آدھار کے غلط استعمال سے متعلق جعلی قرض کے معاملات میں اضافہ

آدھار کے غلط استعمال سے متعلق جعلی قرض کے معاملات میں اضافہ

ڈیجیٹل بینکنگ کے وسیع پیمانے پر اپنائے جانے کے ساتھ آدھار معلومات کے غلط استعمال سے متعلق جعلی قرض کے معاملات میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ متعدد افراد کو بعد میں اس بات کا علم ہو رہا ہے کہ ان کے نام پر ان کی لاعلمی میں قرض درج کیے گئے ہیں۔ اس کے نتیجے میں کریڈٹ اسکور میں کمی آتی ہے اور بینکوں کی جانب سے ریکوری سے متعلق نوٹس موصول ہوتے ہیں۔

بینک اکاؤنٹس، قرضوں، موبائل کنکشنز اور سرکاری اسکیموں کے ساتھ آدھار کو جوڑنے کے بعد، رپورٹس کے مطابق دھوکہ دہی کرنے والے افراد لیک ہونے والی ذاتی معلومات کا استعمال کرتے ہوئے اکاؤنٹ ہولڈر کی رضامندی کے بغیر قرض حاصل کر رہے ہیں۔ کئی معاملات میں ایسے غیر مجاز قرضوں کا انکشاف اس وقت ہوتا ہے جب بینک کی جانب سے نوٹس جاری کیا جاتا ہے یا ریکوری ایجنٹس رابطہ کرتے ہیں۔ بعض صورتوں میں کریڈٹ اسکور میں اچانک کمی ہی پہلی علامت ثابت ہوتی ہے۔

غیر مجاز قرضوں کی نشاندہی کا سب سے قابل اعتماد طریقہ کریڈٹ رپورٹ کی جانچ کو قرار دیا جاتا ہے۔ سیبل، ایکسپیرین اور ایکویفیکس سمیت کریڈٹ بیورو سال میں ایک بار مفت کریڈٹ رپورٹ فراہم کرتے ہیں۔ اس رپورٹ میں کسی فرد کے نام پر درج تمام فعال قرضوں اور کریڈٹ کارڈز کی تفصیلات شامل ہوتی ہیں۔ اس کے علاوہ، آدھار پر مبنی او ٹی پی تصدیق کے بعد بعض بینک اور مالیاتی ادارے اپنی موبائل ایپس اور ویب سائٹس کے ذریعے قرض کی صورتحال دیکھنے کی سہولت بھی فراہم کرتے ہیں۔

اگر کسی فرد کے کریڈٹ ریکارڈ میں ایسا قرض ظاہر ہو جو اس نے نہیں لیا تو فوری کارروائی ضروری ہے۔ متعلقہ بینک یا قرض فراہم کرنے والے ادارے سے رابطہ کر کے تحریری شکایت درج کرانی چاہیے۔ اس کے ساتھ ساتھ ریزرو بینک آف انڈیا کے سرکاری شکایات کے ازالے کے پورٹل پر بھی شکایت درج کرنا ضروری ہے۔ قریبی پولیس اسٹیشن یا سائبر کرائم سیل میں رپورٹ درج کرانا بھی لازم ہے۔ بروقت اقدام کریڈٹ ریکارڈ کے تحفظ اور مزید نقصان کو محدود کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔

Leave a comment