رادھیکا آپٹے نے فلموں کی شوٹنگ کے دوران طویل اوقات تک کام کرنے اور ہندی فلموں میں بڑھتے ہوئے تشدد کے مناظر پر اپنی رائے کا اظہار کیا ہے۔ ماں بننے کے بعد وہ اب 16 گھنٹے کی شفٹ میں کام نہیں کرنا چاہتیں۔ ان کی خواہش ہے کہ شوٹنگ کا کام کا دن 12 گھنٹے کے اندر ختم ہو جائے۔ وہ اپنی چھوٹی بیٹی کے ساتھ بھی زیادہ وقت گزارنا چاہتی ہیں۔
اپنی نئی نیٹ فلکس سیریز ‘اکّا’ کی ریلیز سے قبل پی ٹی آئی کو دیے گئے انٹرویو میں رادھیکا آپٹے نے یہ باتیں کہیں۔ اس دوران انہوں نے یہ بھی بتایا کہ وہ ان دنوں فلموں کا انتخاب کرتے وقت کن باتوں کو مدنظر رکھتی ہیں۔
ماں بننے کے بعد کام کے اوقات میں تبدیلی
رادھیکا آپٹے نے بتایا کہ بیٹی کی پیدائش کے بعد ان کے روزمرہ معمول میں تبدیلی آئی ہے۔ پہلے وہ کام کے لیے زیادہ وقت دے سکتی تھیں، لیکن اب ایسا کرنا ممکن نہیں ہے۔ ان کی خواہش ہے کہ شوٹنگ کا پورا دن 12 گھنٹے کے اندر مکمل ہو جائے۔
ان کے مطابق، کئی مرتبہ فلم کے سیٹ پر 16 گھنٹے تک کام کرنا پڑتا ہے اور شوٹنگ کے دوران چھٹی یا وقفہ ملنا بھی آسان نہیں ہوتا۔
اداکارہ نے کہا کہ وہ اپنی بیٹی کے ساتھ زیادہ سے زیادہ وقت گزارنا چاہتی ہیں۔ ان کی بیٹی ابھی بہت چھوٹی ہے اور اس عمر میں اس کے ساتھ رہنا ان کے لیے ضروری ہے۔
رادھیکا نے یہ بھی بتایا کہ ہر پروجیکٹ میں ان کی شرائط تسلیم کر لی جائیں، ایسا نہیں ہوتا۔ کئی مرتبہ طویل اوقات تک کام کرنے سے انکار کرنے پر اختلاف بھی ہو جاتا ہے۔
سفر، میک اپ اور ہیئر اسٹائلنگ بھی وقت کا حصہ
رادھیکا آپٹے اس سے قبل بھی فلم انڈسٹری میں کام کے اوقات پر اپنی ناراضی ظاہر کر چکی ہیں۔ جنوری 2026 میں انہوں نے کہا تھا کہ 12 گھنٹے کی شفٹ میں صرف کیمرے کے سامنے گزارا گیا وقت ہی شمار نہیں کیا جانا چاہیے۔
ان کے مطابق، گھر سے سیٹ تک پہنچنے، میک اپ، ہیئر اسٹائلنگ اور شوٹنگ ختم ہونے کے بعد گھر واپس جانے میں بھی کافی وقت لگتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر کسی فنکار کو سیٹ تک پہنچنے میں دو گھنٹے لگتے ہیں تو شوٹنگ کا شیڈول اسی حساب سے بنایا جانا چاہیے۔
رادھیکا ہفتے میں باقاعدہ چھٹی بھی چاہتی ہیں۔ ان کے مطابق مسلسل کئی دن کام کرنے سے خاندان کے ساتھ وقت گزارنا مشکل ہو جاتا ہے۔ تاہم انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ بعض فلموں کی ضروریات کے مطابق کبھی کبھار تبدیلی کرنا پڑ سکتی ہے۔
بیٹی کی پیدائش کے بعد کام کے بارے میں سوچ بدلی
رادھیکا آپٹے نے 2024 میں بیٹی کو جنم دیا تھا۔ ان کے شوہر بینیڈکٹ ٹیلر برطانیہ کے موسیقار اور وائلن نواز ہیں۔ ماں بننے کے بعد رادھیکا نے اپنے کام کرنے کے طریقے میں تبدیلی کی ہے۔ اب وہ ہر پیشکش کو فوراً قبول کرنے کی جلدی میں نہیں رہتیں۔
انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ اداکاری ان کی زندگی کا ایک اہم حصہ ہے، لیکن پوری زندگی نہیں۔ فی الحال بیٹی کے ساتھ وقت گزارنا ان کی ترجیحات میں شامل ہے۔ اس کے لیے اگر کچھ عرصے کے لیے کام سے دور رہنا پڑے تو بھی انہیں کوئی مسئلہ نہیں ہے۔
رادھیکا نے یہ بھی بتایا کہ وہ کچھ عرصے تک لکھنے پر توجہ دینا چاہتی تھیں۔ تاہم بیٹی کی دیکھ بھال کے درمیان لکھنے کے لیے وقت نکالنا آسان نہیں رہا۔ کئی مرتبہ وہ کمپیوٹر پر لکھنے بیٹھتی ہیں، لیکن تھکن کی وجہ سے کام آگے نہیں بڑھ پاتا۔
فلموں میں دکھائے جانے والے تشدد پر سوال
کام کے اوقات کے علاوہ رادھیکا نے ہندی فلموں میں بڑھتے ہوئے تشدد پر بھی کھل کر بات کی۔ ان کے مطابق، ان دنوں سنیما گھروں میں ایسی فلمیں اچھا کاروبار کر رہی ہیں جن میں مار دھاڑ اور تشدد کے مناظر کافی زیادہ ہوتے ہیں۔ تاہم وہ خود ایسی فلمیں دیکھنا پسند نہیں کرتیں۔
رادھیکا نے سوال اٹھایا کہ لوگ آرام سے پاپ کارن کھاتے ہوئے پردے پر لوگوں کو بے رحمی سے پیٹے جانے کے مناظر کیسے دیکھ لیتے ہیں۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ کئی فلموں میں تشدد دکھانے کے لیے بار بار نئے اور زیادہ سفاک طریقے اختیار کیے جاتے ہیں۔
کسی کا سر پھوڑنا یا بڑی تعداد میں لوگوں کی پٹائی کو تفریح کے طور پر پیش کرنا انہیں سمجھ نہیں آتا۔
اداکارہ نے واضح کیا کہ وہ صرف فلموں میں موجودہ رجحان کو دیکھتے ہوئے ایسی کہانیوں کا حصہ نہیں بننا چاہتیں۔
پرتشدد فلموں سے دور رہنے کی وجہ
رادھیکا آپٹے کا کہنا ہے کہ اس وقت باکس آفس پر کس طرح کی فلمیں چل رہی ہیں، اس کا اثر فنکاروں کو ملنے والے کام پر بھی پڑتا ہے۔ ان کے مطابق، جب پروڈیوسر ایک خاص قسم کی فلموں کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں تو مختلف موضوعات پر بننے والی کہانیوں کے مواقع محدود ہو سکتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ تشدد سے بھری فلمیں انہیں اپنی طرف متوجہ نہیں کرتیں۔ وہ ایسی کہانیوں میں کام کرنے سے گریز کرنا چاہتی ہیں جن میں سفاکیت کو ناظرین کی تفریح کا بنیادی ذریعہ بنایا جاتا ہے۔
رادھیکا اس سے قبل سنجیدہ سماجی موضوعات سے لے کر تھرلر اور کامیڈی تک مختلف قسم کی فلموں میں کام کر چکی ہیں۔ اب وہ اپنے کام کے انتخاب میں ذاتی پسند کے ساتھ خاندان کی ضروریات کو بھی اہمیت دے رہی ہیں۔
عالیہ اور دیپیکا کے حوالے سے بھی بات
رادھیکا نے فلم انڈسٹری میں اداکاراؤں کی باکس آفس پوزیشن پر بھی بات کی۔ ان کا کہنا ہے کہ آج سنیما گھروں میں کسی خاتون فنکار کو مرکزی کردار میں رکھنے والی فلم کو بڑی اوپننگ دلانا آسان نہیں ہے۔ انہوں نے عالیہ بھٹ اور دیپیکا پڈوکون کی مثال دی۔
رادھیکا کے مطابق، عالیہ اور دیپیکا جیسی اداکاراؤں کے نام پر پروڈیوسر ٹکٹوں کی فروخت کی امید کر سکتے ہیں، لیکن دیگر فنکاروں کے لیے صورتحال مختلف ہے۔
انہوں نے کہا کہ کسی خاتون اداکارہ کے مرکزی کردار والی فلم اچھی ہونے کے باوجود سنیما گھروں میں کافی ناظرین جمع نہ کر پائے، ایسا ممکن ہے۔
اسی وجہ سے بعض اوقات انہیں ایسی فلموں میں کام کرنا پڑتا ہے جن میں مرد اداکار کا کردار زیادہ اہم ہوتا ہے۔ تاہم رادھیکا نے واضح کیا کہ وہ کسی پروجیکٹ کا انتخاب صرف اس بنیاد پر نہیں کرتیں کہ وہ سنیما گھروں میں ریلیز ہوگا یا او ٹی ٹی پر۔
دیپیکا پڈوکون کے آٹھ گھنٹے کی شفٹ کے مطالبے پر تنازع
بالی ووڈ میں فنکاروں کے کام کے اوقات طے کرنے کی بحث گزشتہ سال دیپیکا پڈوکون کے مطالبے کی وجہ سے بھی سامنے آئی تھی۔ دیپیکا نے شوٹنگ کے لیے آٹھ گھنٹے کی شفٹ کی بات کی تھی۔ اس کے بعد فلم انڈسٹری میں اس مطالبے پر مختلف ردعمل سامنے آئے تھے۔
سندیپ ریڈی وانگا کی فلم ‘اسپرٹ’ سے دیپیکا کے الگ ہونے کے بعد بھی یہ معاملہ زیر بحث آیا تھا۔ میڈیا رپورٹس میں ان کے کام کے اوقات اور دیگر پیشہ ورانہ اختلافات کو اس کی ممکنہ وجہ بتایا گیا تھا۔ تاہم تنازع سے متعلق تمام شرائط کی باضابطہ تصدیق نہیں ہوئی تھی۔
بعد میں دیپیکا نے کہا تھا کہ کام کے مقررہ اوقات کا مطالبہ کرنا غلط نہیں ہے۔ اب رادھیکا آپٹے نے بھی اپنے تجربات سامنے رکھے ہیں۔ تاہم دونوں اداکاراؤں کے مطالبات مختلف ہیں۔ دیپیکا نے آٹھ گھنٹے کی شفٹ کی حمایت کی تھی، جبکہ رادھیکا اپنے کام کا دن 12 گھنٹے کے اندر مکمل کرنا چاہتی ہیں۔
‘اکّا’ 30 اکتوبر کو نیٹ فلکس پر ریلیز ہوگی
رادھیکا آپٹے ان دنوں اپنی نئی ویب سیریز ‘اکّا’ سے وابستہ ہیں۔ اس سیریز میں اداکارہ کیرتی سریش بھی مرکزی کردار ادا کر رہی ہیں۔ نیٹ فلکس نے اس کی ریلیز 30 اکتوبر 2026 کو مقرر کی ہے۔ سیریز کا ٹریلر بھی جاری ہو چکا ہے۔
‘اکّا’ کی کہانی 1980 کی دہائی میں جنوبی ہندوستان کے ایک خیالی شہر پیرنور میں دکھائی گئی ہے۔ یہاں کئی نسلوں سے خواتین کا غلبہ رہا ہے۔ کہانی میں اقتدار، خاندان، انتقام اور دو طاقتور خواتین کے درمیان ٹکراؤ دکھایا جائے گا۔
کیرتی سریش بھوانی کا کردار ادا کر رہی ہیں، جبکہ رادھیکا آپٹے رودرا کے کردار میں نظر آئیں گی۔ دونوں کرداروں کے اپنے مقاصد ہیں اور ان کے درمیان اختلافات کہانی کو آگے بڑھاتے ہیں۔
‘اکّا’ کی کاسٹ اور تخلیقی ٹیم
نیٹ فلکس اور YRF Entertainment کی اس سیریز کی تحریر اور ہدایت کاری دھرم راج شیٹی نے کی ہے۔ یہ ان کا پہلا ہدایت کاری پروجیکٹ ہے۔
رادھیکا آپٹے اور کیرتی سریش کے علاوہ تنوی اعظمی، مہیش مانجریکر، انشومان پشکر اور مونیکا پنوار بھی اہم کرداروں میں ہیں۔
پروڈیوسرز کے مطابق، کہانی میں خواتین کی قیادت والی ایک دنیا دکھائی گئی ہے جہاں اقتدار پر گرفت برقرار رکھنے کے لیے مختلف گروہوں کے درمیان تنازع جاری رہتا ہے۔ ایک بیرونی شخص کے آنے کے بعد پرانے تعلقات اور اقتدار کا توازن بگڑنے لگتا ہے۔
اس گینگسٹر ڈرامے میں بھی تنازع اور تشدد کا پس منظر ہے۔ تاہم اپنے انٹرویو میں رادھیکا نے ضرورت سے زیادہ سفاکیت کے بارے میں جو اعتراض ظاہر کیا ہے، اسے اس سیریز کے حوالے سے دیا گیا کوئی مخصوص بیان نہیں سمجھا جانا چاہیے۔
کام اور خاندان دونوں کے لیے وقت چاہتی ہیں
رادھیکا آپٹے نے ‘اندھادھن’، ‘بدلاپور’، ‘پارچڈ’، ‘پیڈ مین’ اور ‘مانجھی: دی ماؤنٹین مین’ جیسی فلموں میں کام کیا ہے۔ او ٹی ٹی پر ‘سیکرڈ گیمز’ اور ‘گھول’ جیسی سیریز میں بھی وہ نظر آ چکی ہیں۔
تقریباً دو دہائیوں پر محیط اداکاری کے کیریئر کے بعد رادھیکا آپٹے اب اپنے کام کے لیے کچھ مختلف حدود مقرر کر رہی ہیں۔ وہ پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کے ساتھ خاندان کے لیے بھی وقت نکالنا چاہتی ہیں۔








