ویدانتا ڈی مرجر کے بعد قائم ہونے والی ویدانتا آئل اینڈ گیس لمیٹڈ (سابقہ مالکو انرجی لمیٹڈ) نے 30 جون 2026 کو ختم ہونے والی پہلی سہ ماہی (Q1 FY27) کے مالی نتائج جاری کر دیے ہیں۔ کمپنی نے اس مدت کے دوران اپنے تیل اور گیس کے کاروبار میں آپریشنل سطح پر بہتر کارکردگی درج کی ہے۔
بھارت کے کان کنی اور قدرتی وسائل کے شعبے کے نمایاں کاروباری گروپ ویدانتا کی تنظیمِ نو (Vedanta Demerger) کے بعد قائم ہونے والی ویدانتا آئل اینڈ گیس لمیٹڈ نے مالی سال 2026-27 کی پہلی سہ ماہی (Q1 FY27) میں ₹945 کروڑ کا مجموعی خالص منافع درج کیا ہے۔ گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں کمپنی کو تقریباً ₹104 کروڑ کا مجموعی خالص نقصان ہوا تھا۔
یہ سہ ماہی نتائج ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ویدانتا گروپ اپنے کاروبار کو الگ الگ فہرست شدہ اداروں میں تقسیم کر کے زیادہ مرکوز اور قدر پر مبنی کاروباری ماڈل تیار کرنے کی حکمت عملی پر عمل کر رہا ہے۔
اسٹاک ایکسچینج کو فراہم کردہ معلومات کے مطابق اپریل تا جون 2026 کی سہ ماہی میں کمپنی کا مجموعی خالص منافع ₹945 کروڑ رہا، جبکہ گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں تقریباً ₹104 کروڑ کا مجموعی خالص نقصان درج کیا گیا تھا۔
مالی نتائج کے مطابق کمپنی کی آپریشنز سے آمدنی (Revenue from Operations) بڑھ کر ₹2,507 کروڑ ہو گئی، جو گزشتہ سال کی اسی مدت میں ₹2,311 کروڑ تھی۔ پہلی سہ ماہی میں کمپنی کی کل آمدنی (Total Income) ₹2,658 کروڑ رہی۔
ویدانتا گروپ کی جانب سے نافذ کردہ ڈی مرجر کا عمل یکم مئی 2026 سے مؤثر ہوا تھا۔ اس تنظیمِ نو کے تحت ویدانتا لمیٹڈ کے آئل اینڈ گیس کاروبار کو ویدانتا آئل اینڈ گیس لمیٹڈ کو منتقل کیا گیا۔ اس کے ساتھ ہی کمپنی کے بعض غیر بنیادی کاروبار، جن میں پاور، نیکومیٹ اور کوک کاروبار شامل ہیں، گروپ کی دیگر اکائیوں کو منتقل کیے گئے۔ اس عمل کے نتیجے میں کمپنی کو تقریباً ₹1,056 کروڑ کا غیر معمولی منافع (Exceptional Gain) حاصل ہوا۔
کمپنی کے مطابق اس کے مجموعی خالص منافع میں اضافے کی ایک اہم وجہ 'ڈسکنٹینیوڈ آپریشنز' (Discontinued Operations) یعنی بند یا منتقل کیے گئے کاروباروں سے حاصل ہونے والا منافع بھی رہا۔
مالی نتائج مثبت رہنے کے باوجود کمپنی کو بعض چیلنجز کا سامنا ہے۔ کمپنی نے بتایا کہ گجرات میں واقع کیمبے بلاک (CB-OS/2) کے پروڈکشن شیئرنگ کنٹریکٹ (PSC) میں توسیع کے معاملے پر وزارتِ پیٹرولیم و قدرتی گیس کے ساتھ قانونی تنازع جاری ہے۔ دہلی ہائی کورٹ کی سنگل بینچ کی جانب سے کمپنی کی درخواست مسترد کیے جانے کے بعد کمپنی نے اس فیصلے کے خلاف اپیل دائر کر دی ہے۔ اس معاملے میں غیر یقینی صورتحال کے پیش نظر کمپنی نے احتیاطی اقدام کے طور پر ₹379 کروڑ کا امپیرمنٹ چارج (Impairment Charge) درج کیا ہے۔










