تشار کپور سے 5 کروڑ روپے تاوان طلب، ہیری باکسر کی آواز سے دھمکی آمیز آڈیو کا میل نہیں

اداکار تشار کپور سے 5 کروڑ روپے تاوان طلب کرنے والے شخص کی آواز ہیری باکسر کے صوتی نمونوں سے مطابقت نہیں رکھتی۔ ممبئی کرائم برانچ اصل ملزم کی شناخت کے لیے تحقیقات کر رہی ہے۔

بالی ووڈ اداکار تشار کپور سے فون پر پانچ کروڑ روپے تاوان طلب کرنے کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ فون کرنے والے شخص نے اپنی شناخت لارنس بشنوئی گینگ کے رکن ہیری باکسر کے طور پر کرائی تھی۔ تاہم، پولیس نے دھمکی آمیز فون کال کی آڈیو ریکارڈنگ کا موازنہ ہیری باکسر کی سابقہ آواز کے نمونوں سے کیا تو دونوں آوازوں میں مطابقت نہیں پائی گئی۔ اس کے بعد ممبئی کرائم برانچ نے اصل ملزم کی شناخت کے لیے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

تشار کپور سے پانچ کروڑ روپے کا مطالبہ

میڈیا رپورٹس کے مطابق، تشار کپور کو تقریباً ایک ہفتہ قبل دھمکی آمیز فون کال موصول ہوئی تھی۔ فون کرنے والے شخص نے خود کو ہیری باکسر بتایا اور دعویٰ کیا کہ وہ لارنس بشنوئی گینگ سے وابستہ ہے۔ اس کے بعد اس نے اداکار سے پانچ کروڑ روپے دینے کا مطالبہ کیا۔

تشار کپور نے اس واقعے کی اطلاع ممبئی پولیس کو دی تھی۔ اس کے بعد معاملے کی تحقیقات ممبئی کرائم برانچ اور اس کے اینٹی ایکسٹورشن سیل کے حوالے کر دی گئیں۔ پولیس نے سب سے پہلے دھمکی دینے والے شخص کی شناخت معلوم کرنے کی کوشش شروع کی۔

فون کرنے والے شخص کی جانب سے لارنس بشنوئی گینگ کا نام لیے جانے کے باعث ابتدائی طور پر اس معاملے کو مذکورہ گینگ سے جوڑ کر دیکھا جا رہا تھا۔ تاہم، تحقیقات کے دوران سامنے آنے والی معلومات نے فون کرنے والے شخص کی اصل شناخت کے حوالے سے شکوک پیدا کر دیے۔

ہیری باکسر کی آواز سے دھمکی آمیز آڈیو کا میل نہیں

ممبئی کرائم برانچ نے تشار کپور کو موصول ہونے والی دھمکی آمیز فون کال کی آڈیو ریکارڈنگ کا جائزہ لیا۔ پولیس کے پاس پہلے سے ہیری باکسر کی آواز کے کچھ نمونے موجود تھے۔ تفتیشی افسران نے دھمکی آمیز کال کی ریکارڈنگ کا ان پرانے نمونوں سے موازنہ کیا۔

اس جانچ میں دونوں آوازوں کے درمیان مماثلت نہیں پائی گئی۔ اس کے بعد پولیس کو شبہ ہوا کہ فون کرنے والا شخص اصل ہیری باکسر نہیں تھا۔

پولیس کو خدشہ ہے کہ کسی شخص نے لارنس بشنوئی گینگ کا نام استعمال کرکے اداکار سے رقم وصول کرنے کی کوشش کی ہو۔ تاہم، صرف آواز میں مماثلت نہ ہونے کی بنیاد پر یہ نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ دھمکی دینے والے شخص کا کسی گینگ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

پولیس فون کال کے مقام اور اس کے پیچھے موجود شخص کی شناخت معلوم کرنے کے لیے تکنیکی معلومات سمیت دیگر شواہد کی جانچ کر رہی ہے۔

ایک ہفتہ قبل دھمکی موصول ہوئی، اب تک ایف آئی آر درج نہیں

پولیس ذرائع کے مطابق، تشار کپور نے تقریباً ایک ہفتہ قبل اس دھمکی کے بارے میں اطلاع دی تھی۔ اس کے بعد سے کرائم برانچ اس معاملے کی تحقیقات کر رہی ہے۔

3 نومبر تک سامنے آنے والی معلومات کے مطابق، اس معاملے میں اب تک ایف آئی آر درج نہیں کی گئی ہے۔ پولیس فی الحال اس شخص کی شناخت کرنے کی کوشش کر رہی ہے جس نے ہیری باکسر بن کر تاوان طلب کیا تھا۔

تحقیقات میں اس پہلو کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے کہ آیا کسی شخص نے گینگ کا نام استعمال کرکے خوف پیدا کرنے اور رقم وصول کرنے کی کوشش کی تھی۔ اب تک کسی ملزم کی شناخت یا گرفتاری کی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔ اس معاملے میں اصل ہیری باکسر کا کردار بھی ثابت نہیں ہوا ہے۔

پولیس کی تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی یہ واضح ہو سکے گا کہ دھمکی دینے والا شخص کون تھا اور اس نے تشار کپور کو ہی کیوں نشانہ بنایا۔

ٹائیگر شراف کی گاڑی پر بھی فائرنگ ہوئی تھی

تشار کپور کو دھمکی ملنے سے قبل ممبئی میں اداکار ٹائیگر شراف کی گاڑی پر فائرنگ کا واقعہ سامنے آیا تھا۔ 18 اکتوبر کو جوہو علاقے میں کچھ افراد نے ان کی گاڑی پر گولیاں چلائی تھیں۔

اس واقعے میں ٹائیگر شراف محفوظ رہے تھے، تاہم ان کے ڈرائیور اور ایک آٹو رکشہ ڈرائیور کے زخمی ہونے کی خبریں سامنے آئی تھیں۔

اس واقعے کے بعد سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ سامنے آئی تھی، جس میں لارنس بشنوئی گینگ کے نام سے حملے کی ذمہ داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا گیا تھا۔ تاہم، پولیس نے اس دعوے کی تصدیق نہیں کی تھی۔ حملہ آوروں کو گرفتار کرنے کے لیے ممبئی پولیس نے مختلف ٹیمیں تشکیل دی تھیں۔

تشار کپور کو ملنے والی دھمکی کے بعد فلمی شخصیات کی سکیورٹی کا معاملہ ایک بار پھر زیر بحث آ گیا ہے۔ تاہم، ٹائیگر شراف کی گاڑی پر فائرنگ اور تشار کپور کو ملنے والی دھمکی کے درمیان اب تک کوئی براہ راست تعلق سامنے نہیں آیا ہے۔

تشار کپور کے معاملے میں پولیس کی ابتدائی تحقیقات سے صرف یہ شبہ ظاہر ہوا ہے کہ کسی شخص نے گینگ کا نام استعمال کرکے دھمکی دی ہو سکتی ہے۔

Leave a comment