اسپین میں بڑھتے ہوئے کرایوں اور مکانات کی قلت کا مسئلہ اب سیاسی بحث کا اہم موضوع بن گیا ہے۔ میڈرڈ میں 87 سالہ ماریا ڈیل کارمن اباسکل کو طویل عرصے سے رہائش پذیر گھر سے بے دخل کیے جانے کے بعد کرایہ داروں کے حقوق اور مہنگی رہائش کے خلاف ملک بھر میں احتجاج تیز ہوگیا۔ اس واقعے کے بعد حکومت نے کرایہ داروں کو ریلیف دینے کے لیے پارلیمنٹ میں دو ہنگامی بل پیش کیے۔
وزیراعظم پیڈرو سانچیز کی اقلیتی حکومت ان تجاویز کو منظور کرانے کے لیے ضروری پارلیمانی حمایت حاصل نہیں کرسکی۔ اس کے بعد سانچیز نے مقررہ وقت سے تقریباً آٹھ ماہ قبل عام انتخابات کرانے کا اعلان کیا۔ اسپین میں عام انتخابات 29 نومبر 2026 کو کرانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب اسپین میں کرایوں کی قیمتوں، محدود سستے مکانات اور مکان مالکان اور کرایہ داروں کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے حوالے سے سیاسی بحث میں تیزی آئی ہے۔
87 سالہ خاتون کی بے دخلی قومی مسئلہ بن گئی
یہ معاملہ 23 ستمبر کو میڈرڈ میں شروع ہوا، جب 87 سالہ اباسکل کو اس مکان سے باہر نکال دیا گیا جہاں وہ تقریباً سات دہائیوں سے رہ رہی تھیں۔ ان کا خاندان کئی برس سے اس جائیداد میں کرائے پر رہ رہا تھا۔
تنازع کا پس منظر 2018 میں اس وقت بنا جب مکان کے اصل مالک نے پوری عمارت ایک رئیل اسٹیٹ کمپنی کو فروخت کردی۔ اس کے بعد نئے مالک اور اباسکل کے درمیان کرائے کے معاملے پر تنازع شروع ہوگیا۔
رپورٹ کے مطابق کرایہ تقریباً 500 یورو سے بڑھا کر 2,650 یورو ماہانہ کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ اباسکل کی ماہانہ پنشن تقریباً 1,350 یورو بتائی گئی۔ اس فرق کے باعث وہ مجوزہ کرایہ ادا کرنے کی پوزیشن میں نہیں تھیں اور تنازع بالآخر قانونی کارروائی تک پہنچ گیا۔
بے دخلی کے بعد سامنے آنے والے مناظر اور تصاویر سوشل میڈیا اور میڈیا رپورٹس میں بڑے پیمانے پر نشر ہوئے۔ اس کے بعد یہ معاملہ صرف ایک بزرگ کرایہ دار کے تنازع تک محدود نہیں رہا بلکہ اسپین میں بڑھتے ہوئے رہائشی بحران کی علامت بن گیا۔
مہنگے کرایوں اور بے دخلی کے خلاف احتجاج
اباسکل کی بے دخلی کے بعد میڈرڈ سمیت کئی شہروں میں مہنگے کرایوں اور کرایہ داروں کو گھروں سے نکالے جانے کے خلاف مظاہرے ہوئے۔ مظاہرین نے حکومت سے کمزور طبقات کے لیے زیادہ مضبوط رہائشی تحفظ اور سستے کرایوں کا انتظام کرنے کا مطالبہ کیا۔
رہائشی بحران کے حوالے سے طویل عرصے سے جاری بے اطمینانی کو اس واقعے نے ایک نیا سیاسی مسئلہ بنا دیا۔ مظاہروں میں یہ سوال بھی اٹھایا گیا کہ کیا کسی بزرگ شخص کو اس کی پوری آمدنی سے کہیں زیادہ کرایہ ادا کرنے کی صورت میں اسی گھر میں برقرار رکھنا ممکن ہے۔
حکومت پر دباؤ بڑھنے کے بعد سانچیز انتظامیہ نے کمزور کرایہ داروں کو ریلیف دینے کے لیے پارلیمنٹ میں دو ہنگامی تجاویز پیش کیں۔
دونوں رہائشی تجاویز پارلیمنٹ میں منظور نہ ہوسکیں
29 ستمبر کو حکومت نے کرایہ داروں کو ریلیف دینے کے مقصد سے پارلیمنٹ میں دو ہنگامی بل پیش کیے۔ ان میں کمزور کرایہ داروں کے تحفظ میں اضافہ اور کرائے کے مکانات میں رہنے والے افراد کو اضافی وقت دینے جیسی تجاویز شامل تھیں۔
پہلی تجویز میں کمزور کرایہ داروں کو 2030 تک بے دخلی سے اضافی تحفظ دینے کا منصوبہ تھا۔ اس کے ساتھ کرایوں میں اضافے پر کچھ پابندیاں، بڑے سرمایہ کاروں کی جانب سے مکانات خریدنے پر حدود اور چھوٹے مکان مالکان اور کرایہ داروں کے لیے ٹیکس ریلیف جیسے اقدامات بھی تجویز کیے گئے تھے۔
دوسری تجویز میں موجودہ کرایہ معاہدوں کو توسیع دینے کی شق شامل تھی۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ معاہدے کی مدت ختم ہونے کے بعد کرایہ داروں کو فوری طور پر مکان خالی کرنے پر مجبور نہ کیا جائے اور انہیں اضافی وقت دیا جائے۔
تاہم سانچیز حکومت کے پاس پارلیمنٹ میں واضح اکثریت نہیں ہے۔ اس لیے مختلف سیاسی جماعتوں کی حمایت حاصل کرنا ضروری تھا۔ 2 اکتوبر کو ہونے والی ووٹنگ میں دونوں تجاویز مطلوبہ حمایت حاصل نہ کرسکیں۔
حکومت کو اتحادی جماعتوں کی حمایت بھی نہیں ملی
حکومت کی تجاویز کی مخالفت کرنے والی جماعتوں اور ارکان پارلیمنٹ نے مختلف اعتراضات اٹھائے۔ ان کا مؤقف تھا کہ کرائے کی مارکیٹ پر ضرورت سے زیادہ ضابطے نافذ کیے گئے تو مکان مالکان اپنے مکانات کرائے پر دینے سے پیچھے ہٹ سکتے ہیں۔
ناقدین کے مطابق اگر کرائے کے لیے دستیاب مکانات کی تعداد کم ہوتی ہے تو طلب اور رسد کے درمیان عدم توازن بڑھ سکتا ہے، جس سے دستیاب مکانات کے کرائے مزید بڑھنے کا خطرہ پیدا ہوسکتا ہے۔
چھوٹے مکان مالکان کے تحفظ کے حوالے سے بھی سوالات اٹھائے گئے۔ بعض اتحادی جماعتوں کا خیال تھا کہ حکومت کی تجاویز میں چھوٹے جائیداد مالکان کے خدشات کو مناسب اہمیت نہیں دی گئی۔
اس کے علاوہ اپوزیشن پاپولر پارٹی (PP) اور ووکس نے بھی حکومت کی رہائشی تجاویز کی حمایت نہیں کی۔ اس سے پارلیمنٹ میں قانون منظور کرانے کے حوالے سے سانچیز حکومت کے لیے چیلنج مزید بڑھ گیا۔
پیڈرو سانچیز نے قبل از وقت انتخابات کا اعلان کیا
رہائشی بلوں کی ناکامی نے حکومت کی پارلیمانی کمزوری کو ایک بار پھر نمایاں کردیا۔ تاہم قبل از وقت انتخابات کے پیچھے صرف رہائش کا مسئلہ نہیں تھا۔ سانچیز حکومت پہلے ہی محدود پارلیمانی حمایت کے باعث کئی سیاسی چیلنجز کا سامنا کر رہی تھی۔
پارلیمنٹ میں اکثریت کا فقدان
سانچیز حکومت کے پاس اپنے طور پر اکثریت نہیں ہے۔ 2023 میں حکومت بنانے کے لیے اسے علاقائی اور دیگر اتحادی جماعتوں کی حمایت درکار تھی۔ اس لیے ہر اہم بل کے لیے مذاکرات اور اتفاق رائے ضروری ہوجاتا ہے۔
بجٹ منظور کرانے میں مشکلات
حکومت 2023 کے بعد سے نیا مکمل بجٹ منظور کرانے میں مشکلات کا سامنا کرتی رہی ہے۔ یہ صورتحال پارلیمنٹ میں کافی حمایت حاصل کرنے کے حکومت کے چیلنج کو ظاہر کرتی ہے۔
بدعنوانی اور ہجرت کے مسائل
سانچیز حکومت کو بدعنوانی سے متعلق سیاسی الزامات اور ہجرت کی پالیسی پر بھی اپوزیشن کے دباؤ کا سامنا تھا۔ ان مسائل نے حکومت کی سیاسی صورتحال کو مزید پیچیدہ کردیا۔
جونٹس کے ساتھ تعلقات میں کشیدگی
کاتالونیا کی علیحدگی پسند جماعت جونٹس نے 2023 میں سانچیز کو دوبارہ حکومت بنانے کے لیے اہم حمایت فراہم کی تھی۔ تاہم بعد میں کئی معاملات پر دونوں کے درمیان اختلافات سامنے آئے۔ رہائشی تجاویز پر بھی حکومت کو جونٹس کی حمایت حاصل نہیں ہوسکی۔
اسپین میں رہائشی بحران
اسپین کا رہائشی بحران صرف کرایوں میں اضافے تک محدود نہیں ہے۔ ملک کے کئی حصوں میں سستے مکانات کی دستیابی اور بڑھتی ہوئی طلب کے درمیان بڑا فرق پیدا ہوگیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق ستمبر 2026 میں اسپین میں اوسط کرایہ تقریباً 15.1 یورو فی مربع میٹر تھا۔ اس شرح پر 80 مربع میٹر کے مکان کا ماہانہ کرایہ تقریباً 1,200 یورو تک پہنچ سکتا ہے۔
کم آمدنی والے خاندانوں کے لیے مسئلہ اس لیے بھی سنگین ہے کیونکہ سماجی یا سستے مکانات کی دستیابی محدود ہے۔ دستیاب اعداد و شمار کے مطابق اسپین کے مجموعی ہاؤسنگ اسٹاک میں سماجی رہائش کا حصہ تقریباً 1.5 فیصد بتایا جاتا ہے۔
کچھ علاقوں میں مقامی آمدنی کے مقابلے میں کرائے بہت تیزی سے بڑھے ہیں۔ رائٹرز کے حوالے سے سامنے آنے والے اعداد و شمار میں بعض معاملات میں کرایے کی لاگت ایک نوجوان کی اوسط ماہانہ آمدنی کے تقریباً 99 فیصد تک پہنچنے کی بات کہی گئی ہے۔
2028 تک 10 لاکھ سے زیادہ مکانات کی کمی کا خدشہ
اسپین کی ہاؤسنگ مارکیٹ کو درپیش بڑے چیلنجز میں طلب اور دستیاب مکانات کے درمیان فرق بھی شامل ہے۔ مرکزی بینک نے خبردار کیا ہے کہ اگر تعمیرات اور رہائش کی فراہمی کے مسئلے کو حل نہ کیا گیا تو 2028 تک 10 لاکھ سے زیادہ مکانات کی کمی ہوسکتی ہے۔
اس صورتحال سے کرایوں کی قیمتوں پر مزید دباؤ پڑ سکتا ہے۔ خاص طور پر بڑے شہروں اور مقبول سیاحتی علاقوں میں رہائش کی طلب مسلسل زیادہ رہنے کے باعث مقامی رہائشیوں کے لیے سستے مکانات تلاش کرنا مشکل ہوسکتا ہے۔
آئندہ انتخابات میں رہائشی بحران اہم مسئلہ
29 نومبر 2026 کو ہونے والے عام انتخابات میں اسپین کا رہائشی بحران اہم سیاسی مسائل میں شامل ہوسکتا ہے۔ ایک طرف حکومت کرایہ داروں اور کمزور طبقات کے تحفظ کے لیے زیادہ حکومتی مداخلت کی حمایت کر رہی ہے، جبکہ اپوزیشن جماعتوں کا مؤقف ہے کہ ضرورت سے زیادہ ضابطہ بندی سے نجی کرائے کی مارکیٹ میں مکانات کی دستیابی کم ہوسکتی ہے۔
87 سالہ اباسکل کا معاملہ اس بحث کو ایک انسانی پہلو فراہم کرتا ہے۔ تاہم ان کی ذاتی بے دخلی کو اسپین کے مجموعی رہائشی بحران کی واحد وجہ قرار نہیں دیا جاسکتا۔ اس واقعے نے مہنگے کرایوں، بزرگوں کے رہائشی تحفظ اور کمزور کرایہ داروں کے حقوق کو قومی سیاسی بحث کے مرکز میں ضرور لا دیا ہے۔






