رومیل گلیو نے برمنگھم میں یورپی 100 میٹر ٹائٹل جیتا

برطانیہ کے رومیل گلیو نے برمنگھم میں 10.09 سیکنڈ کے وقت کے ساتھ مردوں کا یورپی 100 میٹر ٹائٹل جیتا، جبکہ جیریمیا ازو نے 10.16 سیکنڈ میں چاندی کا تمغہ حاصل کیا۔

برمنگھم میں رومیل گلیو نے 10.09 سیکنڈ کے وقت کے ساتھ مردوں کی 100 میٹر یورپی ایتھلیٹکس چیمپئن شپ کا ٹائٹل جیت لیا۔ برطانیہ کے جیریمیا ازو نے 10.16 سیکنڈ میں دوڑ مکمل کرکے چاندی کا تمغہ حاصل کیا۔

گلیو نے پہلی بار یورپی 100 میٹر ٹائٹل جیتا

26 سالہ رومیل گلیو کے لیے یہ ان کے بین الاقوامی کیریئر کی ایک اہم کامیابی ہے۔ دو سال قبل روم میں منعقدہ یورپی چیمپئن شپ میں انہوں نے 100 میٹر میں کانسی کا تمغہ جیتا تھا۔ اس بار انہوں نے اسی کارکردگی کو سونے کے تمغے میں تبدیل کردیا۔

گلیو یورپی مردوں کے 100 میٹر ٹائٹل جیتنے والے برطانیہ کے چھٹے ایتھلیٹ بن گئے ہیں۔ گزشتہ چھ ایڈیشنز میں یہ کامیابی حاصل کرنے والے وہ برطانیہ کے تیسرے مرد ایتھلیٹ ہیں۔ ان سے پہلے جارنل ہیوز نے 2018 اور جیمز داساؤلو نے 2014 میں یورپی 100 میٹر ٹائٹل جیتا تھا۔

گلیو نے جیت کے بعد کہا کہ دو سال قبل جیتے گئے کانسی کے تمغے کو سونے میں تبدیل کرنا ان کے لیے انتہائی خاص تجربہ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ان کا ہدف برطانیہ کے لیے پہلے تین مقامات حاصل کرنا تھا، تاہم ٹیم پہلے اور دوسرے مقام پر آنے میں کامیاب رہی۔

ازو نے چاندی کا تمغہ حاصل کیا

برطانیہ کے جیریمیا ازو نے 10.16 سیکنڈ کے وقت کے ساتھ چاندی کا تمغہ جیتا۔ 25 سالہ ازو کے لیے بھی یہ تمغہ اہم رہا، کیونکہ مشکل سیزن کے بعد انہوں نے بین الاقوامی سطح پر پوڈیم پر واپسی کی ہے۔

ازو 2025 میں 60 میٹر انڈور کے عالمی اور یورپی چیمپئن رہ چکے ہیں۔ انہوں نے اسی کارکردگی کو 100 میٹر میں بھی جاری رکھنے کی کوشش کی، لیکن اس سال انہیں مسلسل توقع کے مطابق نتائج نہیں مل سکے۔

برمنگھم کے گھریلو ماحول میں ازو نے فائنل میں گلیو کے پیچھے رہتے ہوئے دوسری پوزیشن حاصل کی اور چاندی کا تمغہ جیتا۔ انہوں نے کہا کہ یہ سیزن ان کے لیے کافی غیر مستحکم رہا اور کئی ریسز میں تسلسل نہیں رہا۔ تاہم چیمپئن شپ میں ان کی کارکردگی عام طور پر بہتر رہتی ہے اور ان کی توجہ وقت کے بجائے تمغہ جیتنے پر تھی۔

گلیو کی 10 سیکنڈ سے کم وقت کی کارکردگی جاری

یورپی چیمپئن شپ میں گلیو کی جیت اس سیزن کی پہلی اہم کامیابی نہیں ہے۔ وہ اس سیزن میں پہلے ہی کئی بار 10 سیکنڈ سے کم وقت میں دوڑ مکمل کر چکے ہیں۔ مختلف حالات میں انہوں نے یہ کارنامہ چھ مرتبہ انجام دیا ہے۔

جون میں انہوں نے پہلی بار قانونی ہوا کی صورتحال میں 10 سیکنڈ سے کم وقت میں دوڑ لگا کر اپنا پہلا برطانوی 100 میٹر ٹائٹل جیتا تھا۔ اس کے علاوہ اٹلی میں انہوں نے دو مرتبہ کے موجودہ یورپی چیمپئن لامونٹ مارسیل جیکبز کو بھی شکست دی تھی۔

جیکبز 2021 ٹوکیو اولمپکس میں 100 میٹر کے چیمپئن بنے تھے۔ برمنگھم میں فائنل سے قبل سیمی فائنل میں بھی گلیو نے کارکردگی پیش کی تھی۔ فائنل میں انہوں نے ابتدا ہی سے برتری حاصل کی اور اسے اختتام تک برقرار رکھا۔

انجریز کے بعد گلیو کی واپسی

گلیو کو اپنے کیریئر میں کئی انجریز کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ 2017 میں صرف 17 سال کی عمر میں انہوں نے 10.21 سیکنڈ کا وقت نکال کر دنیا کے تیز ترین 17 سالہ ایتھلیٹ کا اعزاز حاصل کیا تھا۔ اس وقت انہیں برطانیہ کی ایتھلیٹکس کے مستقبل کے اہم ستاروں میں شمار کیا جانے لگا تھا۔

تاہم اس کے بعد انجریز نے ان کی پیش رفت کو متاثر کیا۔ انہیں کمر میں فریکچر جیسی سنگین پریشانی کا بھی سامنا کرنا پڑا۔

اس سال انہوں نے اپنی ٹریننگ میں تسلسل برقرار رکھنے پر خصوصی توجہ دی۔ گلیو نے بتایا کہ ان کی حالیہ کامیابی کے پیچھے دوڑ کے ابتدائی 40 میٹر کو بہتر بنانے کے لیے کیا گیا کام اہم رہا۔ فائنل میں وہ تقریباً 30 میٹر کے بعد ہی آگے نکل گئے تھے۔

مردوں کی 100 میٹر میں برطانیہ کی پہلی اور دوسری پوزیشن

فائنل سے قبل برطانیہ کے تین ایتھلیٹس نے کوالیفائی کیا تھا۔ تاہم لوئی ہنچلف نے تمغے کی دوڑ میں حصہ نہیں لیا۔ اس کے باوجود گلیو اور ازو نے مردوں کی 100 میٹر دوڑ میں برطانیہ کو پہلی اور دوسری پوزیشن دلائی۔

جیت کے بعد گلیو نے اسے برطانیہ کی 100 میٹر کارکردگی کی بالادستی قرار دیا اور کہا کہ یہ مکمل طور پر ٹیم کی کامیابی ہے۔ ایک ہی فائنل میں سونے اور چاندی کے تمغے جیتنا برطانیہ کے لیے اس مقابلے کے نمایاں لمحات میں سے ایک رہا۔

مشکل سیزن کے بعد ازو کی پوڈیم پر واپسی

ازو نے 2025 میں عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کیا تھا، لیکن 2026 میں ان کی کارکردگی نسبتاً غیر مستحکم رہی۔ اس سال کی عالمی انڈور چیمپئن شپ اور کامن ویلتھ گیمز میں وہ بالترتیب چوتھے اور پانچویں مقام پر رہے تھے۔

گلاسگو میں دو ہفتے قبل انہوں نے سیزن کا بہترین 10.00 سیکنڈ کا وقت نکالا تھا، لیکن یہ کارکردگی بھی اس سطح کے مقابلے میں سونے کا تمغہ جیتنے کے لیے کافی نہیں تھی۔

اس کے باوجود ازو نے برمنگھم میں پوڈیم پر واپسی کی۔ انہوں نے کہا کہ 100 میٹر میں مقابلہ انتہائی سخت ہے، کیونکہ دنیا بھر میں بڑی تعداد میں ایتھلیٹس تمغے کے دعویدار ہوتے ہیں۔

دیگر مقابلوں کے نتائج

خواتین کی 5,000 میٹر دوڑ میں ہنّا نٹال پانچویں مقام پر رہیں، جبکہ اٹلی کی نادیہ بٹوچیللیٹی نے اپنا ٹائٹل برقرار رکھا۔

مردوں کی 400 میٹر دوڑ میں برطانیہ کے میتھیو ہڈسن اسمتھ نے فائنل کے لیے کوالیفائی کیا۔ تاہم اپنی ہیٹ میں انہیں دوسری پوزیشن حاصل کرنا پڑی۔ ہڈسن اسمتھ نے تسلیم کیا کہ انہوں نے ریس کے دوران صورتحال کا کچھ غلط اندازہ لگایا تھا۔

خواتین کی 100 میٹر ہرڈلز میں نیدرلینڈز کی نادین ویسر نے انتہائی قریبی مقابلے میں سونے کا تمغہ جیتا۔ انہوں نے پولینڈ کی پیا اسکرزیشوفسکا کو صرف ایک ہزارویں سیکنڈ کے فرق سے پیچھے چھوڑا۔ دونوں کے درمیان فرق اتنا کم تھا کہ فاتح کا فیصلہ کرنے کے لیے فوٹو فنش کا سہارا لینا پڑا۔

برطانوی ایتھلیٹکس کے لیے اہم نتیجہ

برمنگھم میں گلیو اور ازو کی کامیابی برطانوی ایتھلیٹکس کے لیے اہم نتیجہ ہے۔ ہوم گراؤنڈ پر 100 میٹر میں سونے اور چاندی کے تمغے جیتنے سے ٹیم کا اعتماد بڑھا ہے۔

گلیو کے لیے یہ جیت خاص طور پر اہم ہے کیونکہ انہوں نے انجریز اور اتار چڑھاؤ کے بعد خود کو دوبارہ اعلیٰ سطح پر قائم کیا ہے۔ ازو نے بھی مشکل سیزن کے باوجود یورپی سطح پر پوڈیم حاصل کیا۔

Leave a comment