شیخ حسینہ نے BRICS اجلاس میں شرکت نہ کرنے پر تنقید کی، بھارت سے تعلقات بہتر بنانے کا موقع ضائع ہونے کا دعویٰ

بنگلہ دیش کی سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ نے کہا ہے کہ BRICS اجلاس میں بنگلہ دیش کی عدم شرکت سے بھارت کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کے ساتھ سفارتی اور اقتصادی تعاون کے مواقع بھی ضائع ہوئے۔ انہوں نے بنگلہ دیش میں جمہوریت، نظامِ انصاف اور سی

بنگلہ دیش کی سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ نے BRICS سربراہی اجلاس میں شرکت نہ کرنے کے فیصلے پر تنقید کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس فیصلے کے نتیجے میں بھارت کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کا ایک موقع ضائع ہوگیا۔ ان کے مطابق، وزیر اعظم طارق رحمان کے اجلاس میں شرکت نہ کرنے کی وجہ سے بنگلہ دیش سفارتی اور اقتصادی تعاون کے مواقع سے فائدہ نہیں اٹھا سکا۔

خبر رساں ایجنسی PTI کو دیے گئے ایک انٹرویو میں حسینہ نے کہا کہ دونوں ممالک کے تعلقات کسی ایک شخص کی موجودگی یا سیاسی اختلافات کی بنیاد پر طے نہیں ہونے چاہئیں۔ ان کے مطابق، اگر بھارت میں ان کی موجودگی کی وجہ سے طارق رحمان نے اجلاس میں شرکت نہیں کی تو یہ بنگلہ دیش کے لیے بدقسمتی کی بات ہے۔

دستیاب معلومات کے مطابق BRICS سربراہی اجلاس 12 اور 13 ستمبر کو نئی دہلی میں منعقد ہوا تھا۔ بھارت نے طارق رحمان کو اس میں شرکت کی دعوت دی تھی، تاہم وہ اجلاس میں شریک نہیں ہوئے۔

BRICS اجلاس سے دوری پر شیخ حسینہ کا مؤقف

شیخ حسینہ نے کہا کہ BRICS صرف سیاسی رہنماؤں کا اجلاس نہیں بلکہ عالمی معیشت اور بین الاقوامی تعاون سے متعلق ایک اہم پلیٹ فارم ہے۔ ان کے مطابق، اس میں شرکت کے ذریعے بنگلہ دیش کو دیگر معیشتوں کے تجربات سے سیکھنے اور تعاون کے نئے مواقع تلاش کرنے کا موقع مل سکتا تھا۔

انہوں نے کہا کہ ایک ذمہ دار حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ دوسرے ممالک کے ساتھ بات چیت کے راستے کھلے رکھے اور قومی مفادات کو آگے بڑھائے۔ ان کے مطابق، سفارتی مذاکرات سے دور رہنے کے بجائے حکومت کو ایسے پلیٹ فارمز کو اقتصادی ترقی اور بین الاقوامی تعلقات مضبوط بنانے کے لیے استعمال کرنا چاہیے۔

حسینہ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بھارت اور بنگلہ دیش کے تعلقات کے حوالے سے سیاسی اور سفارتی بحث جاری ہے۔ تاہم، طارق رحمان کے اجلاس میں شرکت نہ کرنے کی سرکاری وجوہات کی آزادانہ تصدیق دستیاب معلومات میں نہیں کی گئی ہے۔

ضیاء الرحمٰن کے دورۂ بھارت کی مثال دی

انٹرویو کے دوران شیخ حسینہ نے اپنی سیاسی تاریخ کا حوالہ دیتے ہوئے بنگلہ دیش کے اس وقت کے صدر ضیاء الرحمٰن کے دورۂ بھارت کی مثال دی۔ ضیاء الرحمٰن، طارق رحمان کے والد تھے۔

حسینہ کے مطابق، 1979 میں ضیاء الرحمٰن بھارت آئے تھے، جبکہ وہ اس وقت دہلی میں مقیم تھیں۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ 1980 میں ضیاء الرحمٰن کے لندن کے دورے کے دوران بھی ان کی موجودگی سے اس سفر میں کوئی رکاوٹ پیدا نہیں ہوئی تھی۔

اس مثال کے ذریعے حسینہ نے مؤقف اختیار کیا کہ ذاتی یا سیاسی حالات کو دونوں ممالک کے تعلقات پر حاوی نہیں ہونا چاہیے۔ ان کے مطابق، حکومتوں کو وسیع تر قومی مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے خارجہ پالیسی سے متعلق فیصلے کرنے چاہئیں۔

حسینہ نے اپنے خاندان کی تاریخ کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ 15 اگست 1975 کو ان کے والد اور بنگلہ دیش کے بانی شیخ مجیب الرحمٰن سمیت خاندان کے کئی افراد کو قتل کردیا گیا تھا۔ انہوں نے 3 نومبر کو ڈھاکہ کی مرکزی جیل میں چار اہم رہنماؤں کے قتل کا بھی ذکر کیا اور ضیاء الرحمٰن پر غلط طریقے سے اقتدار میں آنے کا الزام عائد کیا۔

بنگلہ دیش کی صورتحال پر حسینہ نے تشویش ظاہر کی

شیخ حسینہ نے دعویٰ کیا کہ بنگلہ دیش ایک سنگین سیاسی اور ادارہ جاتی بحران سے گزر رہا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ملک میں جمہوری نظام کمزور ہوا ہے اور اپوزیشن جماعتوں کو اپنی بات رکھنے کے لیے مناسب مواقع نہیں مل رہے۔

انہوں نے عدلیہ کی آزادی پر بھی سوال اٹھائے۔ حسینہ کے مطابق، سیاسی مخالفین کو نشانہ بنانے کے لیے عدالتی اداروں کا استعمال کیا جارہا ہے۔ انہوں نے میڈیا کی آزادی میں کمی، قانون و نظم کی صورتحال بگڑنے اور اقلیتوں میں عدم تحفظ کے احساس میں اضافے کا بھی دعویٰ کیا۔

سابق وزیر اعظم نے الزام عائد کیا کہ انتہا پسند قوتوں کو دوبارہ سرگرم ہونے کا موقع ملا ہے۔ تاہم، یہ ان کے سیاسی تجزیے اور الزامات ہیں۔ ان دعوؤں کی تصدیق کے لیے آزاد شواہد یا متعلقہ اداروں کا مؤقف فراہم کردہ مواد میں شامل نہیں ہے۔

بنگلہ دیش واپس جاکر جمہوریت بحال کرنا چاہتی ہیں حسینہ

شیخ حسینہ نے بنگلہ دیش واپس جانے کی کوئی حتمی تاریخ نہیں بتائی، تاہم انہوں نے کہا کہ وہ ملک واپس جاکر جمہوریت کی بحالی کی کوششوں میں شامل ہونا چاہتی ہیں۔

انہوں نے آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کی ضرورت پر زور دیا۔ ان کے مطابق، بنگلہ دیش کے شہریوں کو اپنی پسند کی حکومت منتخب کرنے کا موقع ملنا چاہیے۔ حسینہ نے اپنی ممکنہ واپسی کو جمہوری نظام کی بحالی کی سمت ایک اہم قدم قرار دیا۔

78 سالہ حسینہ اگست 2024 میں حکومت مخالف ایک بڑے احتجاج کے بعد اقتدار سے الگ ہوگئی تھیں۔ اس کے بعد وہ بنگلہ دیش چھوڑ کر بھارت آگئی تھیں اور تب سے بھارت میں مقیم ہیں۔

سزائے موت کے باوجود واپسی کا عزم

انٹرویو میں حسینہ نے تسلیم کیا کہ بنگلہ دیش واپس جانا ان کے لیے خطرناک ہوسکتا ہے۔ وہاں کی عدالت نے انہیں سزائے موت سنائی ہے۔ اس کے باوجود انہوں نے کہا کہ وہ خوف کی وجہ سے پیچھے نہیں ہٹیں گی۔

1975 میں اپنے والدین، بھائیوں اور خاندان کے دیگر افراد کے قتل کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ذاتی مشکلات اور خطرات کے باوجود انہوں نے عوامی زندگی میں اپنا کردار جاری رکھا۔ انہوں نے 1981 میں بنگلہ دیش واپسی، فوجی دور حکومت میں ملنے والی دھمکیوں اور 21 اگست 2004 کو ہونے والے گرینیڈ حملے کا بھی ذکر کیا۔

حسینہ نے کہا کہ انہیں جیل اور سیاسی ظلم و ستم کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ ان کے مطابق، اس وقت ان کی سب سے بڑی تشویش اپنی سلامتی نہیں بلکہ بنگلہ دیش میں نظامِ انصاف کی صورتحال ہے۔

انہوں نے سزائے موت کو سیاسی انتقام کی کارروائی قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی شخص کو اپنا مؤقف پیش کرنے کا مناسب موقع دیے بغیر سزا سنانا انصاف کے اصولوں کے مطابق نہیں ہے۔

بھارت-بنگلہ دیش تعلقات میں سفارتی مذاکرات کی اہمیت

شیخ حسینہ کے بیان میں BRICS سربراہی اجلاس میں شرکت، بھارت کے ساتھ تعلقات اور بنگلہ دیش کی داخلی سیاسی صورتحال اہم موضوعات رہے۔ انہوں نے اجلاس میں شرکت نہ کرنے کے فیصلے کو بنگلہ دیش کے مفادات کے لیے نقصان دہ قرار دیا اور حکومت سے بین الاقوامی مذاکرات کو ترجیح دینے کی اپیل کی۔

BRICS جیسے کثیرالجہتی پلیٹ فارم ممالک کو اقتصادی تعاون، تجارت، سرمایہ کاری اور عالمی مسائل پر بات چیت کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ تاہم، کسی ایک اجلاس میں شرکت نہ کرنے سے کسی ملک کو کتنا نقصان ہوا، اس کا اندازہ ٹھوس سفارتی اور اقتصادی شواہد کی بنیاد پر ہی لگایا جاسکتا ہے۔

فی الحال، حسینہ کے بیان نے بھارت-بنگلہ دیش تعلقات اور بنگلہ دیش کی سیاسی صورتحال پر بحث کو دوبارہ سامنے لایا ہے۔ اس معاملے میں طارق رحمان حکومت کا ردعمل اور اجلاس میں شرکت نہ کرنے کی سرکاری وجوہات سامنے آنے سے صورتحال کو مزید واضح طور پر سمجھنے میں مدد مل سکتی ہے۔

Leave a comment