بھارت کی 17 سالہ بیڈمنٹن کھلاڑی تنوی شرما نے تائپے اوپن سپر 300 بیڈمنٹن ٹورنامنٹ 2026 کا خواتین سنگلز ٹائٹل جیت لیا۔ فائنل میں انہوں نے ویتنام کی چھٹی سیڈ کھلاڑی تھوئی لنہ نگوین کو براہ راست گیمز میں 21-16، 21-16 سے شکست دے کر اپنے کیریئر کا پہلا BWF ورلڈ ٹور ٹائٹل حاصل کیا۔
فائنل میں 36 منٹ میں فتح
تائپے میں کھیلے گئے خواتین سنگلز فائنل میں تنوی شرما نے آغاز سے ہی جارحانہ کھیل پیش کیا۔ پہلے گیم میں انہوں نے تیزی سے پوائنٹس حاصل کرتے ہوئے 10-2 کی بڑی برتری حاصل کر لی۔ درمیان میں چند اَن فورسڈ ایررز کے باوجود انہوں نے اپنا توازن برقرار رکھا اور پہلا گیم 21-16 سے جیت لیا۔
دوسرے گیم میں ویتنام کی تھوئی لنہ نگوین نے 3-0 کی ابتدائی برتری حاصل کرکے واپسی کی کوشش کی۔ تاہم تنوی نے مسلسل پوائنٹس حاصل کرتے ہوئے اسکور برابر کیا اور اس کے بعد مقابلے پر کنٹرول برقرار رکھا۔ انہوں نے دوسرا گیم بھی 21-16 سے جیت کر صرف 36 منٹ میں ٹائٹل اپنے نام کر لیا۔
پہلا BWF ورلڈ ٹور ٹائٹل
یہ تنوی شرما کے کیریئر کا پہلا BWF ورلڈ ٹور ٹائٹل ہے۔ اس سے قبل وہ گزشتہ سال یو ایس اوپن سپر 300 میں رنر اپ رہی تھیں۔ اس تجربے کا فائدہ انہیں اس بار فائنل میں واضح طور پر ملا۔ کم عمری میں اس سطح کا ٹائٹل جیتنا ظاہر کرتا ہے کہ تنوی آنے والے برسوں میں عالمی بیڈمنٹن کی بڑی کھلاڑیوں میں شامل ہو سکتی ہیں۔
سائنا نہوال کے بعد نیا ریکارڈ
اس فتح کے ساتھ تنوی شرما نے بھارتی بیڈمنٹن کی تاریخ میں اپنا نام درج کرا لیا۔ وہ 2008 میں سائنا نہوال کے بعد تائپے اوپن خواتین سنگلز کا ٹائٹل جیتنے والی پہلی بھارتی کھلاڑی بن گئی ہیں۔ سائنا کی تاریخی کامیابی کے تقریباً دو دہائیوں بعد کسی بھارتی خاتون کھلاڑی کا اس ٹورنامنٹ میں چیمپئن بننا بھارتی بیڈمنٹن کے لیے باعث فخر لمحہ قرار دیا جا رہا ہے۔
ٹورنامنٹ کی سب سے کم عمر فائنلسٹ
17 سال اور 222 دن کی عمر میں تنوی شرما تائپے اوپن کی تاریخ کی سب سے کم عمر فائنلسٹ بھی بن گئی ہیں۔ انہوں نے جنوبی کوریا کے لی یونگ ڈے کا پرانا ریکارڈ پیچھے چھوڑ دیا، جنہوں نے 2006 میں 17 سال اور 287 دن کی عمر میں فائنل کھیلا تھا۔ یہ ریکارڈ تنوی کی مسلسل پیش رفت اور بین الاقوامی سطح پر تیزی سے ابھرتی صلاحیت کا ثبوت ہے۔
کوچ پارک تے سانگ کو فتح منسوب
ٹائٹل مقابلہ جیتنے کے بعد تنوی شرما کا ایک جذباتی لمحہ بھی دیکھنے میں آیا۔ انہوں نے اپنا طلائی تمغہ اپنے کوچ پارک تے سانگ کے گلے میں ڈال کر ان کے لیے احترام اور تشکر کا اظہار کیا۔ پارک تے سانگ اس سے قبل بھی بھارتی بیڈمنٹن میں اہم کردار ادا کر چکے ہیں اور اولمپک تمغہ یافتہ پی وی سندھو کے ساتھ بھی کام کر چکے ہیں۔ تنوی کی کامیابی میں ان کی کوچنگ اور حکمت عملی کا اہم کردار سمجھا جا رہا ہے۔
بھارتی بیڈمنٹن کے لیے مثبت اشارہ
حالیہ برسوں میں بھارتی بیڈمنٹن نے عالمی سطح پر مسلسل اپنی شناخت مضبوط کی ہے۔ پی وی سندھو، سائنا نہوال، لکشیہ سین اور ساتوک سائی راج-چراگ شیٹی جیسے کھلاڑیوں کی کامیابی کے بعد اب نئی نسل بھی بین الاقوامی سطح پر اثر چھوڑ رہی ہے۔ تنوی شرما کی یہ فتح ظاہر کرتی ہے کہ بھارت کے پاس آنے والے برسوں کے لیے باصلاحیت کھلاڑیوں کی ایک مضبوط نئی کھیپ تیار ہے۔
فتح کی اہمیت
تائپے اوپن سپر 300 جیسے معتبر ٹورنامنٹ میں ٹائٹل جیتنا کسی بھی نوجوان کھلاڑی کے اعتماد کو نئی بلندی دیتا ہے۔ اس سے عالمی درجہ بندی میں بہتری کے ساتھ مستقبل کے بڑے ٹورنامنٹس میں بہتر سیڈنگ اور مواقع ملنے کے امکانات بھی بڑھ جاتے ہیں۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اگر تنوی اسی طرح مسلسل کارکردگی کا مظاہرہ کرتی رہیں تو وہ جلد سپر 500، سپر 750 اور عالمی چیمپئن شپ جیسے بڑے مقابلوں میں بھی بھارت کی مضبوط دعوے دار بن سکتی ہیں۔
بھارتی کھیل شائقین میں جوش
تنوی شرما کی تاریخی فتح کے بعد کھیل شائقین اور سابق کھلاڑیوں نے انہیں مبارک باد دی۔ سماجی ذرائع ابلاغ پر بھی ان کی کامیابی کو وسیع پیمانے پر سراہا گیا۔ کئی لوگوں نے انہیں بھارتی بیڈمنٹن کا اگلا بڑا ستارہ قرار دیا۔ یہ کامیابی ملک کے نوجوان کھلاڑیوں کے لیے بھی اس بات کی ترغیب ہے کہ محنت، نظم و ضبط اور درست رہنمائی کے ذریعے کم عمری میں بھی عالمی سطح پر کامیابی حاصل کی جا سکتی ہے۔





