چیک باؤنس کیس میں اداکار راج پال یادو کو سپریم کورٹ سے راحت ملی ہے۔ عدالت نے معاملے کا حل نکالنے کے لیے دونوں فریقوں کو ثالثی کا راستہ اختیار کرنے کی ہدایت دی ہے۔
ثالثی کے ذریعے تنازع حل کرنے کی ہدایت
بالی ووڈ اداکار راج پال یادو کو چیک باؤنس کیس میں سپریم کورٹ سے راحت ملی ہے۔ اداکار کی جانب سے عدالت کی رجسٹری میں 2 کروڑ روپے جمع کرائے جانے کی اطلاع ملنے کے بعد سپریم کورٹ نے معاملے کو ثالثی کے ذریعے حل کرنے کی ہدایت دی۔ عدالت نے دونوں فریقوں کو مقرر کیے جانے والے ثالث کے سامنے پیش ہونے اور اپنا اپنا موقف رکھنے کو کہا ہے۔
اس کے ساتھ ہی راج پال یادو کا پاسپورٹ مناسب شرائط کے ساتھ جاری کرنے کے لیے متعلقہ ٹرائل کورٹ کو ہدایت دی گئی ہے۔ یہ معاملہ فلم کی تیاری کے لیے لیے گئے قرض اور اس کی ادائیگی سے متعلق تنازع سے جڑا ہوا ہے۔
سپریم کورٹ میں سماعت کے دوران کیا ہوا
چیف جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس جوئے مالیا باگچی پر مشتمل بنچ کے سامنے راج پال یادو کے وکیل نے بتایا کہ اداکار نے سپریم کورٹ کے گزشتہ حکم کے مطابق 2 کروڑ روپے جمع کرا دیے ہیں۔ دستیاب معلومات کے مطابق، اس رقم میں سے 1.15 کروڑ روپے ڈیمانڈ ڈرافٹ کے ذریعے اور 85 لاکھ روپے ریئل ٹائم گراس سیٹلمنٹ (RTGS) کے ذریعے جمع کرائے گئے۔
عدالت نے رقم جمع کیے جانے پر اطمینان کا اظہار کیا اور دونوں فریقوں کو باہمی رضامندی سے تنازع حل کرنے کا موقع دینے کا فیصلہ کیا۔ اس کے لیے ایک ثالث مقرر کیا جائے گا، جس کے سامنے اداکار اور شکایت کنندہ کمپنی اپنا اپنا موقف پیش کر سکیں گے۔
مرلی پروجیکٹس کی جانب سے پیش ہونے والے وکیل نے بھی ثالثی کے ذریعے حل کی کارروائی پر رضامندی ظاہر کی۔ اس سے معاملے کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی گنجائش پیدا ہوئی ہے۔ تاہم، ثالثی کا حکم اپنے آپ میں یہ ظاہر نہیں کرتا کہ تنازع کا حتمی تصفیہ ہو چکا ہے۔ آئندہ نتیجہ دونوں فریقوں کے درمیان ہونے والی بات چیت اور طے کی جانے والی شرائط پر منحصر ہوگا۔
راج پال یادو کا پاسپورٹ جاری کرنے کی ہدایت
سماعت کے دوران راج پال یادو کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ اداکار کو اپنے پیشہ ورانہ کام کے سلسلے میں بیرون ملک سفر کرنا پڑ سکتا ہے۔ تاہم، ان کا پاسپورٹ ٹرائل کورٹ کے پاس جمع ہے، جس کی وجہ سے سفر کرنے میں دشواری ہو رہی ہے۔
اس پر سپریم کورٹ نے متعلقہ ٹرائل کورٹ سے کہا کہ وہ مناسب شرائط طے کرکے راج پال یادو کا پاسپورٹ جاری کرنے کے حوالے سے کارروائی کرے۔ اس کا مطلب ہے کہ پاسپورٹ جاری کرنے کا عمل مقررہ شرائط کے تحت ہوگا۔ اسے بغیر کسی شرط کے بیرون ملک سفر کی اجازت کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔
راج پال یادو کے چیک باؤنس کیس کا پس منظر
اس معاملے کی جڑ 2010 میں ہونے والے ایک مالی لین دین سے جڑی ہے۔ دستیاب معلومات کے مطابق، راج پال یادو نے اپنی فلم ‘اتا پتا لاپتا’ کی تیاری کے لیے دہلی کی کمپنی مرلی پروجیکٹس سے تقریباً 5 کروڑ روپے کا قرض لیا تھا۔
قرض کی ادائیگی کے لیے دیے گئے سات چیک باؤنس ہونے کے بعد کمپنی نے قانونی کارروائی شروع کی۔ معاملہ عدالتوں تک پہنچا اور نچلی عدالت کے بعد دہلی ہائی کورٹ نے بھی اداکار کو قصوروار قرار دیا۔
دی گئی معلومات کے مطابق، 10 جولائی 2026 کو دہلی ہائی کورٹ نے چیک باؤنس سے متعلق ہر معاملے میں الگ الگ 1.35 کروڑ روپے جرمانہ ادا کرنے کا حکم دیا تھا۔ اس کے ساتھ تین ماہ کی قید کی سزا بھی سنائی گئی تھی۔ اس فیصلے کو چیلنج کرتے ہوئے راج پال یادو نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا۔







