RBI نے کہا HDFC Bank کی مالی حالت مضبوط گورننس میں کوئی بڑی خرابی نہیں

بھارتی ریزرو بینک نے کہا ہے کہ HDFC Bank کی مالی حالت مضبوط ہے اور گورننس میں کوئی بڑی کمی نہیں پائی گئی۔ چیئرمین کے استعفے کے بعد پیدا ہونے والی مارکیٹ غیر یقینی صورتحال کے دوران بینک کے کیپٹل اور لیکویڈیٹی کو مستحکم قرار دیا گیا ہے۔

حالیہ منفی خبروں کے تناظر میں HDFC Bank کے حوالے سے بھارتی ریزرو بینک (RBI) نے کہا ہے کہ بینک کی مالی حالت مضبوط ہے اور اس کی گورننس یا آپریشنز کے بارے میں کوئی بڑی تشویش موجود نہیں ہے۔ بینک کے پارٹ ٹائم چیئرمین اتنو چکرورتی کے استعفے کے بعد مارکیٹ میں پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال کے درمیان یہ بیان سامنے آیا ہے۔

RBI کے مطابق HDFC Bank ایک Domestic Systemically Important Bank ہے اور اس کی مالی حالت مستحکم ہے۔ مرکزی بینک کے مطابق بینک کا بورڈ پیشہ ورانہ انداز میں کام کر رہا ہے اور مینجمنٹ ٹیم قابل ہے۔

اتنو چکرورتی نے حال ہی میں پارٹ ٹائم چیئرمین اور آزاد ڈائریکٹر کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ انہوں نے اپنے استعفے میں کہا تھا کہ گزشتہ دو سالوں کے دوران بینک کے اندر کچھ واقعات اور کام کرنے کے طریقے ان کی ذاتی اقدار اور اخلاقیات کے مطابق نہیں تھے۔ اس بیان کے بعد مارکیٹ میں بینک کی گورننس کے حوالے سے خدشات بڑھ گئے تھے اور سرمایہ کاروں نے اسے ایک اہم اشارہ سمجھا۔

RBI نے اپنی باقاعدہ جائزہ رپورٹ میں واضح کیا کہ بینک کی گورننس یا آپریشنز میں کوئی بڑی کمی سامنے نہیں آئی ہے۔ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ریگولیٹری سطح پر بینک پر اعتماد برقرار ہے۔

مرکزی بینک کے مطابق HDFC Bank مناسب طور پر کیپٹلائزڈ ہے اور اس کے پاس وافر لیکویڈیٹی موجود ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ بینک اپنی مالی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور اس کی بیلنس شیٹ مضبوط حالت میں ہے۔

اتنو چکرورتی کے استعفے کے بعد بینک کی درخواست پر RBI نے عبوری انتظامات کی منظوری دی ہے۔ اس کے تحت کیکی مستری کو تین ماہ کے لیے پارٹ ٹائم چیئرمین مقرر کیا گیا ہے، جس سے قیادت کا تسلسل برقرار رہے گا۔

عبوری چیئرمین کیکی مستری نے سرمایہ کاروں کو یقین دہانی کرائی کہ بینک کا بورڈ ادارہ جاتی مضبوطی اور گورننس کے معیارات کو برقرار رکھنے کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بینک مضبوط گورننس معیارات، سخت اندرونی کنٹرولز اور تجربہ کار مینجمنٹ ٹیم کے ساتھ کام کر رہا ہے۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ بینک کی حکمت عملی، کاروباری ترجیحات اور عمل درآمد کی صلاحیت بدستور قائم ہے۔

RBI کے بیان سے قبل مارکیٹ میں HDFC Bank کے حصص میں کمی دیکھی گئی۔ ابتدائی ٹریڈنگ میں حصص تقریباً 8.6 فیصد گر کر 770 روپے کی سطح تک پہنچ گئے تھے۔ اس دوران بڑی مقدار میں ٹریڈنگ ہوئی، جہاں کروڑوں حصص کی خرید و فروخت ریکارڈ کی گئی۔ مجموعی مارکیٹ رجحان بھی کمزور تھا جس سے کمی میں مزید اضافہ ہوا۔

گزشتہ ایک ماہ میں یہ حصص تقریباً 8 فیصد گر چکے ہیں اور سال 2026 میں اب تک تقریباً 15 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔

مارکیٹ ماہرین کے مطابق اس کمی کی بنیادی وجہ غیر یقینی صورتحال ہے۔ جب تک بینک کے اندرونی حالات مکمل طور پر واضح نہیں ہوتے، سرمایہ کاروں کے ذہنوں میں سوالات برقرار رہ سکتے ہیں۔ بورڈ اور مینجمنٹ کے درمیان ہم آہنگی سے متعلق اٹھنے والے سوالات بھی حصص پر دباؤ ڈال سکتے ہیں۔

RBI کے بیان سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ بینک پر ریگولیٹری اعتماد برقرار ہے، جس سے مارکیٹ میں کچھ استحکام آنے کی توقع کی جا رہی ہے۔

Leave a comment