امریکی ٹیرف میں کمی کے بعد روپیہ مضبوط
بھارت پر عائد امریکی ٹیرف کی شرح 50 فیصد سے کم کر کے 18 فیصد کیے جانے کے بعد بھارتی روپیہ امریکی ڈالر کے مقابلے میں 1.2 فیصد مضبوط ہوا۔ منگل، 3 فروری 2026 کو روپیہ 90.40 کی سطح پر کھلا، جو گزشتہ کئی مہینوں میں سب سے بڑی بہتری کی عکاسی کرتا ہے۔
بازار کا رجحان اور غیر ملکی سرمایہ کاری
ٹیرف میں کمی کے بعد مارکیٹ کا رجحان بہتر ہوا ہے۔ فاریکس تاجروں کے مطابق اس فیصلے سے عالمی سطح پر بھارت کی معاشی صورتحال پر اعتماد میں اضافہ ہوا ہے اور غیر ملکی ادارہ جاتی سرمایہ کاروں کی واپسی کے امکانات بڑھے ہیں۔
انٹر بینک مارکیٹ میں روپے کی کارکردگی
انٹر بینک غیر ملکی زرمبادلہ مارکیٹ میں روپیہ 90.30 پر کھلا، جو گزشتہ بند سطح 91.49 کے مقابلے میں 119 پیسے کی بہتری کو ظاہر کرتا ہے۔ ڈالر انڈیکس 0.20 فیصد کمی کے ساتھ 97.43 پر آ گیا۔
خام تیل کی قیمتیں اور کرنسی پر اثر
برینٹ کروڈ فیوچرز 0.41 فیصد کمی کے ساتھ 66.03 ڈالر فی بیرل پر کاروبار کر رہے تھے۔ تیل کی قیمتوں میں استحکام اور ڈالر کی کمزوری نے روپے کو سہارا دیا۔
غیر ملکی سرمایہ کاروں کی سرگرمیاں
شیئر بازار کے اعداد و شمار کے مطابق غیر ملکی ادارہ جاتی سرمایہ کاروں نے پیر کو 1,832.46 کروڑ روپے کے شیئر فروخت کیے۔ اس کے باوجود ٹیرف میں کمی اور مثبت عالمی اشاروں کے باعث روپیہ مضبوط رہا۔
شعبہ جاتی اثرات
ٹیرف میں کمی سے برآمدات پر مبنی شعبوں پر اثر پڑا ہے۔ فارما، آئی ٹی، آٹو پارٹس اور ٹیکسٹائل شعبوں کو اس فیصلے سے براہ راست فائدہ پہنچا ہے۔ فارما شعبے میں امریکی مارکیٹ کا حصہ تقریباً 30 سے 40 فیصد ہے۔ آئی ٹی شعبے میں ضابطہ جاتی رکاوٹیں کم ہوئی ہیں۔ آٹو پارٹس شعبے میں برآمدی رکاوٹیں گھٹنے سے عالمی سپلائی چین میں بھارت کا کردار مضبوط ہوا ہے۔ ٹیکسٹائل شعبے میں بھی امریکی مارکیٹ تک رسائی میں اضافہ ہوا ہے۔









