امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چین کے صدر شی جن پنگ کے درمیان جمعرات کو وائٹ ہاؤس میں دوطرفہ ملاقات ہوئی۔ ملاقات سے قبل ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں شی جن پنگ کا باضابطہ استقبال کیا۔ دنیا کی دو سب سے بڑی معیشتوں کے درمیان تجارت، مصنوعی ذہانت (AI)، سیمی کنڈکٹرز، نایاب معدنیات، تائیوان اور ایران سمیت مختلف معاملات پر اختلافات برقرار رہنے کے دوران یہ ملاقات ہوئی۔
ملاقات کے دوران شی جن پنگ نے امریکا اور چین کے تعلقات کو تصادم کے بجائے تعاون کی سمت لے جانے کا پیغام دیا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان ’ریس ہو، ریسلنگ نہیں‘، یعنی مقابلہ ہونا چاہیے، ایسی لڑائی نہیں جس میں ایک فریق کی جیت اور دوسرے کی ہار ہو۔
ٹرمپ نے ملاقات کو اچھا قرار دیا اور دونوں ممالک کے تعلقات کے حوالے سے مثبت اشارے دیے۔ یہ ملاقات ایسے وقت ہوئی جب دونوں فریق 2025 میں طے پانے والی تجارتی مفاہمت کو آگے بڑھانے اور وسیع تر کشیدگی کو قابو میں رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
شی جن پنگ نے تصادم کے بجائے مقابلے پر زور دیا
شی جن پنگ نے ملاقات میں امریکا اور چین کے درمیان تعاون کی اہمیت پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کے لیے مل کر کام کرنا فائدہ مند ہے، جبکہ تصادم دونوں فریقوں کے مفادات کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔
’ریس ہو، ریسلنگ نہیں‘ کے ان کے پیغام نے امریکا-چین تعلقات میں اسٹریٹجک مسابقت اور کھلے تصادم کے درمیان فرق کو واضح کیا۔ دونوں ممالک ٹیکنالوجی، تجارت اور عالمی اثر و رسوخ کے شعبوں میں مسابقت کر رہے ہیں، تاہم ساتھ ہی اقتصادی تعلقات کو مستحکم رکھنے کی کوشش بھی کر رہے ہیں۔
شی کا دورہ امریکا 23 سے 25 ستمبر تک طے تھا اور چھ ماہ کے اندر ٹرمپ اور شی کے درمیان یہ دوسری بالمشافہ ملاقات تھی۔ چین کی وزارت خارجہ نے اس دورے کو دونوں ممالک کے درمیان بات چیت بڑھانے اور اختلافات کو منظم کرنے کی کوشش کے طور پر پیش کیا تھا۔
جوائنٹ بیس اینڈریوز پر ٹرمپ نے شی جن پنگ کا استقبال کیا
شی جن پنگ جمعرات کو امریکا پہنچے۔ اس کے بعد ٹرمپ نے میری لینڈ میں واقع جوائنٹ بیس اینڈریوز جا کر ان کا استقبال کیا۔ ٹرمپ کے ساتھ خاتون اول میلانیا ٹرمپ بھی موجود تھیں، جبکہ شی جن پنگ کے ساتھ ان کی اہلیہ پینگ لی یوان بھی امریکا پہنچی تھیں۔
اس کے بعد شی جن پنگ کا وائٹ ہاؤس میں باضابطہ استقبال کیا گیا۔ دونوں رہنماؤں نے اوول آفس میں ملاقات کی اور بعد میں دونوں ممالک سے متعلق وسیع تر معاملات پر بات چیت کی۔
شی کے دورے کو امریکا-چین تعلقات میں ایک سفارتی پیش رفت کے طور پر دیکھا گیا، کیونکہ دونوں ممالک گزشتہ برسوں میں تجارت اور تکنیکی پابندیوں سے لے کر اسٹریٹجک اور سکیورٹی معاملات تک متعدد محاذوں پر آمنے سامنے رہے ہیں۔
11 سال بعد وائٹ ہاؤس پہنچے شی جن پنگ
شی جن پنگ تقریباً 11 سال بعد وائٹ ہاؤس پہنچے۔ اس سے قبل انہوں نے 2015 میں اس وقت کے امریکی صدر براک اوباما کے دورِ صدارت میں وائٹ ہاؤس کا دورہ کیا تھا۔
2015 میں امریکا اور چین کے درمیان موسمیاتی تبدیلی، تجارت، سائبر سکیورٹی اور اقتصادی تعاون جیسے موضوعات اہم تھے۔ موجودہ دور میں دونوں ممالک کے تعلقات کا ایجنڈا AI، سیمی کنڈکٹرز، ایڈوانسڈ کمپیوٹنگ، نایاب معدنیات، تجارت اور اسٹریٹجک ٹیکنالوجی جیسے معاملات تک پھیل گیا ہے۔ اس کے ساتھ تائیوان اور عالمی سکیورٹی سے متعلق معاملات بھی دونوں ممالک کے تعلقات کو متاثر کر رہے ہیں۔
تجارتی کشیدگی کے درمیان اقتصادی معاملات پر بات چیت
ٹرمپ انتظامیہ اور چین کے درمیان تجارتی کشیدگی اس ملاقات کے پس منظر میں اہم معاملات میں سے ایک رہی۔ امریکا طویل عرصے سے چین کے ساتھ تجارتی عدم توازن، چینی مصنوعات اور اسٹریٹجک صنعتوں سے متعلق پالیسیوں پر سوال اٹھاتا رہا ہے۔ دوسری جانب چین امریکی ٹیرف اور تکنیکی پابندیوں کی مخالفت کرتا رہا ہے۔
دونوں ممالک نے تجارتی کشیدگی کو قابو میں رکھنے کے لیے معاہدوں اور عارضی انتظامات کا سہارا لیا ہے۔ موجودہ بات چیت کا ایک مقصد ان انتظامات کو آگے بڑھانا اور تجارتی تنازع دوبارہ شدت اختیار کرنے سے روکنا ہے۔ Reuters کے مطابق، 2025 میں قائم ہونے والے تجارتی انتظام کو برقرار رکھنا دونوں رہنماؤں کے سامنے اہم چیلنجز میں سے ایک ہے۔
تجارت کے علاوہ نایاب معدنیات، امریکی ٹیکنالوجی اور چپس، زرعی مصنوعات اور مارکیٹ تک رسائی بھی وسیع اقتصادی تعلقات کے اہم معاملات ہیں۔
AI کے شعبے میں امریکا-چین مسابقت
مصنوعی ذہانت امریکا اور چین کے درمیان ابھرتی ہوئی اسٹریٹجک مسابقت کا ایک اہم شعبہ بن چکی ہے۔
امریکا ایڈوانسڈ AI چپس اور جدید ترین ٹیکنالوجی کی چین تک رسائی کے حوالے سے برآمدی کنٹرول نافذ کرتا رہا ہے۔ چین ان پابندیوں کی مخالفت کرتا ہے اور اپنی داخلی تکنیکی صلاحیت کو فروغ دینے پر زور دیتا ہے۔
ملاقات سے قبل سامنے آنے والی رپورٹس میں بھی AI کو ٹرمپ-شی مذاکرات کے اہم موضوعات میں شامل بتایا گیا تھا۔
AI کے حوالے سے دونوں ممالک کی مسابقت صرف کاروبار تک محدود نہیں ہے۔ اس میں کمپیوٹنگ صلاحیت، چپ سازی، ڈیٹا، سائبر سکیورٹی اور مستقبل کے تکنیکی معیارات پر اثر و رسوخ جیسے معاملات بھی شامل ہیں۔ تاہم موجودہ ملاقات سے ایسے کسی وسیع تر معاہدے کی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔
تائیوان اور ایران پر اختلافات برقرار
امریکا اور چین کے تعلقات میں تائیوان سب سے حساس سکیورٹی معاملات میں سے ایک ہے۔ چین تائیوان کو اپنے علاقے کا حصہ سمجھتا ہے، جبکہ امریکا تائیوان کے ساتھ سکیورٹی تعلقات برقرار رکھتا ہے اور اسے فوجی امداد فراہم کرتا ہے۔
تائیوان کے معاملے پر امریکا اور چین کے درمیان اسٹریٹجک مسابقت طویل عرصے سے جاری ہے۔ ٹرمپ-شی ملاقات کے تناظر میں بھی تائیوان کو اہم معاملات میں شامل کیا گیا تھا۔
دوسرا معاملہ ایران ہے۔ ایران کے حوالے سے امریکا اور چین کی پالیسیوں میں اختلاف ہے۔ امریکا ایران پر اقتصادی اور سیاسی دباؤ برقرار رکھنے کی کوشش کرتا رہا ہے، جبکہ چین کے ایران کے ساتھ اقتصادی اور توانائی کے تعلقات ہیں۔
امریکا-ایران جنگ اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال نے اس معاملے کو مزید اہم بنا دیا ہے۔ ٹرمپ-شی مذاکرات سے قبل رپورٹس میں بھی ایران کو ملاقات کے ممکنہ ایجنڈے میں شامل کیا گیا تھا۔
وائٹ ہاؤس میں میڈیا رسائی پر تنازع
ٹرمپ-شی ملاقات کے روز وائٹ ہاؤس میں میڈیا کی رسائی سے متعلق ایک الگ تنازع بھی سامنے آیا۔
ایک وفاقی جج نے CNN، MS NOW اور Politico کے صحافیوں کے وائٹ ہاؤس پریس ایکسس کو بحال کرنے کا حکم دیا تھا۔ اس کے باوجود جمعرات کی صبح کچھ صحافیوں کو احاطے میں داخلے کی اجازت نہیں دی گئی، جس کے بعد تینوں میڈیا اداروں نے عدالت سے فوری سماعت کی درخواست کی۔
CNN کی رپورٹنگ کے مطابق، عدالت نے اس سے قبل صحافیوں کے پریس بیجز واپس لینے کی کارروائی میں مناسب آئینی طریقہ کار پر عمل نہ کیے جانے کے حوالے سے سوال اٹھایا تھا۔
بعد میں صحافیوں کو وائٹ ہاؤس میں داخلے کی اجازت دے دی گئی۔ اس تنازع کے باعث ٹرمپ-شی ملاقات کی ابتدائی میڈیا کوریج بھی متاثر ہوئی۔
امریکا-چین تعلقات کے لیے ملاقات کی اہمیت
ٹرمپ اور شی کی ملاقات دونوں ممالک کے اقتصادی اور سفارتی تعلقات کے تناظر میں ہوئی۔ امریکا اور چین کے اقتصادی تعلقات عالمی تجارت، تکنیکی سپلائی چینز اور مالیاتی منڈیوں سے جڑے ہوئے ہیں۔
دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی بڑھنے کی صورت میں سیمی کنڈکٹرز، الیکٹرانکس، توانائی اور نایاب معدنیات جیسی اسٹریٹجک سپلائی چینز متاثر ہو سکتی ہیں۔ دوسری جانب تجارتی کشیدگی کم ہونے سے کمپنیوں اور عالمی منڈیوں کو زیادہ مستحکم کاروباری ماحول مل سکتا ہے۔
ملاقات میں دونوں ممالک کی جانب سے بات چیت جاری رکھنے اور کشیدگی کو قابو میں رکھنے کی خواہش کے اشارے ملے۔ تاہم تجارت، AI، تائیوان، تکنیکی برآمدات اور ایران سمیت مختلف معاملات پر اختلافات برقرار ہیں۔





