دنیا بھر میں تیزی سے بڑھتے ہوئے اے آئی ڈیٹا سینٹرز بڑی مقدار میں پانی استعمال کر رہے ہیں، جس کے باعث ماحولیاتی اثرات کے حوالے سے خدشات بڑھ گئے ہیں۔ دستیاب معلومات کے مطابق، درمیانے اور بڑے ڈیٹا سینٹرز کولنگ کے لیے ہر سال لاکھوں سے اربوں گیلن تک پانی استعمال کرتے ہیں۔ یہ استعمال اُن علاقوں میں مزید سنگین ہو جاتا ہے جہاں پہلے ہی پانی کی کمی موجود ہے۔ ماہرین کے مطابق، سرورز کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے استعمال ہونے والی موجودہ ٹیکنالوجیز پانی پر انحصار کرتی ہیں، اس لیے متبادل حل تلاش کرنا ضروری ہو گیا ہے۔
درمیانے سائز کے ڈیٹا سینٹرز کولنگ کے لیے ہر سال تقریباً 110 ملین گیلن پانی استعمال کرتے ہیں۔ یہ مقدار تقریباً 1000 گھروں کی ایک سال کی پانی کی ضرورت کے برابر ہے۔
بڑے ڈیٹا سینٹرز کا استعمال اس سے بھی زیادہ ہے۔ معلومات کے مطابق، یہ سینٹرز روزانہ تقریباً 5 ملین گیلن پانی استعمال کر سکتے ہیں، جو سالانہ تقریباً 1.8 بلین گیلن تک پہنچ جاتا ہے۔ یہ مقدار کسی چھوٹے شہر کی پانی کی کھپت کے برابر ہے۔
اے آئی ڈیٹا سینٹرز میں ہزاروں سرورز اور اعلیٰ صلاحیت والے GPU مسلسل کام کرتے ہیں، جس سے بڑی مقدار میں حرارت پیدا ہوتی ہے۔ اگر انہیں بروقت ٹھنڈا نہ کیا جائے تو سسٹمز کے خراب ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
اسی وجہ سے ڈیٹا سینٹرز میں Evaporative Cooling ٹیکنالوجی استعمال کی جاتی ہے۔ اس عمل میں پانی کے ذریعے سرورز کو ٹھنڈا رکھا جاتا ہے تاکہ سسٹمز محفوظ اور مؤثر طریقے سے کام کرتے رہیں۔
اے آئی کے بڑھتے ہوئے استعمال کے ساتھ پانی کی طلب بھی تیزی سے بڑھ رہی ہے، جس سے ماحولیاتی توازن متاثر ہو سکتا ہے۔ خاص طور پر اُن علاقوں میں جہاں پہلے ہی پانی کی کمی ہے، وہاں ڈیٹا سینٹرز کی موجودگی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا سکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق، اگر بروقت متبادل کولنگ ٹیکنالوجیز اور بہتر وسائل کے انتظام پر توجہ نہ دی گئی تو یہ مستقبل میں ایک بڑا ماحولیاتی چیلنج بن سکتا ہے۔








