پنجاب میں بجلی کی طلب 15,500 میگاواٹ سے تجاوز کر گئی، تھرمل پلانٹس کے 6 یونٹس بند

پنجاب میں بجلی کی طلب 15,500 میگاواٹ سے تجاوز کر گئی ہے۔ تھرمل پلانٹس کے 6 یونٹس بند ہونے سے پیداوار متاثر ہوئی ہے اور کئی علاقوں میں 4 سے 5 گھنٹے تک بجلی کی کٹوتی ہو رہی ہے۔

پنجاب میں بجلی کی طلب 15,500 میگاواٹ سے تجاوز کر گئی ہے۔ تھرمل پلانٹس کے 6 یونٹس بند ہونے کے باعث بجلی کی پیداوار متاثر ہوئی ہے اور طلب پوری کرنے کے لیے پاورکوم مہنگی بجلی خرید رہا ہے۔ اس کا اثر بجلی کی فراہمی پر بھی پڑا ہے اور کئی علاقوں میں 4 سے 5 گھنٹے تک بجلی کی کٹوتی ہو رہی ہے۔

تھرمل پلانٹس کے 6 یونٹس بند

ریاست کے مختلف تھرمل پلانٹس کے 6 یونٹس بند ہونے سے بجلی کی پیداواری صلاحیت متاثر ہوئی ہے۔ دوسری جانب بجلی کی طلب مسلسل بڑھ رہی ہے۔ ایسے میں بجلی کی فراہمی برقرار رکھنے کے لیے پاورکوم کو باہر سے بجلی خریدنے پر انحصار کرنا پڑ رہا ہے۔

بجلی کی دستیابی کم اور طلب زیادہ ہونے کے باعث فراہمی کو متوازن رکھنا پاورکوم کے لیے چیلنج بن گیا ہے۔ باہر سے بجلی خریدنے کے لیے زیادہ قیمت ادا کرنا پڑ رہی ہے۔

کئی علاقوں میں 4 سے 5 گھنٹے تک بجلی کی کٹوتی

بجلی کی صورتحال کا اثر عام صارفین کے ساتھ صنعتی علاقوں پر بھی پڑا ہے۔ کئی علاقوں میں 4 سے 5 گھنٹے تک بجلی کی کٹوتی ہو رہی ہے۔ طویل وقت تک بجلی دستیاب نہ ہونے کے باعث لوگوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔

صنعتی یونٹس کے لیے مسلسل بجلی کی فراہمی ضروری ہوتی ہے۔ ایسی صورتحال میں بار بار یا طویل وقت تک ہونے والی بجلی کی کٹوتی سے پیداوار اور کام کاج متاثر ہونے کا امکان ہے۔

پاورکوم مہنگی بجلی خرید رہا ہے

بڑھتی ہوئی طلب پوری کرنے کے لیے پاورکوم کو مہنگی شرحوں پر بجلی خریدنی پڑ رہی ہے۔ تھرمل پلانٹس کے 6 یونٹس بند ہونے اور ریاست میں بجلی کی طلب زیادہ ہونے کے درمیان بیرونی بجلی پر انحصار بڑھ گیا ہے۔

فی الحال بجلی کی پیداوار اور فراہمی کی صورتحال پر نظر رکھی جا رہی ہے۔ بند یونٹس دوبارہ شروع ہونے اور بجلی کی دستیابی بڑھنے سے فراہمی کے نظام میں بہتری کی توقع ہے۔

Leave a comment