بھارتی شیئر بازار میں منگل کے روز شدید گراوٹ درج کی گئی۔ پورے دن فروخت کے دباؤ کے باعث BSE Sensex 1,456 پوائنٹس گر کر 74,559 کی سطح پر بند ہوا، جبکہ Nifty 50 بھی 436 پوائنٹس کی کمی کے ساتھ 23,379 پر آ گیا۔ مارکیٹ میں اس بڑی گراوٹ کے نتیجے میں سرمایہ کاروں کو بھاری نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔ خاص طور پر آئی ٹی، میٹل اور بینکنگ شعبے کے شیئرز میں نمایاں فروخت دیکھی گئی۔
بین الاقوامی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں تیزی کو اس گراوٹ کی بڑی وجہ قرار دیا جا رہا ہے۔ Brent Crude کی قیمت 107 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی ہے۔ بھارت اپنی توانائی کی ضروریات کا بڑا حصہ درآمدات کے ذریعے پورا کرتا ہے، جس کے باعث تیل کی قیمتوں میں اضافہ مہنگائی اور کمپنیوں کی لاگت پر اثر انداز ہونے کا خدشہ بڑھا رہا ہے۔ سرمایہ کاروں کو خدشہ ہے کہ بڑھتی ہوئی تیل قیمتیں مستقبل میں کارپوریٹ منافع کو متاثر کر سکتی ہیں۔
آئی ٹی شیئرز میں سب سے زیادہ دباؤ دیکھا گیا۔ Nifty IT Index تقریباً 3.7 فیصد تک گر گیا۔ آرٹیفیشل انٹیلی جنس (AI) اور نئی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی بڑھتی ہوئی مسابقت کے حوالے سے سرمایہ کاروں کی تشویش میں اضافہ ہوا ہے۔ Tata Consultancy Services، Infosys اور دیگر بڑی آئی ٹی کمپنیوں کے شیئرز میں گراوٹ نے مجموعی مارکیٹ پر اضافی دباؤ ڈالا۔
حالیہ میکرو اکنامک اشاروں اور حکومتی پالیسیوں کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال نے بھی مارکیٹ کے رجحان کو متاثر کیا ہے۔ بعض شعبوں میں کھپت اور طلب سے متعلق سوالات نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو متاثر کیا ہے۔ ماہرین کے مطابق عالمی اور ملکی پالیسی اشاروں میں عدم استحکام مارکیٹ کو کمزور کر رہا ہے۔
بھارتی کرنسی بھی دباؤ میں رہی۔ امریکی ڈالر کے مقابلے میں روپیہ 35 پیسے کمزور ہو کر 95.63 کی ریکارڈ کم ترین سطح پر پہنچ گیا۔ کمزور روپے کے باعث غیر ملکی ادارہ جاتی سرمایہ کاروں (FII) کی تشویش میں اضافہ ہوا، جس کے نتیجے میں سرمائے کے انخلا میں تیزی آئی۔ اس کا اثر درآمدات پر انحصار کرنے والی کمپنیوں اور مجموعی مارکیٹ رجحان دونوں پر پڑا ہے۔
سرمایہ کار اب آئندہ مہنگائی کے اعداد و شمار کا انتظار کر رہے ہیں۔ مارکیٹ کو خدشہ ہے کہ بڑھتی ہوئی تیل قیمتیں آنے والے مہینوں میں مہنگائی کو مزید بڑھا سکتی ہیں۔ اگر مہنگائی میں اضافہ ہوتا ہے تو شرح سود میں دوبارہ تبدیلی کا امکان پیدا ہو سکتا ہے، جس سے معاشی ترقی کی رفتار متاثر ہو سکتی ہے۔









