اداکارہ سوناکشی سنہا بھارتیہ جنتا پارٹی (BJP) اور سناتن دھرم کے خلاف ایجنڈا چلا رہی ہیں، یہ دعویٰ کرنے والی ایک سوشل میڈیا پوسٹ وائرل ہو رہی ہے۔ ان دعوؤں کے فیکٹ چیک میں سامنے آیا کہ پوسٹ میں بیان کیے گئے کچھ الگ الگ واقعات حقیقی سوشل میڈیا سرگرمیوں سے متعلق ہیں، تاہم انہیں کسی سیاسی یا مذہبی ایجنڈے سے جوڑنے کا کوئی ٹھوس ثبوت نہیں ملا۔ سوناکشی سنہا نے وراٹ کوہلی اور انوشکا شرما کو مبینہ طور پر ان فالو کیوں کیا، اس کی بھی عوامی طور پر کوئی وضاحت سامنے نہیں آئی ہے۔
وائرل پوسٹ میں کیا دعویٰ کیا گیا ہے
وائرل سوشل میڈیا پوسٹ میں سوناکشی سنہا کے خلاف کئی الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ پوسٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اداکارہ نے Citizens for Justice and Peace (CJP) سے وابستہ طلبہ کے احتجاج کی حمایت کی تھی، کیونکہ اس احتجاج کا مبینہ مؤقف BJP مخالف تھا۔ جھارکھنڈ میں طلبہ سے متعلق ایک تحریک پر ان کی مبینہ خاموشی پر بھی سوال اٹھایا گیا ہے۔
وائرل دعوے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ سوناکشی نے کرکٹر وراٹ کوہلی اور اداکارہ انوشکا شرما کو مذہبی وجوہات کی بنا پر ان فالو کیا۔ سوشل میڈیا صارفین نے اس مبینہ ان فالو کو کوہلی اور شرما کے مذہبی عقائد اور روحانی سرگرمیوں سے جوڑنے کی کوشش کی ہے۔ فلم میکر آدتیہ دھر کی جانب سے سوناکشی کے برگر سے متعلق ایک پوسٹ پر دیے گئے مبینہ لافنگ ری ایکشن کو بھی وائرل بیانیے کا حصہ بنایا گیا ہے۔
تاہم، کسی شخص کے سوشل میڈیا رویے یا مختلف پوسٹس پر اس کے ردعمل کو براہ راست کسی سیاسی یا مذہبی ایجنڈے کا ثبوت قرار دینے کے لیے آزادانہ اور ٹھوس شواہد کی ضرورت ہوتی ہے۔
طلبہ کے احتجاج پر سوناکشی کا ردعمل
وائرل دعوے کا ایک حصہ ایک حقیقی واقعے سے متعلق ہے۔ جولائی 2026 میں دہلی میں طلبہ کے احتجاج کے دوران پولیس کارروائی کی تصاویر اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر سامنے آئی تھیں۔ اس کے بعد سوناکشی سنہا نے احتجاج سے متعلق کچھ تصاویر اپنی Instagram Story پر شیئر کی تھیں۔
اس سے یہ تصدیق ہوتی ہے کہ سوناکشی نے طلبہ کے احتجاج پر عوامی طور پر ردعمل دیا تھا۔ تاہم، اس سے یہ نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ انہوں نے کسی سیاسی جماعت یا مذہبی برادری کے خلاف مہم کے حصے کے طور پر ایسا کیا تھا۔
کسی احتجاج یا طلبہ کی تحریک پر ردعمل دینا بذاتِ خود کسی مخصوص سیاسی نظریے کی حمایت یا مخالفت کا فیصلہ کن ثبوت نہیں ہوتا۔ سوناکشی سے منسوب وسیع تر سیاسی ایجنڈے کی حمایت میں کوئی ٹھوس ثبوت سامنے نہیں آیا ہے۔
جھارکھنڈ کے طلبہ پر سوناکشی کی مبینہ خاموشی
وائرل پوسٹ میں جھارکھنڈ کے طلبہ سے متعلق تحریک کو بھی نمایاں کیا گیا ہے۔ ریاست میں بھرتی کے امتحانات اور JPSC اور JSSC سے متعلق تنازعات پر طلبہ کے احتجاج کی خبریں سامنے آتی رہی ہیں۔ وائرل پوسٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ سوناکشی نے دہلی کے طلبہ کے احتجاج پر ردعمل دیا، لیکن جھارکھنڈ کے طلبہ کے مسائل پر آواز نہیں اٹھائی۔
تاہم، یہ ثابت کرنا آسان نہیں کہ کسی عوامی شخصیت نے کسی مخصوص معاملے پر پوسٹ نہیں کی۔ اسی طرح، کسی مسئلے پر عوامی ردعمل نہ دینے سے یہ نتیجہ بھی اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ اس شخص نے سیاسی وجوہات کی بنا پر جان بوجھ کر خاموشی اختیار کی۔
دستیاب معلومات کی بنیاد پر یہ ثابت نہیں ہوتا کہ سوناکشی نے کسی سیاسی نظریے کی وجہ سے جھارکھنڈ کے طلبہ کے مسئلے کو نظر انداز کیا۔ اس لیے وائرل پوسٹ کے اس حصے کو بھی حتمی حقیقت کے طور پر پیش کرنا مناسب نہیں ہے۔
وراٹ کوہلی اور انوشکا شرما کو ان فالو کرنے کا دعویٰ
وائرل پوسٹ میں سب سے زیادہ زیر بحث دعویٰ سوناکشی سنہا، وراٹ کوہلی اور انوشکا شرما سے متعلق ہے۔ سوشل میڈیا پر دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ سوناکشی نے وراٹ اور انوشکا کو مذہبی وجوہات کی بنا پر ان فالو کیا۔
انوشکا شرما کو سوناکشی فالو کرتی ہیں یا ان فالو کر چکی ہیں، اس حوالے سے پہلے بھی سوشل میڈیا پر بحث ہو چکی ہے۔ دونوں کے درمیان سوشل میڈیا پر رابطے اور انٹرایکشن بھی دیکھے گئے ہیں۔ سوناکشی نے انوشکا کی ڈاگ ویلفیئر سے متعلق ایک پوسٹ اپنی اسٹوری پر شیئر کی تھی۔
حالیہ سوشل میڈیا دعوؤں میں کہا گیا کہ سوناکشی نے دوبارہ انوشکا کو ان فالو کر دیا۔ اس کے بعد کچھ صارفین نے اسے وراٹ اور انوشکا کی روحانی سرگرمیوں سے جوڑنا شروع کیا۔ خاص طور پر وراٹ اور انوشکا کے ورنداون دورے اور سوامی پریم آنند مہاراج سے ملاقات کو اس دعوے سے جوڑا گیا۔
لیکن اہم بات یہ ہے کہ سوناکشی سنہا نے خود عوامی طور پر یہ نہیں بتایا کہ انہوں نے انوشکا کو کیوں ان فالو کیا۔ اس لیے مبینہ ان فالو کو مذہبی عقائد سے جوڑنا فی الحال سوشل میڈیا پر کیا جانے والا ایک قیاس ہے، مصدقہ حقیقت نہیں۔
پرانے سوشل میڈیا انٹرایکشن بھی زیر بحث
سوناکشی اور وراٹ-انوشکا کے درمیان پرانے سوشل میڈیا تعلقات کا بھی وائرل بحث میں ذکر کیا جا رہا ہے۔ 2021 میں سوناکشی نے کرکٹر محمد شامی کی حمایت میں وراٹ کوہلی کے مؤقف کی تعریف کی تھی۔
اس پرانے انٹرایکشن کو دیکھتے ہوئے موجودہ مبینہ ان فالو کی وجہ کے بارے میں حتمی نتیجہ اخذ کرنا مزید مشکل ہو جاتا ہے۔ سوشل میڈیا پر کسی کو فالو یا ان فالو کرنے کے پیچھے ذاتی، تکنیکی یا نجی وجوہات ہو سکتی ہیں۔ جب تک متعلقہ شخص خود وجہ واضح نہ کرے، کسی ایک وجہ کو حتمی حقیقت ماننا مناسب نہیں ہے۔
آدتیہ دھر کے لافنگ ری ایکشن کا کیا مطلب ہے؟
وائرل پوسٹ میں فلم میکر آدتیہ دھر کے مبینہ لافنگ ری ایکشن کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ دعویٰ ہے کہ سوناکشی کے برگر سے متعلق ایک پوسٹ پر آدتیہ دھر نے ہنسنے والا ری ایکشن دیا تھا۔
اس ری ایکشن پر سوشل میڈیا میں بحث ہوئی تھی، لیکن کسی پوسٹ پر لافنگ ری ایکشن دینا بذاتِ خود کسی سیاسی یا مذہبی الزام کا ثبوت نہیں ہے۔ آدتیہ دھر نے ایسا کوئی معتبر عوامی بیان نہیں دیا جس میں انہوں نے سوناکشی پر BJP یا سناتن دھرم کے خلاف ایجنڈا چلانے کا الزام عائد کیا ہو۔
اس لیے صرف سوشل میڈیا ری ایکشن کی بنیاد پر اداکارہ کے سیاسی خیالات یا مذہبی مؤقف کے بارے میں نتیجہ اخذ کرنا مناسب نہیں ہوگا۔
سوناکشی کی شادی کو بھی وائرل بیانیے سے جوڑا گیا
سوناکشی سنہا کی نجی زندگی کو بھی اس وائرل بیانیے میں شامل کیا گیا ہے۔ اداکارہ نے 23 جون 2024 کو اداکار ظہیر اقبال سے شادی کی تھی۔ دونوں نے خصوصی شادی قانون کے تحت شادی کی تھی۔
شادی کے بعد سوشل میڈیا پر ان کی بین المذاہب شادی کے حوالے سے مختلف ردعمل سامنے آئے تھے۔ سوناکشی اور ظہیر دونوں نے مختلف مواقع پر ایک دوسرے اور اپنے خاندانوں کے لیے احترام کی بات کی ہے۔
بین المذاہب شادی کرنا یا کسی مختلف مذہب سے تعلق رکھنے والے شخص کے ساتھ رشتہ رکھنا بذاتِ خود کسی شخص کے سیاسی خیالات یا سیاسی ایجنڈے کا ثبوت نہیں ہے۔ اس لیے سوناکشی کی شادی کو ان کے مبینہ BJP یا سناتن مخالف ایجنڈے سے جوڑنا بھی حقائق کے اعتبار سے درست نہیں ہے۔
کنگنا رناوت کے پرانے بیانات کا بھی ذکر
وائرل بحث میں اداکارہ اور رکن پارلیمنٹ کنگنا رناوت کے پرانے بیانات کو بھی سوناکشی سنہا سے جوڑنے کی کوشش کی گئی ہے۔ تاہم، جن بیانات کا حوالہ دیا جا رہا ہے، ان میں سوناکشی کا نام براہ راست لیا گیا ہو، اس کا کوئی واضح ثبوت سامنے نہیں آیا۔
کسی عمومی بیان کو کسی مخصوص شخص سے جوڑ کر پھر اسے اس شخص کے خلاف ثبوت کے طور پر استعمال کرنا گمراہ کن ہو سکتا ہے۔ اس لیے کنگنا رناوت کے پرانے بیانات کو سوناکشی کے خلاف براہ راست الزام یا انکشاف کے طور پر پیش کرنا مناسب نہیں ہوگا۔
فیکٹ چیک میں کیا سامنے آیا
وائرل پوسٹ میں شامل دعوؤں کو الگ الگ دیکھنے پر معلوم ہوتا ہے کہ کچھ واقعات کی بنیاد حقیقی سوشل میڈیا سرگرمیوں پر ہے۔ سوناکشی نے طلبہ کے احتجاج سے متعلق ایک پوسٹ شیئر کی تھی اور آدتیہ دھر کے ری ایکشن کے بارے میں بھی سوشل میڈیا پر بحث ہوئی تھی۔
تاہم، ان الگ الگ واقعات کو جوڑ کر یہ ثابت کرنے کے لیے کوئی ثبوت نہیں ملا کہ سوناکشی سنہا BJP یا سناتن دھرم کے خلاف کوئی منظم ایجنڈا چلا رہی ہیں۔ وراٹ کوہلی اور انوشکا شرما کو مبینہ طور پر ان فالو کرنے کی وجہ بھی سوناکشی نے عوامی طور پر واضح نہیں کی ہے۔
اسی طرح، جھارکھنڈ کے طلبہ کے معاملے پر سوناکشی کی مبینہ خاموشی کو سیاسی ارادے سے جوڑنے کا بھی کوئی ٹھوس ثبوت نہیں ملا۔







