ٹیلی کام ریگولیٹری اتھارٹی آف انڈیا (TRAI) نے 5G نیٹ ورک سلائسنگ سے متعلق نئے مسودہ رہنما اصول جاری کیے ہیں۔ مجوزہ قواعد کا مقصد 5G خدمات کی توسیع کے ساتھ عام موبائل صارفین کی انٹرنیٹ سروس کے معیار کو محفوظ رکھنا اور ٹیلی کام کمپنیوں کے لیے واضح سروس معیارات مقرر کرنا ہے۔
5G نیٹ ورک سلائسنگ کے لیے TRAI کی نئی تجاویز
ٹیلی کام ریگولیٹری اتھارٹی آف انڈیا (TRAI) نے 5G نیٹ ورک سلائسنگ سے متعلق مسودہ قواعد جاری کیے ہیں۔ ان تجاویز کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ 5G ٹیکنالوجی کے بڑھتے ہوئے استعمال کے باوجود عام انٹرنیٹ صارفین کی سروس کا معیار متاثر نہ ہو۔ TRAI نے ان رہنما اصولوں کی تیاری کے دوران یورپی یونین، برطانیہ، فرانس اور امریکہ جیسے ممالک کے ریگولیٹری فریم ورک کا مطالعہ کیا ہے۔
TRAI کا ماننا ہے کہ 5G نیٹ ورک سلائسنگ مستقبل کی ڈیجیٹل صنعتوں، اسمارٹ مینوفیکچرنگ، ہیلتھ کیئر، آٹومیشن اور دیگر جدید خدمات کے لیے ایک اہم ٹیکنالوجی ہے۔ تاہم، اس کے ساتھ صارفین کے مفادات کا تحفظ بھی اتنا ہی ضروری ہے۔
5G نیٹ ورک سلائسنگ ٹیکنالوجی
5G نیٹ ورک سلائسنگ ایک ایسی ٹیکنالوجی ہے جس میں ایک ہی 5G نیٹ ورک کو کئی ورچوئل حصوں، یعنی ’سلائسز‘، میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ ہر سلائس کو مختلف استعمال اور ضرورت کے مطابق اسپیڈ، بینڈوڈتھ اور نیٹ ورک ترجیح دی جا سکتی ہے۔
TRAI نے تجویز دی ہے کہ ایک جیسی انٹرنیٹ سروس فراہم کرنے والی تمام نیٹ ورک سلائسز کو یکساں معیار اور یکساں ترجیح ملنی چاہیے۔ اس سے کسی مخصوص سروس یا صارف کے ساتھ امتیازی سلوک کا امکان کم ہوگا اور سب کو بہتر نیٹ ورک تجربہ مل سکے گا۔
4G اور 5G کے ٹیرف پلان الگ ہو سکتے ہیں
مجوزہ قواعد نافذ ہونے کے بعد ٹیلی کام کمپنیاں 4G، 5G اور دیگر خصوصی خدمات کے لیے الگ الگ ٹیرف پلان پیش کر سکیں گی۔ تاہم، صرف زیادہ اسپیڈ کا دعویٰ کرکے مہنگے پلان فروخت کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔
کمپنیوں کو ہر پلان میں فراہم کی جانے والی ڈاؤن لوڈ اور اپ لوڈ اسپیڈ کے بارے میں واضح معلومات دینی ہوں گی۔ اگر کسی صارف کو مشتہر کردہ یا وعدہ کی گئی اسپیڈ مسلسل نہیں ملتی تو اسے ریگولیٹری خلاف ورزی سمجھا جا سکتا ہے اور متعلقہ کمپنی کے خلاف کارروائی کی جا سکتی ہے۔
عام صارفین کی سروس کے معیار پر توجہ
TRAI نے انٹرنیٹ سروس کا معیار برقرار رکھنے کے لیے کچھ کم از کم معیارات بھی تجویز کیے ہیں۔ مسودے کے مطابق، پیک آورز کے دوران ٹیلی کام کمپنیوں کو اپنے 5G نیٹ ورک کی کم از کم 80 فیصد صلاحیت دستیاب رکھنی ہوگی۔
اس کے علاوہ، کسی بھی علاقے میں 1 فیصد سے زیادہ نیٹ ورک سیلز 80 فیصد سے زیادہ صلاحیت پر اوورلوڈ نہیں ہونے چاہئیں۔ ان معیارات کا مقصد نیٹ ورک پر ضرورت سے زیادہ دباؤ کو کم کرنا اور عام صارفین کو مستحکم انٹرنیٹ اسپیڈ فراہم کرنا ہے۔
صارفین اور ٹیلی کام کمپنیوں پر اثر
اگر ان تجاویز کو حتمی طور پر نافذ کیا جاتا ہے تو موبائل صارفین کو اپنے پلان کی حقیقی اسپیڈ اور نیٹ ورک کی کارکردگی کے بارے میں زیادہ شفاف معلومات حاصل ہوں گی۔ اس سے صارفین کے لیے سروس کے معیار کی بنیاد پر بہتر انتخاب کرنا آسان ہوگا۔
دوسری جانب، ٹیلی کام کمپنیوں کو اپنے 5G نیٹ ورک کا بہتر انتظام کرنا ہوگا اور سروس کے معیار کے لیے مقررہ معیارات کی پابندی یقینی بنانی ہوگی۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس سے بھارت میں 5G خدمات کی توسیع زیادہ منظم ہوگی اور صارفین کو بہتر نیٹ ورک تجربہ ملنے کے امکانات بڑھیں گے۔






