خلیج عمان میں امریکی کارروائی کے بعد امریکہ ایران کشیدگی میں اضافہ

خلیج عمان میں امریکی نیوی کی کارروائی کے بعد امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی بڑھی، ایران نے ڈرون حملوں کا دعویٰ کیا اور آبنائے ہرمز پر سخت مؤقف اختیار کیا جبکہ جوہری معاہدے پر اختلافات برقرار ہیں۔

خلیجِ عمان میں امریکی نیوی کی جانب سے ایک ایرانی کارگو جہاز کے خلاف کی گئی کارروائی کے بعد امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی دوبارہ بڑھ گئی ہے۔ ایران نے جواب میں ڈرون حملوں کا دعویٰ کیا ہے اور آبنائے ہرمز کے حوالے سے سخت مؤقف اختیار کیا ہے، جبکہ جوہری معاہدے پر دونوں ممالک کے درمیان اختلافات برقرار ہیں۔

امریکی نیوی کے مطابق مشتبہ سرگرمیوں کے باعث ایک ایسے ایرانی کارگو جہاز کو روکنے کی کوشش کی گئی جو ملائیشیا سے ایران جا رہا تھا۔ انتباہ کے باوجود جہاز نہ رکنے پر اس پر میزائل داغا گیا جس سے اس کا انجن ناکارہ ہو گیا۔

یہ واقعہ حالیہ جنگ بندی کے چند ہی دن بعد پیش آیا، جسے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے اہم قرار دیا جا رہا تھا۔ اس پیش رفت کے بعد پہلے سے موجود تناؤ میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔

خلیج عمان میں امریکی کارروائی کے بعد امریکہ ایران کشیدگی میں اضافہ

ایران نے اس کارروائی کو اشتعال انگیز قرار دیا ہے اور امریکی جنگی جہازوں پر ڈرون حملوں کے ذریعے جواب دینے کا دعویٰ کیا ہے۔ تہران نے کہا ہے کہ اگر امریکہ نے ناکہ بندی ختم نہ کی تو اس کے سنگین نتائج ہوں گے۔

آبنائے ہرمز کے حوالے سے ایران پہلے ہی خبردار کر چکا ہے کہ وہ اسے اسی صورت کھلا رکھے گا جب اس پر عائد پابندیاں ہٹائی جائیں گی۔ یہ علاقہ عالمی تیل کی ترسیل کے لیے اہم ہے، اس لیے کسی بھی کشیدگی کے عالمی منڈیوں پر اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

کشیدگی کے باوجود بات چیت کی کوششیں جاری ہیں۔ اسلام آباد میں ممکنہ مذاکرات کے لیے ایک مسودہ تیار ہونے کی اطلاع ہے، جس میں دونوں فریقین کی شرائط شامل ہیں۔

امریکہ کا مطالبہ ہے کہ ایران طویل مدت کے لیے یورینیم افزودگی بند کرے، جبکہ ایران محدود مدت کے لیے ہی آمادہ ہے۔ اس کے بدلے ایران اپنی منجمد شدہ اثاثوں کی واپسی اور اقتصادی پابندیوں میں نرمی کا خواہاں ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان یہ اختلافات فی الحال برقرار ہیں۔

 

Leave a comment