے میں اپنا کردار ادا کیا ہے۔
بھارت کی ترقی پر گفتگو کرتے ہوئے وزیرِ اعظم نے کہا کہ ہزاروں سال قدیم تہذیب ہونے کے باوجود بھارت نے جدید ٹیکنالوجی اور اختراع کو تیزی سے اپنایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت اپنی ثقافتی وراثت کے تحفظ کے ساتھ ساتھ ڈیجیٹل تبدیلی، تکنیکی ترقی اور اقتصادی اصلاحات کو بھی یکساں اہمیت دے رہا ہے۔ ان کے مطابق بھارت کا ترقیاتی ماڈل روایت اور جدیدیت کے درمیان توازن قائم کرنے کی کوشش ہے۔
وزیرِ اعظم نے خواتین کی شمولیت، دیہی ترقی اور پائیدار زراعت سے متعلق بھارت کے اقدامات کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ بھارت مختلف ممالک کے کامیاب تجربات سے سیکھتے ہوئے اپنی پالیسیوں کو مسلسل بہتر بنا رہا ہے۔
بھارت کی اقتصادی ترقی پر روشنی ڈالتے ہوئے وزیرِ اعظم نے کہا کہ عالمی اقتصادی چیلنجز کے باوجود بھارت دنیا کی تیزی سے ترقی کرنے والی بڑی معیشتوں میں شامل ہے۔ انہوں نے ڈیجیٹل ادائیگی کے نظام، موبائل مینوفیکچرنگ، خلائی پروگرام، ڈرون ٹیکنالوجی اور اختراع کے شعبے میں بھارت کی کامیابیوں کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ یونیفائیڈ پیمنٹس انٹرفیس (UPI) نے مالی لین دین کو آسان بنایا ہے اور بھارت ڈیجیٹل معیشت کے میدان میں عالمی سطح پر نئی شناخت قائم کر رہا ہے۔ انہوں نے ماحولیات کے تحفظ، قدرتی کاشتکاری اور پائیدار ترقی کو بھی بھارت کی ترجیحات میں شامل قرار دیا۔
وزیرِ اعظم مودی نے بھارت اور نیوزی لینڈ کے درمیان اقتصادی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ تجارت، سرمایہ کاری، زراعت، فوڈ پروسیسنگ، تعلیم، اسٹارٹ اپس، اختراع اور خلائی شعبے میں دونوں ممالک کے درمیان تعاون کے وسیع امکانات موجود ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ مستقبل میں ہونے والے اقتصادی معاہدے دونوں ممالک کی صنعتوں اور کاروباروں کے لیے نئے مواقع پیدا کریں گے اور دوطرفہ تجارت کو مزید فروغ دیں گے۔
وزیرِ اعظم نے بھارت اور نیوزی لینڈ کے درمیان کھیلوں کے تعلقات کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان کھیلوں کے تعاون کی ایک طویل تاریخ رہی ہے۔ انہوں نے ہاکی اور کرکٹ جیسے کھیلوں کے ذریعے قائم مضبوط تعلقات کا حوالہ دیتے ہوئے کھیلوں کے ذریعے عوامی روابط کو مزید فروغ دینے پر زور دیا۔ اس کے علاوہ انہوں نے ثقافتی ورثے کے تحفظ کو دونوں ممالک کی مشترکہ وابستگی قرار دیا اور کہا کہ بھارت اور نیوزی لینڈ اپنی اپنی بنیادی روایات کا احترام کرتے ہوئے جدید ترقی کی جانب آگے بڑھ رہے ہیں۔








