اسمارٹ فیچرز خراب ہونے کے باوجود اسمارٹ بلب کے دوبارہ استعمال کے امکانات

اگر اسمارٹ بلب کے اسمارٹ فیچرز کام نہ کریں تو بھی اسے عام ایل ای ڈی بلب، نائٹ لائٹ یا ڈی آئی وائی پروجیکٹس میں دوبارہ استعمال کیا جا سکتا ہے، جس سے اخراجات اور الیکٹرانک فضلہ دونوں میں کمی آتی ہے۔

اگر اسمارٹ بلب کے اسمارٹ فیچرز خراب ہو جائیں تو بھی اسے پھینکنا ضروری نہیں ہے۔ ایسے بلب کو عام ایل ای ڈی بلب، نائٹ لائٹ یا ڈی آئی وائی پروجیکٹس میں دوبارہ استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس طریقے سے نہ صرف اخراجات میں بچت ہوتی ہے بلکہ الیکٹرانک فضلے میں کمی لانے میں بھی مدد ملتی ہے۔

آج کل کئی گھروں میں استعمال ہونے والے اسمارٹ بلب، ایپ یا انٹرنیٹ کنکشن خراب ہونے کے بعد بیکار سمجھ لیے جاتے ہیں۔ یہ مسئلہ خاص طور پر اس وقت سامنے آتا ہے جب اسمارٹ فیچرز کام کرنا بند کر دیتے ہیں لیکن ایل ای ڈی حصہ درست حالت میں رہتا ہے۔ ایسے میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا اسمارٹ بلب مکمل طور پر ناکارہ ہو جاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق، ایسے بلب کو گھر کے اسٹور روم، سیڑھیوں، بیڈ روم یا ڈی آئی وائی لیمپ کے طور پر دوبارہ استعمال کیا جا سکتا ہے، جس سے اخراجات اور ماحول دونوں کو فائدہ پہنچتا ہے۔

کئی بار اسمارٹ بلب کے ایپ یا انٹرنیٹ سے جڑے فیچرز کام کرنا چھوڑ دیتے ہیں، لیکن سوئچ کے ذریعے آن آف کرنے پر وہ عام ایل ای ڈی بلب کی طرح روشن ہوتا ہے۔ ایسی صورت میں اسے اسٹور روم، سیڑھیوں یا اسٹڈی ایریا میں آسانی سے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس طرح گھر کی بنیادی روشنی کی ضرورت پوری ہو جاتی ہے اور بلب کو ضائع کرنے کی نوبت نہیں آتی۔

اسمارٹ بلب کی پہچان اس کی رنگین اور نرم روشنی ہوتی ہے۔ اگر بلب کسی ایک رنگ پر قائم رہ جائے یا کبھی کبھار ہی ایپ کے ذریعے کنٹرول ہو پاتا ہو تو اسے نائٹ لائٹ یا آرائشی بتی کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔ بیڈ روم یا بچوں کے کمرے میں ہلکی روشنی کے لیے یہ ایک موزوں انتخاب ہو سکتا ہے۔

جن افراد کو تھوڑی بہت تکنیکی معلومات ہوتی ہیں، ان کے لیے اسمارٹ بلب ڈی آئی وائی پروجیکٹس میں بھی کارآمد ثابت ہو سکتا ہے۔ کئی صورتوں میں صرف کنٹرول بورڈ خراب ہوتا ہے جبکہ ایل ای ڈی اور ڈرائیور مکمل طور پر درست رہتے ہیں۔ ایسی حالت میں عام ایل ای ڈی سرکٹ کے ساتھ جوڑ کر اسے ٹیبل لیمپ، ایمرجنسی لائٹ یا ورکشاپ لیمپ میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ اس سے اخراجات میں بچت کے ساتھ پرانے سامان کا بہتر استعمال ممکن ہوتا ہے۔

Leave a comment