آر بی آئی نے ریپو ریٹ 5.25 فیصد پر برقرار رکھا جی ڈی پی نمو کا تخمینہ 6.7 فیصد

آر بی آئی کی مانیٹری پالیسی کمیٹی نے مسلسل تیسری بار ریپو ریٹ 5.25 فیصد پر برقرار رکھا ہے، جبکہ جی ڈی پی نمو کا تخمینہ 6.6 فیصد سے بڑھا کر 6.7 فیصد اور مالی سال 2026-27 کے لیے سی پی آئی مہنگائی کا تخمینہ 5.1 فیصد سے کم کرکے 5 فیصد کردیا گیا ہے۔

ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) نے وسیع تر مارکیٹ توقعات کے مطابق مسلسل تیسری بار اہم پالیسی شرح سود میں کوئی تبدیلی نہیں کی۔ مغربی ایشیا میں جاری جغرافیائی سیاسی کشیدگی، توانائی کی قیمتوں میں غیر یقینی صورتحال اور عالمی سپلائی چین پر ممکنہ اثرات کو مدنظر رکھتے ہوئے مرکزی بینک نے محتاط مؤقف اختیار کیا ہے۔

ریپو ریٹ 5.25 فیصد پر برقرار

ریزرو بینک آف انڈیا کی مانیٹری پالیسی کمیٹی (ایم پی سی) نے اپنے تازہ اجلاس میں اہم پالیسی شرح سود یعنی ریپو ریٹ کو 5.25 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ مسلسل تیسری بار ہے جب مرکزی بینک نے شرح سود میں کوئی تبدیلی نہیں کی۔ آر بی آئی کا یہ فیصلہ مارکیٹ کی توقعات کے مطابق رہا اور اس کا مقصد اقتصادی ترقی اور مہنگائی پر قابو پانے کے درمیان توازن برقرار رکھنا ہے۔

آر بی آئی کے گورنر سنجے ملہوترا نے پالیسی جائزے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی غیر یقینی صورتحال کے باوجود بھارتی معیشت مضبوط پوزیشن میں برقرار ہے۔ انہوں نے کہا کہ گھریلو طلب، خدمات کے شعبے کی مضبوطی اور سرمایہ کاری کی سرگرمیوں کے باعث ملک کی اقتصادی ترقی کو مسلسل حمایت مل رہی ہے۔

ریپو ریٹ برقرار رہنے سے ای ایم آئی میں فوری بڑی تبدیلی کا امکان نہیں

ریپو ریٹ وہ شرح سود ہے جس پر ریزرو بینک آف انڈیا تجارتی بینکوں کو قلیل مدتی قرض فراہم کرتا ہے۔ ریپو ریٹ میں تبدیلی کا براہ راست اثر بینکوں کی قرض لینے کی لاگت اور بعد میں صارفین کی ای ایم آئی پر پڑتا ہے۔

چونکہ آر بی آئی نے ریپو ریٹ کو 5.25 فیصد پر برقرار رکھا ہے، اس لیے موجودہ ہوم لون، آٹو لون اور دیگر فلوٹنگ ریٹ پر مبنی قرضوں کی ای ایم آئی میں فوری طور پر کسی بڑی تبدیلی کا امکان نہیں ہے۔ اس سے لاکھوں قرض لینے والوں کو راحت ملے گی اور ان کی ماہانہ مالی منصوبہ بندی متاثر نہیں ہوگی۔

مانیٹری پالیسی کا مؤقف غیر جانبدار برقرار

مانیٹری پالیسی کمیٹی نے اپنے پالیسی مؤقف کو بھی “غیر جانبدار” برقرار رکھا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ مرکزی بینک مستقبل کے اقتصادی حالات کے مطابق شرح سود میں اضافے یا کمی، دونوں امکانات کو کھلا رکھنا چاہتا ہے۔

آر بی آئی نے بالخصوص مغربی ایشیا میں جاری جغرافیائی سیاسی کشیدگی، عالمی مالیاتی منڈیوں میں اتار چڑھاؤ اور ال نینو سے وابستہ موسمی خطرات کو اہم چیلنجز کے طور پر شناخت کیا ہے۔

مرکزی بینک کے مطابق، ان عوامل کا اثر توانائی کی قیمتوں، عالمی تجارت اور سپلائی چین پر پڑ سکتا ہے، جس سے اقتصادی سرگرمیاں متاثر ہوسکتی ہیں۔

مالی سال 2026-27 کے لیے سی پی آئی مہنگائی کا تخمینہ 5 فیصد

آر بی آئی نے اشارہ دیا ہے کہ قریبی مدت میں غذائی اشیا اور خام تیل کی بلند قیمتوں کے باعث خوردہ مہنگائی پر دباؤ برقرار رہ سکتا ہے۔ تاہم، مرکزی بینک کا خیال ہے کہ مہنگائی میں ممکنہ اضافہ بنیادی طور پر خوراک اور ایندھن سے متعلق ہوگا اور اس کا وسیع اثر محدود رہ سکتا ہے۔

آر بی آئی نے مالی سال 2026-27 کے لیے صارف قیمت اشاریہ (سی پی آئی) پر مبنی مہنگائی کا تخمینہ 5.1 فیصد سے کم کرکے 5 فیصد کردیا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مرکزی بینک کو درمیانی مدت میں قیمتوں میں استحکام برقرار رکھنے کا اعتماد ہے۔

جی ڈی پی نمو کا تخمینہ 6.7 فیصد کردیا گیا

بھارتی معیشت کی کارکردگی کو دیکھتے ہوئے آر بی آئی نے رواں مالی سال کے لیے مجموعی ملکی پیداوار (جی ڈی پی) کی شرح نمو کا تخمینہ 6.6 فیصد سے بڑھا کر 6.7 فیصد کردیا ہے۔ یہ نظرثانی ظاہر کرتی ہے کہ مرکزی بینک کو گھریلو طلب، سرمایہ کاری اور خدمات کے شعبے کی مضبوطی پر اعتماد ہے۔

گورنر سنجے ملہوترا نے بتایا کہ اپریل-جون سہ ماہی کے دوران اقتصادی سرگرمیاں آر بی آئی کے تخمینے سے بہتر رہیں۔ بینکاری نظام میں مناسب لیکویڈیٹی اور مضبوط قرض نمو بھی اقتصادی توسیع کو حمایت فراہم کر رہی ہے۔

Leave a comment