دہلی میں مظاہروں، پولیس کارروائی، صحافیوں کے حقوق اور الیکشن کمیشن کی خصوصی گہری نظرثانی (SIR) مہم سے متعلق مقدمات میں سپریم کورٹ نے 15 اکتوبر کو اہم ہدایات جاری کیں۔ چیف جسٹس جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس جوی مالیا باگچی کی بنچ نے مختلف عرضیوں پر سماعت کرتے ہوئے متعلقہ فریقوں سے جواب طلب کیا اور ان مقدمات کی اگلی سماعتوں کی تاریخیں مقرر کیں۔
عدالت نے مقدمات کو الگ الگ گروپوں میں منظم کرنے، ڈیجیٹل شواہد محفوظ رکھنے اور بعض معاملات میں عبوری راحت دینے سے متعلق ہدایات بھی جاری کیں۔ ان مقدمات کی اگلی سماعت اکتوبر اور نومبر میں مقررہ تاریخوں پر ہوگی۔
سپریم کورٹ نے دہلی میں ہونے والے مظاہروں، پولیس کارروائی اور جنتر منتر پر احتجاج کی جگہ سے متعلق متعدد مقدمات کی اگلی سماعت 3 نومبر کو مقرر کی ہے۔ عدالت نے مرکزی حکومت کو نوٹس جاری کرکے متعلقہ معاملات میں جواب طلب کیا ہے۔ ان عرضیوں میں احتجاج کے حق، پولیس کارروائی اور انتظامی پابندیوں سمیت مختلف امور اٹھائے گئے ہیں۔
مقدمات کی منظم انداز میں سماعت کو یقینی بنانے کے لیے عدالت نے عرضی گزاروں اور مرکزی حکومت کی جانب سے پیش ہونے والے وکلا کو نوڈل وکلا مقرر کرنے کی ہدایت دی ہے۔ نوڈل وکلا کو 28 اکتوبر تک یکساں مسائل سے متعلق عرضیوں کو الگ الگ گروپوں میں ترتیب دینا ہوگا، تاکہ ہر گروپ کے لیے متعلقہ جوابات داخل کیے جا سکیں۔
مظاہروں اور پولیس کارروائی سے متعلق مقدمات میں سپریم کورٹ نے دستیاب سی سی ٹی وی فوٹیج اور دیگر ڈیجیٹل شواہد محفوظ رکھنے کا حکم دیا ہے۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ اگر نجی فریقوں کے پاس مقدمات سے متعلق کوئی ثبوت موجود ہے تو اسے عدالتی کارروائی کے تحت پیش کیا جا سکتا ہے۔
![]()
اس کے علاوہ، مرکزی حکومت کو بھارتی شہری تحفظ سنہتا (BNSS) کی دفعہ 163 کے تحت جاری متعلقہ احکامات عدالت کے سامنے پیش کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ ان میں 23 اگست 2026 کا حکم اور دیگر متعلقہ احکامات شامل ہیں۔ ان ہدایات کا مقصد مقدمات کی سماعت کے دوران دستیاب ریکارڈ اور شواہد کو محفوظ رکھنا ہے۔
ووٹر لسٹ کی خصوصی گہری نظرثانی (SIR) سے متعلق مقدمات کی اگلی سماعت 27 اکتوبر کو مقرر کی گئی ہے۔ سپریم کورٹ نے متعلقہ عرضیوں پر نوٹس جاری کرکے جواب طلب کیا ہے۔ عدالت نے ان عرضیوں کو پہلے سے زیر التوا ایک مقدمے کے ساتھ منسلک کرنے کی ہدایت بھی دی ہے۔
اسی گروپ میں شیوسینا (یو بی ٹی) کے رکن پارلیمنٹ سنجے راوت سے متعلق عرضی کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ دستیاب معلومات کے مطابق، عدالت نے ان کے طرز عمل اور چیف جسٹس نیز عدلیہ کے بارے میں کیے گئے تبصروں پر وضاحت طلب کی ہے۔ عرضی کو فی الحال قبول کرنے سے متعلق کارروائی میں اس وضاحت کی شرط بھی رکھی گئی ہے۔
ایک خاتون صحافی کے ساتھ مبینہ چھیڑ چھاڑ کی شکایت سے متعلق مقدمے میں سپریم کورٹ نے عبوری ہدایات جاری کی ہیں۔ عدالت نے فی الحال متعلقہ خاتون صحافی کے خلاف سخت کارروائی نہ کرنے کی ہدایت دی ہے۔
اس مقدمے کی اگلی سماعت 5 نومبر کو ہوگی۔ عدالت نے مرکزی حکومت کو نوٹس جاری کرتے ہوئے دو ہفتوں کے اندر جواب داخل کرنے کی ہدایت دی ہے۔ مقدمے میں لگائے گئے الزامات اور متعلقہ فریقوں کے جوابات پر آئندہ عدالتی کارروائی کے دوران غور کیا جائے گا۔
سپریم کورٹ نے بھارتی شہری تحفظ سنہتا (BNSS) کی دفعہ 172 کی آئینی حیثیت کو چیلنج کرنے والے مقدمے کی سماعت 19 نومبر کے لیے مقرر کی ہے۔ اسی تاریخ کو دفعہ 163 کے تحت جاری امتناعی احکامات کو چیلنج کرنے والی دو عرضیوں پر بھی سماعت ہوگی۔
ان مقدمات میں عدالت متعلقہ قانونی دفعات، ان کے استعمال اور عرضی گزاروں کے اعتراضات پر غور کرے گی۔ حتمی فیصلہ سماعت اور دستیاب قانونی ریکارڈ کی بنیاد پر کیا جائے گا۔
سپریم کورٹ کی ہدایات کے مطابق، متعلقہ فریقوں کو مقررہ مدت کے اندر اپنے جوابات اور ضروری دستاویزات پیش کرنا ہوں گی۔







