فتح گڑھ صاحب میں کار کی ٹکر سے تین کانوڑیوں کی موت، ایک شدید زخمی

پنجاب کے فتح گڑھ صاحب میں سرہند جی ٹی روڈ پر کار کی ٹکر سے تین کانوڑیوں کی موت ہوگئی جبکہ ایک شدید زخمی ہے۔ اسمبلی اسپیکر نے ہلاک افراد کے اہل خانہ کو 2-2 لاکھ روپے کی مالی امداد اور زخمی کے مفت علاج کا اعلان کیا ہے۔

پنجاب کے فتح گڑھ صاحب میں سرہند جی ٹی روڈ پر اتوار کی صبح پیش آنے والے سڑک حادثے میں تین کانوڑیوں کی موت ہوگئی، جبکہ ایک کانوڑیا شدید زخمی ہے۔ کانوڑیوں کا گروپ گنگوتری سے مقدس پانی لے کر فرید کوٹ کے کوٹک پورہ واپس جا رہا تھا، اسی دوران ایک کار نے انہیں ٹکر مار دی۔

پولیس کے مطابق کانوڑیوں کا گروپ سڑک سے گزر رہا تھا، تبھی ایک کار نے انہیں ٹکر مار دی۔ حادثے میں چار کانوڑیے متاثر ہوئے، جن میں تین کی موت ہوگئی جبکہ ایک شدید زخمی ہے۔

حادثے کے بعد مقامی لوگوں اور دیگر افراد کی مدد سے زخمیوں کو فوری طور پر فتح گڑھ صاحب کے سول اسپتال پہنچایا گیا۔ ڈاکٹروں نے تین کانوڑیوں کو مردہ قرار دے دیا، جبکہ زخمی کا علاج جاری ہے۔

معلومات کے مطابق کانوڑیوں کا یہ گروپ اتراکھنڈ کے گنگوتری سے مقدس پانی لے کر پنجاب کے فرید کوٹ ضلع کے کوٹک پورہ واپس جا رہا تھا۔ اسی دوران سرہند جی ٹی روڈ پر ایک تیز رفتار کار نے گروپ کو ٹکر مار دی۔

حادثے میں ہلاک ہونے والوں کی شناخت مہندر پال عرف گگن (43)، دیپک کمار (42) اور جگدیش متل عرف کالو (40) کے طور پر ہوئی ہے۔ تینوں کوٹک پورہ کے رہنے والے بتائے گئے ہیں۔

حادثے پر پنجاب اسمبلی کے اسپیکر کلتار سنگھ سندھواں نے افسوس کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے ہلاک ہونے والوں کے اہل خانہ کو 2-2 لاکھ روپے کی مالی امداد دینے کا اعلان کیا ہے۔ اس کے علاوہ حادثے میں زخمی کانوڑیا کے علاج کا خرچ حکومت کی جانب سے اٹھانے کی بات کہی گئی ہے۔

اسپیکر نے حادثے میں تین افراد کی موت کو انتہائی افسوس ناک قرار دیتے ہوئے متاثرہ خاندانوں سے تعزیت کی اور مرحومین کی روح کے سکون کے لیے دعا کی۔

پولیس نے حادثے کے سلسلے میں مقدمہ درج کر لیا ہے۔ اے ایس آئی تلک راج کے مطابق، حادثے کے بعد کار ڈرائیور موقع سے فرار ہوگیا۔ پولیس اس کی شناخت اور تلاش کے لیے تحقیقات کر رہی ہے۔

پولیس حادثے کی وجوہات کا بھی پتہ لگا رہی ہے۔ جائے حادثہ اور آس پاس کی معلومات جمع کرنے کے ساتھ کار ڈرائیور سے متعلق سراغ تلاش کیے جا رہے ہیں۔ معاملے میں مزید کارروائی تحقیقات مکمل ہونے کے بعد کی جائے گی۔

 

Leave a comment