امریکہ اور ایران آبنائے ہرمز کھولنے اور کشیدگی کم کرنے پر اصولی اتفاق کے قریب

امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے، آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے اور جوہری و عسکری امور سے متعلق ایک مجوزہ اصولی معاہدے پر پیش رفت کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، تاہم اس کی حتمی منظوری تاحال امریکی صدر اور ایران کے سپریم لیڈر سے ہونا باقی ہے۔

امریکہ اور ایران کے درمیان طویل عرصے سے جاری کشیدگی اور عسکری تناؤ کو ختم کرنے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے حوالے سے ایک سفارتی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ سینئر امریکی حکام کے حوالے سے موصولہ معلومات کے مطابق دونوں ممالک جنگ کو مرحلہ وار ختم کرنے اور تزویراتی اہمیت کی حامل آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے پر اصولی اتفاقِ رائے کے قریب پہنچ گئے ہیں۔ تاہم معاہدے پر تاحال دستخط نہیں ہوئے اور اس کے نفاذ کے لیے امریکی صدر اور ایران کی اعلیٰ ترین قیادت کی باضابطہ منظوری درکار ہے۔

ذرائع کے مطابق مجوزہ فریم ورک میں آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر دوبارہ کھولنا، ایران کے افزودہ (Enriched) یورینیم ذخائر کو ختم یا کنٹرول کرنا، دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے مرحلہ وار عسکری تناؤ میں کمی، اور بین الاقوامی نگرانی کے تحت جوہری مواد سے متعلق شقوں پر عمل درآمد شامل ہے۔

ذرائع کے مطابق یورینیم ذخائر کے انتظام اور منتقلی سے متعلق تکنیکی اور سیاسی سطح پر بات چیت تاحال جاری ہے۔ امریکی مؤقف یہ ہے کہ یہ مواد امریکی کنٹرول یا بین الاقوامی نگرانی میں رکھا جائے۔

امریکی حکام نے واضح کیا ہے کہ یہ کوئی دستخط شدہ معاہدہ نہیں اور اسے حتمی شکل دینے سے قبل دو اہم رہنماؤں کی منظوری ضروری ہوگی، جن میں امریکہ کے صدر اور ایران کے سپریم لیڈر شامل ہیں۔ حکام کے مطابق اس عمل میں چند روز یا اس سے زیادہ وقت لگ سکتا ہے کیونکہ دونوں ممالک میں داخلی سیاسی مشاورت جاری ہے۔

امریکی صدر نے ایک عوامی بیان میں کہا ہے کہ وہ کسی جلدبازی میں فیصلہ نہیں کریں گے اور تمام پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد ہی آئندہ اقدام کیا جائے گا۔

آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی رسد کے لیے ایک اہم بحری گزرگاہ ہے جہاں سے دنیا کے بڑے حصے کا خام تیل اور گیس گزرتی ہے۔ مجوزہ معاہدے کے تحت ایران اس راستے پر کسی بھی قسم کی ناکہ بندی یا پابندی ختم کرنے پر رضامند ہوگا جبکہ بین الاقوامی جہاز رانی اور توانائی کی فراہمی کو مستحکم کرنے کی کوشش کی جائے گی اور عالمی تیل منڈی میں عدم استحکام کم کرنے کی کوشش ہوگی۔

ماہرین کے مطابق اگر یہ راستہ مستقل طور پر کھلتا ہے تو عالمی توانائی کی قیمتوں میں کمی آسکتی ہے۔

امریکہ اور ایران آبنائے ہرمز کھولنے اور کشیدگی کم کرنے پر اصولی اتفاق کے قریب

ایرانی حکومت نے اشارہ دیا ہے کہ کسی بھی بڑے تزویراتی فیصلے پر عمل درآمد ملک کے سپریم لیڈر کی منظوری کے بغیر ممکن نہیں۔ ایرانی صدر کے حالیہ بیان کے مطابق قومی سلامتی سے متعلق فیصلے اعلیٰ قیادت کے ذریعے کیے جائیں گے جبکہ خارجہ پالیسی سے متعلق حتمی فیصلہ مرکزی قیادت کے پاس ہے۔ بیان کے مطابق امریکہ کے ساتھ مذاکرات ابتدائی اور حساس مرحلے میں ہیں۔

ایران نے عمان کے ذریعے امریکہ کو ایک باضابطہ پیغام بھی بھیجا ہے، جس سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ ثالثی کا کردار اب بھی اہم ہے۔

اس ممکنہ معاہدے کے حوالے سے اسرائیل میں تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ ایک اسرائیلی عہدیدار کے مطابق اگر یہ معاہدہ نافذ ہوتا ہے تو ایران کو علاقائی سطح پر زیادہ تزویراتی فائدہ حاصل ہو سکتا ہے۔ اسرائیل کی تشویش کے مطابق ایران اپنی جغرافیائی سیاسی حیثیت مضبوط کر سکتا ہے، مستقبل میں آبنائے ہرمز کو دباؤ کے ایک ذریعے کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے اور علاقائی طاقت کے توازن پر اثر پڑ سکتا ہے۔

امریکہ میں بھی اس معاملے پر سیاسی بحث جاری ہے۔ ڈیموکریٹ ارکانِ کانگریس نے جنگی حکمت عملی اور اس کے نتائج پر سوالات اٹھائے ہیں۔ ایک سینئر امریکی قانون ساز نے کہا کہ اگر جنگ ختم ہوتی ہے تو یہ ایک مثبت پیش رفت ہوگی، تاہم اس سے قبل کی تزویراتی غلطیوں کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔

اسی قانون ساز کے مطابق تنازع کے دوران بھاری انسانی اور معاشی نقصان ہوا، امریکہ اپنے اعلان کردہ اہداف مکمل طور پر حاصل نہیں کر سکا اور ایران کی عسکری و سیاسی حیثیت توقع سے زیادہ مضبوط برقرار رہی۔

بین الاقوامی سیاسی ماہرین کے مطابق یہ تنازع صرف علاقائی مسئلہ نہیں بلکہ عالمی توانائی کے تحفظ سے بھی وابستہ ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق مغربی ایشیا میں کشیدگی نے عالمی تیل منڈی کو متاثر کیا، توانائی کی قیمتوں میں مسلسل اتار چڑھاؤ برقرار رہا اور متعدد ممالک کی معیشتیں براہِ راست متاثر ہوئیں۔

بعض ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ تنازع تزویراتی غلط اندازوں کے باعث طویل ہوا جس کے نتیجے میں عالمی سطح پر توانائی کا بحران مزید گہرا ہوا۔

تاحال اس معاہدے کا باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا، تاہم دونوں فریقوں کے درمیان مذاکرات کی سطح اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ کشیدگی کم کرنے کے لیے پیش رفت جاری ہے۔ آئندہ دنوں میں معاہدے کی حتمی منظوری اور نفاذ، مذاکرات کے طویل ہونے اور شرائط میں تبدیلی، یا سیاسی اختلافات کے باعث عمل کی سست روی یا تعطل جیسے امکانات موجود ہیں۔

اگر یہ معاہدہ نافذ ہوتا ہے تو ماہرین کے مطابق اس کے مغربی ایشیا میں طویل عرصے سے جاری کشیدگی اور عالمی توانائی و سلامتی پر اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

 

Leave a comment