SpaceX نے اپنے Satellite Servicing Mission کے تحت Falcon 9 راکٹ کے ذریعے Northrop Grumman کے Mission Robotic Vehicle (MRV) اور تین Mission Extension Pods (MEPs) کو کامیابی سے خلا میں بھیج دیا ہے۔ اس مشن کا مقصد پرانے جیو اسٹیشنری سیٹلائٹس کی آپریشنل مدت میں اضافہ کرنا اور مستقبل کی In-Orbit Servicing ٹیکنالوجی کو آگے بڑھانا ہے۔
SpaceX نے 21 جولائی کو فلوریڈا کے Cape Canaveral Space Force Station سے Falcon 9 راکٹ کے ذریعے Northrop Grumman کے Mission Robotic Vehicle (MRV) اور تین Mission Extension Pods (MEPs) کو کامیابی سے لانچ کیا۔ اس مشن کا آپریشن Northrop Grumman کی ذیلی کمپنی SpaceLogistics کر رہی ہے۔ یہ پہلا موقع ہے جب کمپنی کے نئے Life Extension Pods کو خلا میں بھیجا گیا ہے۔
Mission Robotic Vehicle کو امریکی Naval Research Laboratory کی تیار کردہ دو 10 فٹ لمبی روبوٹک بازوؤں سے لیس کیا گیا ہے۔ یہ گاڑی زمین سے تقریباً 35,786 کلومیٹر بلند Geostationary Orbit میں پہنچ کر تین مختلف سیٹلائٹس پر Mission Extension Pods نصب کرے گی۔ یہ Pods اضافی Propulsion اور Orbit Control فراہم کریں گے، جس سے متعلقہ سیٹلائٹس کی آپریشنل مدت تقریباً آٹھ سال تک بڑھائی جا سکے گی۔
اس مشن کے تحت آسٹریلیا کی سیٹلائٹ کمپنی Optus نے ایک Mission Extension Pod محفوظ کیا ہے، جبکہ Intelsat اپنے دو سیٹلائٹس کے لیے باقی دو Pods استعمال کرے گی۔ اس ٹیکنالوجی سے نئے سیٹلائٹس لانچ کرنے کی ضرورت کم ہو سکتی ہے اور موجودہ سیٹلائٹس کو زیادہ عرصے تک استعمال کیا جا سکے گا۔
Mission Robotic Vehicle صرف Pods نصب کرنے تک محدود نہیں رہے گا۔ اسے مستقبل میں سیٹلائٹس کو منتقل کرنے، ان کا معائنہ کرنے، مرمت کرنے اور اپ گریڈ کرنے جیسے کاموں کے لیے بھی ڈیزائن کیا گیا ہے۔ اس میں Passive Refueling Module بھی نصب کیا گیا ہے، جس کی مدد سے مستقبل میں اس روبوٹک گاڑی کو خلا میں ہی دوبارہ ایندھن فراہم کر کے زیادہ عرصے تک فعال رکھا جا سکے گا۔
یہ مشن Northrop Grumman کے Mission Extension Vehicle (MEV) پروگرام کا اگلا مرحلہ ہے۔ MEV-1 اور MEV-2 اس سے پہلے Intelsat کے سیٹلائٹس کی آپریشنل مدت بڑھانے میں کامیاب رہے تھے۔ تاہم، MRV-MEP مشن زیادہ جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ متعارف کرایا گیا ہے، کیونکہ ایک ہی روبوٹک گاڑی متعدد سیٹلائٹس پر الگ الگ Propulsion Pods نصب کر سکتی ہے۔







