پریزیڈنسی جیل میں آفتاب انصاری کی سیل سے تین موبائل فون اور 31 ہزار روپے برآمد

کولکاتا کی پریزیڈنسی سینٹرل جیل میں عمر قید کی سزا کاٹ رہے آفتاب انصاری کی سیل سے تین موبائل فون، راؤٹر، وائی فائی آلات اور 31 ہزار روپے نقد برآمد ہوئے ہیں۔ ہیسٹنگز تھانے میں شکایت درج ہونے کے بعد پولیس نے تحقیقات شروع کردی ہیں۔
پریزیڈنسی جیل میں آفتاب انصاری کی سیل سے تین موبائل فون اور 31 ہزار روپے برآمد
Photo Credit / Attribution: Google

کولکاتا کی پریزیڈنسی سینٹرل جیل میں عمر قید کی سزا کاٹ رہے آفتاب احمد انصاری کی سیل سے تین موبائل فون، راؤٹر، وائی فائی سے متعلق آلات، پین ڈرائیو، ایئر فون اور 31 ہزار روپے نقد برآمد ہوئے ہیں۔ واقعے کے سلسلے میں ہیسٹنگز تھانے میں شکایت درج کی گئی ہے اور پولیس نے تحقیقات شروع کردی ہیں۔

جیل کے خفیہ نظام کو اطلاع ملی تھی کہ عمر قید کی سزا کاٹ رہا آفتاب انصاری جیل کے اندر موبائل فون اور انٹرنیٹ استعمال کر رہا ہے۔ اطلاع ملنے کے بعد جیل حکام نے اس کی سیل کی تلاشی لی۔ تلاشی کے دوران کئی الیکٹرانک آلات برآمد ہوئے۔ برآمد شدہ سامان میں تین موبائل فون شامل ہیں، جن میں سے ایک آئی فون بتایا گیا ہے۔

تلاشی کے دوران دو راؤٹر اور وائی فائی سے متعلق آلات بھی ملے۔ اس کے علاوہ دو کارڈ ریڈر، ایک پین ڈرائیو اور ایئر فون برآمد کیے گئے۔ سیل سے 500 روپے کے نوٹوں میں رکھے گئے مجموعی طور پر 31 ہزار روپے نقد بھی ملے۔

پولیس اب اس بات کی تحقیقات کر رہی ہے کہ جیل کی سخت سکیورٹی کے باوجود موبائل فون اور انٹرنیٹ سے متعلق آلات آفتاب انصاری تک کیسے پہنچے۔ تحقیقات کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ آیا ان سامان کو جیل کے اندر پہنچانے میں کسی بیرونی شخص یا جیل ملازم کا کردار تھا۔ اس سمت میں بھی پوچھ گچھ اور تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

جیل انتظامیہ کی شکایت کی بنیاد پر پولیس نے معاملے کو تحقیقات میں شامل کر لیا ہے۔ برآمد شدہ موبائل فون اور دیگر الیکٹرانک آلات کی تکنیکی جانچ کی جا سکتی ہے۔ اس سے یہ معلوم کرنے میں مدد مل سکتی ہے کہ فون کب کب استعمال کیے گئے، کن نمبروں سے رابطہ کیا گیا اور انٹرنیٹ کے ذریعے کن لوگوں سے بات چیت کی گئی۔

تحقیقاتی ایجنسیاں اس بات پر بھی نظر رکھے ہوئے ہیں کہ جیل میں رہتے ہوئے آفتاب کن لوگوں کے رابطے میں تھا۔ رپورٹ کے مطابق پولیس کو شبہ ہے کہ موبائل فون کے ذریعے واٹس ایپ اور ٹیلی گرام جیسے پیغام رسانی کے پلیٹ فارم استعمال کیے گئے ہوں گے۔ تاہم، ان ذرائع سے حقیقت میں کس سے اور کس مقصد کے لیے بات چیت ہوئی، اس کا پتہ تکنیکی تحقیقات کے بعد ہی چلے گا۔

پولیس یہ بھی تحقیقات کر رہی ہے کہ کیا جیل میں رہتے ہوئے آفتاب نے بیرون ملک کسی شخص سے رابطہ کرنے کی کوشش کی تھی۔ خاص طور پر پاکستان سے کسی طرح کے رابطے کے امکان کی بھی جانچ کی جا رہی ہے۔ فی الحال اسے تحقیقات کا حصہ سمجھا جا رہا ہے اور کسی نتیجے پر پہنچنے سے پہلے موبائل اور انٹرنیٹ سرگرمیوں کی مکمل معلومات سامنے آنا ضروری ہے۔

اس واقعے نے جیل کے اندر سکیورٹی انتظامات سے متعلق پرانے سوالات بھی دوبارہ اٹھا دیے ہیں۔ جیل میں قیدیوں تک موبائل فون پہنچنا سکیورٹی کے لحاظ سے ایک سنجیدہ معاملہ سمجھا جاتا ہے۔ خاص طور پر ایسے قیدی کی سیل سے موبائل فون اور انٹرنیٹ آلات ملنے کے بعد معاملہ مزید حساس ہو گیا ہے جو سنگین دہشت گردانہ سرگرمیوں سے متعلق مقدمے میں عمر قید کی سزا کاٹ رہا ہے۔

تحقیقات میں یہ بھی معلوم کرنے کی کوشش کی جائے گی کہ برآمد شدہ 31 ہزار روپے جیل کے اندر آفتاب تک کیسے پہنچے۔ جیل میں نقد رقم رکھنا بھی سکیورٹی انتظامات اور قواعد سے متعلق اہم سوال ہے۔ پولیس اور جیل انتظامیہ یہ معلوم کرنے کی کوشش کر رہی ہے کہ رقم کس ذریعے سے آئی اور اسے کس مقصد کے لیے استعمال کیا جانا تھا۔

پریزیڈنسی جیل میں اس سے پہلے بھی قیدیوں کے پاس سے موبائل فون ملنے کے معاملے پر سوالات اٹھتے رہے ہیں۔ حالیہ عرصے میں جیل کی سکیورٹی اور قیدیوں تک موبائل فون پہنچنے کے معاملات پر انتظامی سطح پر کارروائی کی بات سامنے آئی تھی۔ اس کے باوجود ایک ہائی پروفائل قیدی کی سیل سے اسمارٹ فون اور انٹرنیٹ آلات برآمد ہونا انتظامیہ کے سامنے ایک نیا چیلنج ہے۔

آفتاب انصاری کا نام کولکاتا کے امریکن سینٹر پر 2002 میں ہوئے دہشت گرد حملے کے مقدمے سے منسلک رہا ہے۔ اسے اس معاملے میں مجرم قرار دیا جا چکا ہے اور وہ عمر قید کی سزا کاٹ رہا ہے۔ ایسے میں اس کی سیل سے مواصلاتی آلات کی برآمدگی کو عام جیل خلاف ورزی کے ساتھ ساتھ سکیورٹی کے ایک اہم پہلو کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔

اب تحقیقاتی ایجنسیوں کے سامنے سب سے اہم سوال یہ ہے کہ برآمد شدہ فون اور راؤٹر کس طرح استعمال کیے جا رہے تھے۔ اگر موبائل فون فعال تھے تو ان کی کال ہسٹری، پیغامات، انٹرنیٹ سرگرمی اور رابطوں کی معلومات تحقیقات کو آگے بڑھانے میں اہم ثابت ہو سکتی ہیں۔ اس کے ساتھ یہ بھی معلوم کیا جا سکتا ہے کہ یہ آلات کتنے عرصے سے اس کے پاس تھے۔

جیل انتظامیہ یہ بھی جانچ سکتی ہے کہ سیل کی معمول کی تلاشی کب ہوئی تھی اور اس سے پہلے وہاں کوئی مشتبہ سرگرمی سامنے آئی تھی یا نہیں۔ اگر موبائل فون اور دیگر آلات طویل عرصے سے سیل میں موجود تھے تو معمول کی سکیورٹی جانچ کے طریقہ کار پر بھی سوال اٹھ سکتے ہیں۔

اس واقعے کے بعد جیل کی سکیورٹی مزید سخت کیے جانے کا امکان ہے۔ قیدیوں کی سیل کی باقاعدہ تلاشی، موبائل نیٹ ورک کی نگرانی اور الیکٹرانک آلات کی غیر قانونی رسائی روکنے کے لیے اضافی اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔ خاص طور پر حساس قیدیوں سے متعلق سکیورٹی انتظامات کا جائزہ لینا اہم ہوگا۔

فی الحال پولیس اور جیل انتظامیہ برآمد شدہ سامان کی جانچ کر رہے ہیں۔ تین موبائل فون، راؤٹر، وائی فائی آلات، پین ڈرائیو، کارڈ ریڈر، ایئر فون اور 31 ہزار روپے کی برآمدگی کے بعد تحقیقات کا دائرہ وسیع ہو گیا ہے۔ اب تحقیقات سے یہ واضح ہونے کی توقع ہے کہ یہ سامان آفتاب تک کیسے پہنچا اور جیل کے اندر اسے کس مقصد کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا۔

Leave a comment