دہلی ہائی کورٹ نے مرکزی حکومت، سوشل میڈیا پلیٹ فارمز اور میوزک اسٹریمنگ سروسز کو یو یو ہنی سنگھ اور بادشاہ کے متنازع گانے ‘والیوم 1’ کو تمام پلیٹ فارمز سے بلاک کرنے کا حکم دیا ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ گانے کا کوئی بھی حصہ، کلپ یا بول آن لائن دستیاب نہیں ہونے چاہئیں۔
عدالت کا حکم اور عمل درآمد
جسٹس پروشندر کمار کوراو نے کہا کہ ‘والیوم 1’ گانا کسی بھی ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر کسی بھی شکل میں دستیاب نہیں ہونا چاہیے۔ عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ سوشل میڈیا پر جس بھی صورت میں یہ مواد موجود ہے اسے ہٹانا لازم ہوگا اور اس کی معمولی موجودگی بھی برداشت نہیں کی جائے گی۔
عدالت نے مرکزی حکومت، سوشل میڈیا پلیٹ فارمز اور میوزک اسٹریمنگ سروسز کو اس حکم پر مکمل عمل درآمد یقینی بنانے کی ہدایت دی ہے۔
‘ٹٹیری’ گانے کا تنازع
حال ہی میں بادشاہ کا گانا ‘ٹٹیری’ بھی تنازع کا مرکز بنا تھا۔ یہ گانا ہریانہ کے روایتی لوک گیت پر مبنی تھا، جسے بادشاہ نے اپنے انداز میں ریکارڈ کیا۔ گانے کے ویڈیو اور بول پر خواتین اور معاشرے کے مختلف طبقات نے اعتراض کیا۔ خواتین کمیشن نے بھی اس گانے پر تنقید کرتے ہوئے وارننگ دی تھی، جس کے بعد ویڈیو یوٹیوب سے ہٹا دیا گیا تھا۔
گانے کے ویڈیو میں اسکول یونیفارم پہنے لڑکیوں کو رقص کرتے ہوئے دکھایا گیا تھا، جسے سوشل میڈیا صارفین نے فحش اور نامناسب قرار دیا۔ تنقید بڑھنے کے بعد گانے کو پلیٹ فارمز سے ہٹا دیا گیا۔
مزید نگرانی اور قانونی انتباہ
دہلی ہائی کورٹ کے حکم کے بعد ‘ٹٹیری’ ہی نہیں بلکہ ہنی سنگھ اور بادشاہ کے دیگر فحش گانوں پر بھی سخت نگرانی رکھی جائے گی۔ عدالت نے واضح کیا کہ کسی بھی صورت میں اس طرح کا مواد آن لائن دستیاب ہونا برداشت نہیں کیا جائے گا۔
اس فیصلے نے میوزک اور انٹرٹینمنٹ انڈسٹری کے لیے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر مواد کی ترسیل کے حوالے سے واضح پیغام دیا ہے۔ اس کے علاوہ آئندہ البمز کی ریلیز پر بھی پابندی عائد کی گئی ہے تاکہ عوامی پالیسی اور بچوں و نوجوانوں کی حفاظت کے خلاف مواد کو روکا جا سکے۔









