مغربی بنگال میں ووٹر فہرست کے خصوصی گہرے نظرثانی عمل (SIR) کو لے کر سیاسی تنازع ایک بار پھر تیز ہو گیا ہے۔ مغربی بنگال کے وزیر اعلیٰ شوبھندو ادھیکاری نے اتوار کو الزام عائد کیا کہ SIR کے دوران ووٹر فہرست سے حذف کیے گئے 27 لاکھ ناموں کی ذمہ داری سابق وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کی ہے، نہ کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (BJP) یا الیکشن کمیشن آف انڈیا (ECI) کی۔ ادھیکاری کے مطابق، ان ناموں کو حذف کرنے کا فیصلہ سپریم کورٹ کی ہدایات کے تحت عدالتی افسران نے کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے میں سپریم کورٹ سے رجوع بھی ممتا بنرجی کی جانب سے کیا گیا تھا۔ یہ ادھیکاری کا سیاسی الزام ہے، جبکہ SIR کے عمل سے متعلق سپریم کورٹ اور الیکشن کمیشن کے سامنے مختلف فریقوں کے دلائل جاری رہے ہیں۔
کولکاتا میں پریس کانفرنس کے دوران شوبھندو ادھیکاری نے کہا کہ 27 لاکھ نام حذف کیے جانے کی ذمہ داری ممتا بنرجی کی ہے اور اس کے لیے BJP یا الیکشن کمیشن کو ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔ ادھیکاری کے مطابق، عدالتی افسران نے سپریم کورٹ کی ہدایات کے تحت ان معاملات پر فیصلے کیے تھے۔ انہوں نے ممتا بنرجی پر اسمبلی انتخابات میں شکست کے بعد SIR سے متعلق ذمہ داری دوسرے فریقوں پر ڈالنے کا الزام بھی عائد کیا۔
الیکشن کمیشن کی جانب سے سپریم کورٹ میں دی گئی معلومات کے مطابق، مغربی بنگال میں SIR کے دوران تقریباً 27.16 لاکھ ووٹروں کے نام حذف کیے گئے تھے۔ ان میں سے 22.21 لاکھ سے زیادہ افراد نے اپنے نام دوبارہ شامل کرانے کے لیے اپیلیں دائر کی ہیں۔
ووٹر فہرست کی نظرثانی کو لے کر مغربی بنگال میں حکمران BJP اور اپوزیشن ترنمول کانگریس (TMC) کے درمیان سیاسی ٹکراؤ جاری ہے۔
TMC کی جانب سے الزام عائد کیا گیا ہے کہ SIR کے عمل سے حقیقی ووٹروں کے نام بھی متاثر ہوئے ہیں اور ایسے ووٹروں کے نام بحال کیے جانے چاہئیں۔ پارٹی نے الیکشن کمیشن کے طریقہ کار اور ووٹر فہرست سے نام حذف کیے جانے پر سوالات اٹھائے ہیں۔
اس کے جواب میں BJP رہنماؤں نے الیکشن کمیشن کے طریقہ کار کا دفاع کیا ہے۔ شوبھندو ادھیکاری نے بھی اتوار کو الیکشن کمیشن کے موقف کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ 27 لاکھ نام حذف کرنے کا فیصلہ BJP یا کمیشن کے کسی سیاسی فیصلے کا نتیجہ نہیں تھا۔
SIR تنازع کے درمیان الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ کو بتایا تھا کہ مغربی بنگال کی ووٹر فہرست سے 27.16 لاکھ نام حذف کیے گئے۔ کمیشن کے مطابق، ان میں سے 22.21 لاکھ ووٹروں نے اپنے نام دوبارہ شامل کرانے کے لیے اپیلیں دائر کی ہیں۔
مجموعی طور پر SIR سے متعلق معاملات میں 38.31 لاکھ اپیلیں دائر کی گئی تھیں۔ ان میں 22.21 لاکھ اپیلیں حذف کیے گئے ناموں کو دوبارہ شامل کرانے سے متعلق تھیں، جبکہ 16.10 لاکھ اپیلیں ایسے ووٹروں کے نام حذف کرنے کے مطالبے سے متعلق تھیں جنہیں عدالتی افسران نے فہرست میں شامل کیا تھا۔ الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ کو یہ بھی بتایا تھا کہ اپیلوں کی سماعت کے لیے 19 اپیلیٹ ٹریبونلز قائم کیے گئے ہیں۔ کمیشن نے زیر التوا معاملات کو تیزی سے نمٹانے کے لیے ٹریبونلز کی تعداد بڑھانے کی تجویز بھی دی تھی۔
اس تنازع کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ SIR کے آخری مرحلے میں بڑی تعداد میں ووٹروں کے معاملات کی جانچ عدالتی افسران کے ذریعے کرائی گئی تھی۔
انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق، فروری 2026 میں سپریم کورٹ نے SIR کے آخری مرحلے کو الیکشن کمیشن کے براہ راست کنٹرول سے ہٹا کر تقریباً 60 لاکھ ووٹروں کے معاملات کی جانچ عدالتی افسران سے کرانے کی ہدایت دی تھی، جن کے ریکارڈ میں ’’منطقی تضادات‘‘ کی نشاندہی کی گئی تھی۔ اس کے بعد 27 لاکھ نام حذف کیے گئے۔
ان فیصلوں کے خلاف اپیلوں کی سماعت کے لیے ریٹائرڈ ہائی کورٹ ججوں کی سربراہی میں اپیلیٹ ٹریبونلز تشکیل دیے گئے۔ یہی عمل اب ووٹر فہرست میں نام دوبارہ شامل کرانے کے لیے دائر اپیلوں کا حصہ ہے۔
شوبھندو ادھیکاری نے SIR پر ممتا بنرجی کی مخالفت کے حوالے سے سیاسی سوال بھی اٹھایا۔ انہوں نے پوچھا کہ اگر کیرالا میں SIR قابل قبول ہے تو مغربی بنگال میں اس پر اعتراض کیوں کیا جا رہا ہے۔
ادھیکاری نے اسمبلی انتخابات کے نتائج کا بھی حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ BJP نے 208 نشستیں جیتی ہیں، جبکہ TMC اور اس کے اتحادیوں کے پاس 80 نشستیں ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ممتا بنرجی انتخابی نتائج کو قبول نہیں کر پا رہی ہیں۔
یہ بیان ادھیکاری کے سیاسی ردعمل کا حصہ ہے۔ ووٹر فہرست اور SIR کو لے کر TMC اور BJP کے درمیان تنازع انتخابی نتائج اور انتخابی عمل سے متعلق وسیع تر سیاسی الزامات اور جوابی الزامات میں تبدیل ہو گیا ہے۔
شوبھندو ادھیکاری کے اتوار کے بیان سے ایک روز قبل ممتا بنرجی نے سیرام پور میں ایک ریلی سے خطاب کیا تھا۔ انہوں نے SIR اور ووٹر فہرست کے معاملے پر الیکشن کمیشن اور BJP کو نشانہ بنایا تھا۔ ممتا بنرجی اور TMC مسلسل مطالبہ کر رہے ہیں کہ جن حقیقی ووٹروں کے نام ووٹر فہرست سے حذف کیے گئے ہیں، انہیں بحال کیا جائے۔
اس سیاسی تنازع کے درمیان الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ کے سامنے SIR سے متعلق اعداد و شمار اور عمل کے بارے میں اپنا موقف پیش کیا ہے۔ کمیشن نے ان دعووں کو بھی چیلنج کیا ہے جن میں SIR کے تحت حذف کیے گئے ناموں کو براہ راست اسمبلی انتخابات کے نتائج سے جوڑنے کی کوشش کی گئی ہے۔
SIR تنازع کے درمیان الیکشن کمیشن کے تین رکنی ڈھانچے کی کارروائی کو لے کر بھی بحث تیز ہوئی ہے۔ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار اور الیکشن کمشنروں سکھبیر سنگھ سندھو اور وویک جوشی کے درمیان SIR سے متعلق بعض فیصلوں پر مبینہ اختلافات کے حوالے سے انڈین ایکسپریس نے ایک تحقیقاتی رپورٹ شائع کی تھی۔ رپورٹ کے مطابق، دونوں الیکشن کمشنروں نے مختلف مواقع پر SIR سے متعلق بعض فیصلوں پر اعتراضات درج کیے تھے۔ ان میں ووٹروں کے نام حذف کرنے اور متعلقہ اپیلوں کے عمل سے متعلق سوالات بھی شامل تھے۔
تاہم، الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ اندرونی غور و خوض کے دوران اختلاف رائے معمول کے عمل کا حصہ ہے اور کمیشن کی جانب سے لیے گئے حتمی فیصلے اتفاق رائے سے کیے گئے تھے۔ اس لیے رپورٹ میں درج مبینہ اعتراضات اور کمیشن کے سرکاری موقف کو الگ الگ تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔
SIR تنازع کا ایک اہم پہلو زیر التوا اپیلوں کی تعداد بھی ہے۔ الیکشن کمیشن نے ستمبر میں سپریم کورٹ کو بتایا تھا کہ SIR سے متعلق مجموعی 38,20,683 اپیلوں میں سے صرف 1,02,231 معاملات کا فیصلہ ہوا تھا، جبکہ 37,18,452 اپیلیں زیر التوا تھیں۔
اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ووٹر فہرست میں نام شامل کرنے یا حذف کرنے سے متعلق تنازع کا بڑا حصہ ابھی اپیلیٹ عمل میں ہے۔ ایسے میں 27 لاکھ نام حذف کیے جانے سے متعلق سیاسی الزامات کے ساتھ ان معاملات کے حتمی تصفیے کی اہمیت بھی برقرار ہے۔
مغربی بنگال میں SIR اب صرف ووٹر فہرست کی انتظامی نظرثانی کا معاملہ نہیں رہا بلکہ یہ انتخابی عمل، ووٹر کے حقوق اور الیکشن کمیشن کے کردار سے متعلق سیاسی بحث کا اہم موضوع بن چکا ہے۔ ایک جانب BJP اور وزیر اعلیٰ شوبھندو ادھیکاری الیکشن کمیشن اور عدالتی عمل کا دفاع کر رہے ہیں، جبکہ دوسری جانب TMC حقیقی ووٹروں کے نام حذف کیے جانے کا الزام عائد کرتے ہوئے بحالی کا مطالبہ کر رہی ہے۔ اس پورے تنازع سے متعلق معاملات پر سپریم کورٹ اور اپیلیٹ ٹریبونلز میں عمل جاری ہے۔
27 لاکھ ناموں کے حوالے سے شوبھندو ادھیکاری نے ممتا بنرجی پر سیاسی ذمہ داری ڈالنے کا الزام عائد کیا ہے، تاہم نام حذف کرنے کے عمل اور اس سے متعلق انفرادی اپیلوں کا حتمی فیصلہ متعلقہ عدالتی اور انتخابی عمل کے تحت ہی ہوگا۔ اسی لیے سیاسی الزامات اور باضابطہ طور پر قائم حقائق کے درمیان فرق برقرار رکھنا ضروری ہے۔




