جنوبی ہندوستان کے سپر اسٹار تھلپتی وجے کی آخری فلم ‘جن نایکن’ کی ریلیز سے متعلق غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔ سنٹرل بورڈ آف فلم سرٹیفکیشن کی جانب سے سینسر سرٹیفکیٹ جاری نہ ہونے کے باعث یہ فلم پہلے پونگل کے موقع پر 9 جنوری کو ریلیز ہونے والی تھی، تاہم اسے ملتوی کر دیا گیا۔ قانونی کارروائیوں اور سینسر بورڈ سے جڑے تنازعات کے باعث فلم کی ریلیز کی تاریخ تاحال طے نہیں ہو سکی ہے۔
ریلیز میں حائل رکاوٹ کے بعد فلم کے پروڈیوسرز نے مدراس ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا۔ اس معاملے میں سنگل جج پی ٹی آشا نے سینسر بورڈ کو فلم کو ‘U/A’ سرٹیفکیٹ جاری کرنے کی ہدایت دی تھی۔ تاہم سینسر بورڈ نے اس حکم کے خلاف اپیل دائر کرتے ہوئے عبوری حکم امتناع حاصل کر لیا، جس کے بعد سماعت ملتوی ہو گئی۔ بعد ازاں معاملہ سپریم کورٹ تک پہنچا، لیکن عدالت نے سماعت سے انکار کرتے ہوئے دوبارہ ہائی کورٹ جانے کی ہدایت دی۔
اس کے بعد مدراس ہائی کورٹ نے سابقہ حکم کو منسوخ کرتے ہوئے نئے سرے سے سماعت کا حکم دیا ہے۔ اب یہ کیس دوبارہ سنگل جج کے روبرو سنا جائے گا۔ اس عمل کے نتیجے میں فلم کی ریلیز مزید کئی ماہ تک مؤخر ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے، جس کے پیش نظر پروڈیوسرز نے عدالتی مقدمہ واپس لینے کا فیصلہ کیا ہے۔
‘جن نایکن’ کی ہدایتکاری ایچ ونود نے کی ہے جبکہ اسے کے وی این پروڈکشنز نے پروڈیوس کیا ہے۔ سینسر بورڈ نے فلم کے چند مناظر کو فوج کی شبیہ اور مذہبی جذبات سے متعلق حساس قرار دیا تھا۔ ابتدائی جانچ کمیٹی نے کچھ کٹ لگانے کے بعد ‘U/A’ سرٹیفکیٹ کی سفارش کی تھی، تاہم بورڈ کے چیئرمین پرسُون جوشی نے فلم کو ریویو کمیٹی کے پاس بھیج دیا۔
ریویو کمیٹی کے ایک رکن کی جانب سے فلم کے خلاف شکایت درج کیے جانے کے بعد معاملہ مزید پیچیدہ ہو گیا۔ اس کے نتیجے میں فلم کی ریلیز مسلسل ملتوی ہوتی رہی ہے۔
سینسر سرٹیفکیٹ کے بغیر ‘جن نایکن’ کو سنیما گھروں میں ریلیز کرنا ممکن نہیں ہے۔ ایسی صورتحال میں پروڈیوسرز دو ممکنہ راستوں پر غور کر رہے ہیں۔ پہلا یہ کہ سینسر بورڈ کے ساتھ دوبارہ جانچ کا عمل مکمل کیا جائے، اور دوسرا یہ کہ عدالتی راستہ ترک کر کے فلم کو او ٹی ٹی پلیٹ فارم کے ذریعے ریلیز کیا جائے۔ ماضی میں بھی بعض فلمیں سینسر تنازعات کے باعث سنیما گھروں میں ریلیز نہ ہو سکیں اور انہیں او ٹی ٹی یا ترمیم شدہ ورژنز کے ذریعے پیش کیا گیا۔




