SpaceX کے Falcon 9 کا استعمال شدہ بالائی حصہ 18 ماہ بعد چاند سے ٹکرا گیا

SpaceX کے Falcon 9 راکٹ کا استعمال شدہ بالائی حصہ تقریباً 18 ماہ تک خلا میں بے قابو گردش کرنے کے بعد چاند کی سطح سے ٹکرا گیا۔ سائنس دان اس واقعے کو چاند پر ٹکراؤ کے اثرات، خلائی ملبے کے خطرات اور مستقبل کے انسانی قمری مشنز کی حفاظت

SpaceX کے Falcon 9 راکٹ کا استعمال شدہ بالائی حصہ تقریباً 18 ماہ تک خلا میں بے قابو گردش کرنے کے بعد چاند کی سطح سے ٹکرا گیا۔ سائنس دانوں کے مطابق یہ واقعہ مستقبل میں چاند پر ہونے والے اثرات، خلائی ملبے کے خطرات اور آئندہ انسانی قمری مشنز کی حفاظت سے متعلق تحقیق کے لیے ایک اہم موقع فراہم کرے گا۔

18 ماہ خلا میں گردش کے بعد راکٹ کا حصہ چاند سے ٹکرا گیا

SpaceX کے Falcon 9 راکٹ کا استعمال شدہ بالائی حصہ اپنا مشن مکمل کرنے کے بعد تقریباً 18 ماہ تک خلا میں بے قابو گردش کرتا رہا۔ سائنس دانوں کے اندازے کے مطابق تقریباً 4,000 کلوگرام وزنی یہ حصہ تقریباً 8,690 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چاند کی سطح سے ٹکرایا۔ اس ٹکراؤ سے پیدا ہونے والی توانائی کا تخمینہ تقریباً تین ٹن TNT دھماکے کے برابر لگایا گیا ہے۔

محققین کا اندازہ ہے کہ اس ٹکراؤ کے نتیجے میں چاند کی سطح پر 20 سے 30 میٹر چوڑا گڑھا بنا ہوگا اور بڑی مقدار میں گرد و غبار اور ملبہ اوپر کی جانب اچھلا ہوگا۔ تاہم، یہ ٹکراؤ چاند کے اس حصے پر ہوا جو اس وقت سورج کی روشنی میں تھا، اس لیے اسے زمین سے براہ راست دیکھنا ممکن نہیں تھا۔

Blue Ghost اور Resilience مشنز کے بعد سفر کا اختتام

Falcon 9 کا یہ بالائی حصہ جنوری 2025 میں لانچ کیا گیا تھا۔ اس کا کام دو نجی قمری لینڈرز—Blue Ghost اور Resilience—کو ان کے مقررہ راستوں پر بھیجنا تھا۔ مشن مکمل ہونے کے بعد اس کا ایندھن ختم ہوگیا اور اسے کنٹرول شدہ طریقے سے زمین کی فضا میں واپس نہیں لایا جا سکا۔

Blue Ghost نے اپنا مشن کامیابی سے مکمل کیا، جبکہ Resilience چاند پر اترنے کے دوران حادثے کا شکار ہوگیا۔ اس کے بعد Falcon 9 کا بالائی حصہ طویل عرصے تک زمین اور چاند کے مداروں کے درمیان گردش کرتا رہا۔

سائنس دانوں کے مطابق شمسی سرگرمیوں اور کششِ ثقل کی قوتوں کے مشترکہ اثر نے بالآخر اس حصے کا رخ چاند کی جانب موڑ دیا، جہاں یہ چاند کی سطح سے ٹکرا گیا۔

مستقبل کے قمری مشنز کے لیے تحقیقی موقع

سائنس دان اس واقعے کو صرف ایک حادثے کے طور پر نہیں بلکہ ایک اہم تحقیقی موقع کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ ان کے مطابق اس ٹکراؤ سے حاصل ہونے والے اعداد و شمار مستقبل میں چاند پر ہونے والے قدرتی اور مصنوعی ٹکراؤ کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد کریں گے۔

اس سے چاند کی سطح پر ٹکراؤ کے نتیجے میں پیدا ہونے والے اثرات کا مطالعہ، زلزلہ جاتی سگنلز کے ذریعے ٹکراؤ کی شناخت اور خلائی ملبے سے پیدا ہونے والے ممکنہ خطرات کا جائزہ لینا آسان ہوگا۔

یہ مطالعہ خاص طور پر NASA کے Artemis پروگرام کے لیے اہم سمجھا جا رہا ہے، جس کا مقصد چاند کے جنوبی قطب کے قریب طویل مدتی انسانی موجودگی قائم کرنا ہے۔ سائنس دانوں کا ماننا ہے کہ مستقبل میں چاند پر قائم کیے جانے والے اڈوں اور وہاں کام کرنے والے خلا بازوں کی حفاظت یقینی بنانے کے لیے ایسے واقعات سے سیکھنا ضروری ہوگا۔

SpaceX نے بھی اشارہ دیا ہے کہ وہ NASA اور دیگر خلائی ایجنسیوں کے ساتھ مل کر مستقبل کے زمین-چاند مشنز کے لیے زیادہ محفوظ ڈسپوزل حکمت عملیوں پر کام کر رہا ہے۔ اس کا مقصد استعمال شدہ راکٹ حصوں کو کنٹرول شدہ طریقے سے ہٹانا اور مستقبل میں اس نوعیت کے غیر منصوبہ بند ٹکراؤ کے امکانات کو کم کرنا ہے۔

Leave a comment