آج راجیہ سبھا انتخابات 2026 کے تحت 37 نشستوں کے لیے ووٹنگ کا عمل شروع ہو گیا۔ مہاراشٹر، اوڈیشا، تمل ناڈو، مغربی بنگال، آسام، بہار، چھتیس گڑھ، ہریانہ، ہماچل پردیش اور تلنگانہ سمیت 10 ریاستوں میں ووٹنگ ہو رہی ہے۔ ووٹنگ آج صبح سے شروع ہوئی اور شام چار بجے تک جاری رہے گی۔ ووٹنگ ختم ہونے کے فوراً بعد ووٹوں کی گنتی بھی کی جائے گی، اور نتائج آج ہی سامنے آنے کی توقع ہے۔
یہ انتخابات بھارتیہ جنتا پارٹی (BJP) کی قیادت والے نیشنل ڈیموکریٹک الائنس (NDA) اور اپوزیشن جماعتوں کے لیے اہم تصور کیے جا رہے ہیں۔ این ڈی اے کے لیے یہ موقع ہے کہ وہ ایوانِ بالا میں اپنی 130 سے زائد نشستوں، جن میں نامزد ارکان بھی شامل ہیں، کے ساتھ اپنی اکثریت کو مزید مضبوط کرے۔ دوسری جانب اپوزیشن جماعتوں کے لیے یہ ایک مشکل انتخاب ہے کیونکہ انہیں اپنے مضبوط سیاسی گڑھوں میں بعض نشستیں کھونے کا خدشہ ہے۔
راجیہ سبھا ایک مستقل ایوان ہے اور اس کے انتخابات ہر دو سال بعد ہوتے ہیں
راجیہ سبھا لوک سبھا سے مختلف ہے۔ لوک سبھا کی مدت پانچ سال ہوتی ہے اور اسے تحلیل کیا جا سکتا ہے، جبکہ راجیہ سبھا ایک مستقل ایوان ہے اور اس کا کام کبھی بند نہیں ہوتا۔ راجیہ سبھا کے ہر رکن کی مدتِ رکنیت چھ سال ہوتی ہے، تاہم تمام ارکان کی مدت ایک ساتھ ختم نہیں ہوتی۔
ہر دو سال بعد راجیہ سبھا کے ایک تہائی ارکان ریٹائر ہو جاتے ہیں۔ ان کی مدت ختم ہونے کے بعد ان نشستوں کو پُر کرنے کے لیے انتخابات منعقد کیے جاتے ہیں۔ اس نظام کا مقصد یہ ہے کہ ایوان میں ہمیشہ تجربہ کار ارکان موجود رہیں اور کارروائی تسلسل کے ساتھ جاری رہے۔ یہ طریقہ کار راجیہ سبھا کو مستحکم اور مؤثر بنانے میں مدد دیتا ہے۔
ریاستوں میں سیاسی پوزیشن
راجیہ سبھا انتخابات میں مختلف ریاستوں کی اسمبلیوں کی سیاسی صورتحال اور اتحاد اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ مہاراشٹر میں بھارتیہ جنتا پارٹی اور اس کی اتحادی جماعتوں کا اثر و رسوخ موجود ہے، جس کی وجہ سے وہاں این ڈی اے امیدواروں کو برتری ملنے کا امکان بتایا جا رہا ہے۔
![]()
تمل ناڈو میں ڈی ایم کے کی قیادت والا اتحاد مضبوط پوزیشن میں ہے، اس لیے وہاں ان کی جیت کے امکانات زیادہ بتائے جا رہے ہیں۔ مغربی بنگال میں ممتا بنرجی کی جماعت ٹی ایم سی کو ریاستی اسمبلی میں اکثریت حاصل ہے، جس کی وجہ سے راجیہ سبھا انتخابات میں ٹی ایم سی کو فائدہ ملنے کی توقع کی جا رہی ہے۔
بہار میں مقابلہ سخت رہنے کی توقع ہے جہاں این ڈی اے اور مہاگٹھ بندھن کے درمیان مقابلہ ہوگا۔ اس مرتبہ آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (AIMIM) نے آر جے ڈی امیدوار کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔ اے آئی ایم آئی ایم کے رہنما اخترالایمان نے کہا ہے کہ ان کی جماعت آر جے ڈی کی حمایت کرے گی جس سے مہاگٹھ بندھن کو فائدہ ہو سکتا ہے۔
قومی اور علاقائی سیاسی اہمیت
راجیہ سبھا انتخابات کی اہمیت صرف ریاستوں تک محدود نہیں ہے بلکہ یہ قومی سیاسی مساوات کو بھی متاثر کرتے ہیں۔ این ڈی اے کے لیے یہ موقع ہے کہ وہ ایوانِ بالا میں اپنی اکثریت کو مزید مضبوط کرے۔ اکثریت بڑھنے سے پارلیمنٹ میں پالیسیوں اور قوانین کی منظوری میں سہولت ہو سکتی ہے۔
دوسری جانب اپوزیشن جماعتوں کے لیے یہ چیلنج ہے کہ وہ اپنے مضبوط علاقوں کا دفاع کرنے کے ساتھ ساتھ نئی ریاستوں میں نشستیں حاصل کرنے کی کوشش کریں۔ اگر اپوزیشن جماعتیں بعض ریاستوں میں نشستیں کھو دیتی ہیں تو ایوانِ بالا میں ان کا اثر کم ہو سکتا ہے۔
ووٹنگ کا طریقہ کار
راجیہ سبھا انتخابات میں ووٹنگ کا عمل محفوظ اور شفاف رکھنے کے لیے مختلف انتظامات کیے جاتے ہیں۔ ووٹنگ کے لیے الیکٹرانک ووٹنگ مشین (EVM) کا استعمال کیا جاتا ہے۔ ووٹر اپنے اسمبلی حلقے کے مطابق مقررہ پولنگ مرکز پر جا کر ووٹ ڈالتے ہیں۔ ووٹنگ کے دوران سکیورٹی اور رازداری کو یقینی بنانے کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جاتے ہیں۔
ووٹنگ کا وقت صبح سے شام چار بجے تک مقرر کیا گیا ہے۔ ووٹوں کی گنتی بھی اسی دن شام کو مکمل کی جائے گی۔ نتائج سامنے آنے کے بعد سیاسی جماعتیں اپنی آئندہ حکمت عملی طے کریں گی۔




