راجستھان حکومت نے شدید گرمی اور ہیٹ ویو کی صورتحال کے پیش نظر اسکولوں کی گرمیوں کی تعطیلات میں 28 جون 2026 تک توسیع کر دی ہے۔ اس سے قبل تعطیلات 20 جون تک مقرر تھیں، تاہم بڑھتے ہوئے درجۂ حرارت کے باعث انہیں مزید ایک ہفتے کے لیے بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
محکمۂ تعلیم کے مطابق اب ریاست کے تمام اسکول 28 جون 2026 تک بند رہیں گے۔ اس فیصلے سے لاکھوں طلبہ، اساتذہ اور والدین کو راحت ملنے کی توقع ہے۔
راجستھان میں اس وقت شدید گرمی کی لہر جاری ہے۔ متعدد اضلاع میں درجۂ حرارت 45 ڈگری سیلسیس سے تجاوز کر چکا ہے، جس کے باعث معمولاتِ زندگی متاثر ہو رہے ہیں۔ ان حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے ریاستی حکومت نے اسکولوں کی گرمیوں کی تعطیلات میں مزید ایک ہفتے کی توسیع کا فیصلہ کیا ہے۔
اس سے پہلے اسکولوں میں موسمِ گرما کی تعطیلات 17 مئی سے 20 جون تک مقرر تھیں، لیکن موسمی صورتحال کی سنگینی کے پیش نظر انہیں 28 جون تک بڑھا دیا گیا ہے۔ اس فیصلے کے بعد رواں سال گرمیوں کی تعطیلات 35 دن سے بڑھ کر مجموعی طور پر 42 دن کی ہو گئی ہیں۔
محکمۂ موسمیات کے اعداد و شمار کے مطابق راجستھان کے کئی علاقے اس وقت ملک کے گرم ترین خطوں میں شامل ہیں۔ جیسلمیر میں زیادہ سے زیادہ درجۂ حرارت 46.4 ڈگری سیلسیس ریکارڈ کیا گیا، جبکہ باڑمیر میں 46 ڈگری، کوٹا میں 45.7 ڈگری اور چورو میں 45.3 ڈگری سیلسیس درجۂ حرارت درج کیا گیا۔
مسلسل ہیٹ ویو اور شدید گرمی کے باعث بچوں کی صحت پر منفی اثرات پڑنے کے خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔ اسی وجہ سے محکمۂ تعلیم نے فی الحال اسکولوں کو بند رکھنا محفوظ متبادل قرار دیا ہے۔
ریاستی حکومت نے اسکول انتظامیہ کو بعض اضافی اختیارات بھی فراہم کیے ہیں۔ نئی انتظامی ہدایات کے تحت اسکولوں کے پرنسپل مقامی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے دو دن تک کی اضافی تعطیل کی منظوری دے سکیں گے۔
اس سے قبل انہیں صرف ایک دن کی تعطیل منظور کرنے کا اختیار حاصل تھا۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس تبدیلی سے مقامی سطح پر موسمی اور دیگر حالات کے مطابق فوری فیصلے لینا آسان ہو جائے گا۔
اس سے پہلے ریاستی حکومت گرمیوں کی تعطیلات کم کرنے پر غور کر رہی تھی۔ محکمۂ تعلیم کا مقصد تدریسی دنوں کی تعداد میں اضافہ کر کے تعلیم کے معیار کو بہتر بنانا تھا۔ اس منصوبے کے تحت اسکولوں کو 21 جون سے قبل کھولنے اور بین الاقوامی یومِ یوگا کی تقریبات میں طلبہ کی شرکت یقینی بنانے کی تجویز دی گئی تھی۔
تاہم اساتذہ تنظیموں نے بڑھتی ہوئی گرمی اور ہیٹ ویو کا حوالہ دیتے ہوئے اس تجویز کی مخالفت کی تھی۔ ان کا مؤقف تھا کہ موجودہ موسمی حالات میں طلبہ اور اساتذہ کو اسکول بلانا صحت کے لیے خطرناک ہو سکتا ہے۔
حکومت کے تازہ فیصلے کے بعد ریاست بھر کے لاکھوں طلبہ اور ان کے والدین کو راحت ملی ہے۔ ماہرین کا بھی ماننا ہے کہ موجودہ موسمی حالات میں بچوں کو گھروں میں محفوظ رکھنا زیادہ مناسب ہے۔
اب موسمی حالات میں بہتری اور درجۂ حرارت میں کمی کے بعد ہی اسکولوں کے دوبارہ کھلنے کا امکان ہے۔ فی الحال محکمۂ تعلیم موسمی صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے۔





