ملک بھر میں آج 5 ستمبر کو یومِ اساتذہ منایا جا رہا ہے۔ اس موقع پر وزیر اعظم نریندر مودی نے نیشنل ٹیچرز ایوارڈ حاصل کرنے والے اساتذہ سے گفتگو کی اور بچوں کے بہتر مستقبل کی تعمیر کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا۔
ہر بچے میں الگ صلاحیت موجود ہوتی ہے
اساتذہ سے گفتگو کے دوران وزیر اعظم مودی نے کہا کہ ممکن ہے کوئی بچہ پڑھائی میں بہت اچھی کارکردگی کا مظاہرہ نہ کر سکے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ اس میں کوئی صلاحیت نہیں ہے۔ ان کے مطابق، خدا نے ہر انسان کو کسی نہ کسی خصوصی صلاحیت کے ساتھ پیدا کیا ہے۔ وزیر اعظم نے اساتذہ سے سوال کیا کہ کیا وہ طلبہ کے اندر چھپی صلاحیتوں کو پہچاننے کے لیے الگ سے کوشش کرتے ہیں۔
اساتذہ نے بتایا کہ کلاس میں موجود ہر بچہ مختلف ہوتا ہے۔ کسی میں خصوصی صلاحیت ہوتی ہے، جبکہ کسی کے سامنے مختلف نوعیت کے چیلنجز ہوتے ہیں۔ ان خوبیوں اور صلاحیتوں کو پہچان کر بچوں کو آگے بڑھنے کا موقع فراہم کرنا استاد کی ذمہ داری ہے۔
وزیر اعظم نے اس سوچ کو نظامِ تعلیم کے لیے اہم قرار دیا اور کہا کہ استاد صرف سبق پڑھانے والا شخص نہیں، بلکہ بچوں کی صلاحیتوں کو سمت دینے والا رہنما بھی ہے۔
بریسٹ کینسر سے متعلق آگاہی پر بھی گفتگو
گفتگو کے دوران ایک خاتون استاد نے وزیر اعظم مودی کو اپنی تحقیق کے بارے میں بتایا۔ انہوں نے کہا کہ ان کی تحقیق کا موضوع بریسٹ کینسر رہا ہے۔ ان کے مطابق آج بھی بہت سی خواتین اس موضوع پر کھل کر بات کرنے میں ہچکچاتی ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ ان کی کوشش خواتین میں آگاہی پیدا کرنے اور انہیں یہ سمجھانے پر مرکوز ہے کہ کن حالات میں ڈاکٹر سے مشورہ لینا ضروری ہو سکتا ہے۔
اس پر وزیر اعظم مودی نے کاشی میں چلائی گئی اپنی بریسٹ کینسر آگاہی مہم کا ذکر کیا۔ انہوں نے بتایا کہ اب خواتین پہلے کے مقابلے میں زیادہ تعداد میں آگے آ کر صحت کا معائنہ کرا رہی ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایک ہی دن بڑی تعداد میں لوگوں کے صحت کے معائنے سے متعلق گنیز ورلڈ ریکارڈ بھی درج کیا گیا ہے۔
بچوں میں بڑھ رہا ہے اسکرین ٹائم
وزیر اعظم مودی نے بچوں کے درمیان بڑھتے ہوئے اسکرین ٹائم کو بھی ایک چیلنج قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اسکرین کا ضرورت سے زیادہ استعمال آہستہ آہستہ ایک عادت یا لت کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔
انہوں نے بچوں کو کھیل کود اور دیگر تخلیقی سرگرمیوں سے جوڑنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے تجویز دی کہ اگر بچے میدان میں جا کر کھیلنا شروع کریں اور جسمانی سرگرمیوں میں ان کی دلچسپی بڑھے تو وہ آہستہ آہستہ ضرورت سے زیادہ اسکرین کے استعمال سے باہر آ سکتے ہیں۔
وزیر اعظم مودی نے اساتذہ اور تعلیمی شعبے پر زور دیا کہ بچوں کو تخلیقی کاموں سے جوڑنے والے پروگراموں کو باقاعدہ سرگرمیوں کا حصہ بنایا جائے۔
’بچپن کو مرنے نہیں دینا چاہیے‘
گفتگو کے اختتام پر وزیر اعظم نریندر مودی نے تعلیمی شعبے کے لیے ایک وسیع پیغام دیا۔ انہوں نے کہا کہ اساتذہ کو صرف کتابوں اور نصاب تک محدود نہیں رہنا چاہیے۔ بچوں کو سمجھنے کے لیے ان کی حقیقی زندگی، دلچسپیوں، جذبات اور صلاحیتوں سے جڑنا ضروری ہے۔
وزیر اعظم مودی نے کہا، ’’بچپن کو مرنے نہیں دینا چاہیے۔‘‘
ان کے مطابق، بچوں کے اندر موجود تجسس، تخیل اور فطری پن کو برقرار رکھنے میں استاد کا اہم کردار ہو سکتا ہے۔ انہوں نے اساتذہ سے کہا کہ استاد کا اپنا بچپن بھی زندہ رہنا چاہیے، کیونکہ یہی احساس انہیں بچوں کو بہتر طور پر سمجھنے اور ان کی تخلیقی صلاحیتوں کی حوصلہ افزائی کرنے میں مدد دے گا۔




