سینسیکس 630 پوائنٹس بڑھا نفٹی 22600 کے اوپر بند بینکنگ حصص کی کمزوری برقرار

30 مارچ کو بھارتی شیئر بازار میں ابتدائی گراوٹ کے بعد ریکوری دیکھی گئی، سینسیکس 630 پوائنٹس بڑھا اور نفٹی 22,600 کے اوپر بند ہوا، جبکہ بینکنگ حصص میں کمزوری اور عالمی عوامل کا اثر برقرار رہا۔

30 مارچ کو بھارتی شیئر بازار میں ابتدائی گراوٹ کے بعد دن کے دوران نمایاں ریکوری دیکھی گئی، جس کے نتیجے میں سینسیکس تقریباً 630 پوائنٹس کے اضافے کے ساتھ بند ہوا جبکہ نفٹی 22,600 کی سطح کے اوپر بند ہونے میں کامیاب رہا، تاہم بینکنگ حصص میں کمزوری نے مجموعی تیزی کو محدود رکھا۔

ابتدائی سیشن میں گراوٹ ریکارڈ

پیر کی صبح بازار کا آغاز کمزور رہا۔ صبح 9 بج کر 16 منٹ پر نفٹی 50 تقریباً 1.23 فیصد یعنی 303.30 پوائنٹس کی گراوٹ کے ساتھ 22,516.30 پر ٹریڈ کر رہا تھا، جبکہ سینسیکس بھی 1.38 فیصد یعنی 1,018.76 پوائنٹس گر کر 72,560 کی سطح تک آ گیا تھا۔ اس گراوٹ کی بنیادی وجوہات عالمی بازاروں میں کمزوری اور امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتا ہوا تناؤ رہا، جس کے باعث سرمایہ کاروں نے ابتدائی تجارت میں محتاط رویہ اختیار کیا۔

دن کے دوران خریداری سے ریکوری

ابتدائی دباؤ کے بعد بازار میں نچلی سطحوں پر خریداری دیکھنے کو ملی، جس سے بتدریج ریکوری آئی۔ اختتام تک سینسیکس تقریباً 630 پوائنٹس کے اضافے کے ساتھ بند ہوا جبکہ نفٹی 22,600 کے اوپر پہنچ گیا، جو اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ سرمایہ کاروں کی شرکت برقرار رہی۔

براڈر مارکیٹ میں دباؤ برقرار

اہم اشاریوں میں ریکوری کے باوجود براڈر مارکیٹ میں کمزوری برقرار رہی۔ نفٹی مڈ کیپ انڈیکس میں تقریباً 1.95 فیصد اور نفٹی اسمال کیپ انڈیکس میں 2.31 فیصد کی کمی درج کی گئی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مڈ اور اسمال کیپ حصص میں دباؤ جاری رہا۔

بینکنگ سیکٹر میں کمزوری

بینکنگ سیکٹر میں دباؤ نمایاں رہا، جہاں نفٹی بینک اور نفٹی پی ایس یو بینک انڈیکس کمزور رہے۔ بینکنگ حصص میں کمزوری کے باعث مجموعی بازار کی رفتار محدود رہی۔

میٹل سیکٹر میں بہتری

بینکنگ حصص کے برعکس میٹل سیکٹر میں بہتری دیکھی گئی۔ نفٹی میٹل انڈیکس میں اضافہ ریکارڈ ہوا، جس کی وجہ عالمی اشارے اور کموڈیٹی قیمتوں میں تبدیلیاں رہیں، اور اس سیکٹر نے بازار کو ابتدائی گراوٹ سے سنبھلنے میں معاونت فراہم کی۔

خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ

بین الاقوامی بازار میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا گیا۔ ایشیائی تجارت کے دوران برینٹ کروڈ کے مارچ کنٹریکٹ میں 3.36 فیصد اضافہ ہوا اور قیمت 114.95 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔ سپلائی سے متعلق خدشات اور یمن میں حوثی باغیوں کی جانب سے اسرائیل پر میزائل حملوں نے صورتحال کو مزید کشیدہ بنایا۔

جغرافیائی سیاسی تناؤ کے اثرات

امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتا ہوا تناؤ عالمی بازاروں پر اثر انداز ہو رہا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خارگ جزیرے پر قبضے کا ذکر کیا، جبکہ جلد جنگ بندی کے امکان کی بھی نشاندہی کی۔ ان بیانات کے باعث سرمایہ کاروں میں غیر یقینی صورتحال میں اضافہ ہوا۔

عالمی بازاروں کی کارکردگی

ایشیائی بازاروں میں کمزوری دیکھی گئی، جہاں جنوبی کوریا کا کوسپی انڈیکس تقریباً 5.3 فیصد، جاپان کا نکئی 225 انڈیکس 4.36 فیصد اور چین کا CSI 300 تقریباً 1.2 فیصد کمزور رہا۔ امریکی بازار بھی دباؤ میں بند ہوئے، جہاں S&P 500 میں 1.06 فیصد اور ڈاؤ جونز میں 1.67 فیصد کی کمی درج کی گئی، جس کا اثر بھارتی بازار کے ابتدائی سیشن پر بھی پڑا۔

سونا اور چاندی میں کمی

کموڈیٹی بازار میں سونے اور چاندی کے فیوچر قیمتوں میں کمی ریکارڈ کی گئی، جہاں سونا تقریباً 2 فیصد اور چاندی 1.32 فیصد نیچے ٹریڈ کر رہی تھی، جو سرمایہ کاروں کے محتاط رویے کی نشاندہی کرتا ہے۔

آئی پی او اور لسٹنگ اپڈیٹس

آئی پی او مارکیٹ میں سرگرمی جاری رہی۔ Emiac Technologies کا آئی پی او دوسرے دن کھلا رہا، جسے پہلے دن 0.11 گنا سبسکرپشن حاصل ہوئی، جبکہ کمپنی اس اجرا کے ذریعے تقریباً 31.75 کروڑ روپے جمع کرنے کا ہدف رکھتی ہے۔

ایس ایم ای سیگمنٹ میں Vivid Electromech کا آئی پی او آخری دن کے لیے کھلا رہا، جسے دوسرے دن تک 0.61 گنا سبسکرپشن حاصل ہوئی۔ یہ تقریباً 130.54 کروڑ روپے کا بک بلڈ ایشو ہے۔

Central Mine Planning & Design Institute کا آئی پی او آج NSE اور BSE پر لسٹ ہوا، جسے آخری دن تک 10.17 گنا سبسکرپشن حاصل ہوئی، جس سے سرمایہ کاروں کی شرکت ظاہر ہوئی۔

Leave a comment