بہار کی سیاست میں جمعہ کو اچانک سرگرمیاں تیز ہوگئیں۔ وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری نے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کوٹے کے تمام وزرا کی ایک اہم میٹنگ طلب کی ہے۔ یہ میٹنگ جمعہ کی شام 5 بجے وزیر اعلیٰ کی رہائش گاہ پر منعقد ہونے کی تجویز ہے۔
میٹنگ میں بی جے پی کے تمام وزرا کی موجودگی لازمی بتائی جا رہی ہے۔ اس وقت بہار یا دارالحکومت پٹنہ سے باہر موجود پارٹی کے وزرا کو بھی فوری طور پر پٹنہ واپس آنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
بی جے پی کی جانب سے میٹنگ کا سرکاری ایجنڈا وزیر اعظم نریندر مودی کی عوامی زندگی کے 25 سال مکمل ہونے کے موقع پر مجوزہ پروگراموں کی تیاریوں سے متعلق بتایا گیا ہے۔
تاہم، میٹنگ ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب فرکا آبی معاہدے کو لے کر بہار میں حکمراں اتحاد کے اندر مختلف سیاسی بیانات سامنے آ رہے ہیں۔ اسی وجہ سے میٹنگ کو صرف تنظیمی تیاریوں تک محدود نہ سمجھتے ہوئے اس کے سیاسی پہلوؤں پر بھی بحث ہو رہی ہے۔
فرکا آبی معاہدے پر جے ڈی یو کے بیانات
میٹنگ سے قبل جنتا دل یونائیٹڈ (جے ڈی یو) کی جانب سے فرکا آبی معاہدے کو لے کر مسلسل بیانات سامنے آئے ہیں۔ راجیہ سبھا کے رکن سنجے جھا نے حال ہی میں بہار کے بیگوسرائے میں منعقدہ ‘فرکا آبی معاہدے پر نتیش سنواد’ پروگرام میں اس معاملے کو نمایاں طور پر اٹھایا۔
سنجے جھا نے کہا کہ ان کی پارٹی بہار کے آبی مفادات پر سمجھوتہ نہیں کرے گی، چاہے وہ اقتدار میں ہو یا اپوزیشن میں۔ ان کے بیان کو بہار میں آبی انتظام اور سیلاب کے مسئلے سے جوڑ کر دیکھا جا رہا ہے۔
جے ڈی یو لیڈر کا کہنا ہے کہ 1996 میں بھارت اور بنگلہ دیش کے درمیان ہوئے فرکا معاہدے کے بعد بہار کو سیلاب اور پانی کی دستیابی سے متعلق مسائل کا سامنا کرنا پڑتا رہا ہے۔ ان کا الزام ہے کہ ریاست کا بڑا حصہ طویل عرصے تک سیلاب کی صورت حال سے دوچار رہتا ہے، جبکہ ضرورت کے وقت کافی پانی دستیاب نہیں ہو پاتا۔
بی جے پی وزرا کی اچانک میٹنگ
وزیر اعلیٰ کی رہائش گاہ پر بی جے پی کوٹے کے تمام وزرا کو طلب کیے جانے کے بعد یہ بحث تیز ہوگئی ہے کہ میٹنگ میں ریاست کے موجودہ سیاسی اور انتظامی مسائل پر بھی غور کیا جا سکتا ہے۔ تاہم، ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ فرکا آبی معاہدے یا سنجے جھا کے بیان کو میٹنگ کے سرکاری ایجنڈے میں شامل کیا گیا ہے یا نہیں۔
بہار میں سیلاب، آبی انتظام اور فرکا بیراج طویل عرصے سے حساس مسائل رہے ہیں اور ان کا اثر ریاست کی سیاست پر بھی پڑتا رہا ہے۔
اتحاد کی سیاست کے درمیان اہم میٹنگ
بہار میں بی جے پی اور جے ڈی یو کے درمیان اتحاد کی سیاست کے لحاظ سے بھی اس پیش رفت پر بحث ہو رہی ہے۔ جب کسی اتحادی جماعت کی جانب سے ریاستی مفاد سے متعلق حساس معاملے پر سخت موقف اختیار کیا جاتا ہے تو دوسری اتحادی جماعت کے ردعمل پر سیاسی توجہ مرکوز ہوتی ہے۔
تاہم، بی جے پی کی جانب سے ابھی تک ایسا کوئی سرکاری اشارہ نہیں دیا گیا ہے کہ میٹنگ کو لے کر اتحاد میں کسی طرح کا اختلاف سامنے آیا ہے۔ اس لیے میٹنگ کے اصل ایجنڈے اور اس میں ہونے والی بحث کے بارے میں کسی نتیجے پر پہنچنا قبل از وقت ہوگا۔
بی جے پی ذرائع کے مطابق، وزیر اعظم نریندر مودی کی عوامی زندگی کے 25 سال مکمل ہونے کے موقع پر ہونے والے پروگراموں کی تیاریوں کا جائزہ لینا میٹنگ کے اہم مقاصد میں سے ایک ہے۔ پارٹی کی سطح پر اس موقع پر ملک بھر میں مختلف پروگرام منعقد کرنے کی تیاریاں جاری ہیں۔
ایسے میں وزیر اعلیٰ کی جانب سے تمام بی جے پی وزرا کو ایک ساتھ طلب کرنا تنظیمی نقطۂ نظر سے بھی اہم ہو سکتا ہے۔ میٹنگ کے بعد ہی واضح ہوگا کہ اس میں صرف پروگراموں کی تیاریوں پر بات ہوئی یا بہار کے موجودہ سیاسی مسائل کو بھی ترجیح دی گئی۔




