ناسا کا آرٹیمس II مشن زمین کے مدار سے نکل کر چاند کی جانب کامیابی سے پیش رفت کر گیا

ناسا کا آرٹیمس II مشن ٹرانسلونر انجیکشن عمل کامیابی سے مکمل کرتے ہوئے زمین کے مدار سے نکل کر چاند کی جانب روانہ ہو چکا ہے اور 10 روزہ مشن کے دوران اہم تکنیکی نظاموں کا جائزہ لیا جائے گا۔

ناسا کا آرٹیمس II مشن زمین کے مدار سے کامیابی کے ساتھ باہر نکل کر چاند کی جانب بڑھ چکا ہے، جسے خلائی تحقیق کے میدان میں ایک تاریخی کامیابی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ یہ مشن انسانیت کی گہرے خلاء میں واپسی کی علامت سمجھا جا رہا ہے اور مستقبل کے چاندی مشنز کے لیے ایک اہم تکنیکی آزمائش بھی ہے۔

تقریباً 54 سال بعد، جب Apollo 17 نے آخری بار خلا نوردوں کو چاند کے قریب پہنچایا تھا، آرٹیمس II اسی سمت میں ایک نئی شروعات کی نشاندہی کرتا ہے۔

مشن کے اہم ترین مرحلے، ٹرانسلونر انجیکشن (TLI)، کو کامیابی کے ساتھ مکمل کر لیا گیا ہے۔ اس عمل کے دوران Orion spacecraft کے مرکزی انجن کو تقریباً 5 منٹ 49 سیکنڈ تک چلایا گیا۔ اس برن کے دوران تقریباً 6,000 پاؤنڈ تھرسٹ پیدا ہوا، جس نے خلائی جہاز کو زمین کی کششِ ثقل کے میدان سے باہر نکال کر چاند کی جانب مقررہ مدار میں داخل کر دیا۔

اس اہم مرحلے کے لیے مشن کنٹرول ٹیم نے متفقہ طور پر ‘Go’ سگنل دیا تھا، جو مشن کی تیاری اور درستگی کو ظاہر کرتا ہے۔ اس کامیاب عمل کے ساتھ خلا نورد باضابطہ طور پر چاند کے سفر پر روانہ ہو گئے ہیں۔

آرٹیمس II مشن کی مدت تقریباً 10 دن ہے۔ اس دوران خلا نورد چاند کے گرد گردش کریں گے اور کئی اہم تکنیکی نظاموں کا جائزہ لیں گے۔ ان میں نیویگیشن، مواصلاتی نظام، لائف سپورٹ ٹیکنالوجی اور خلائی جہاز کی کارکردگی کا جائزہ شامل ہے۔ یہ تمام پہلو مستقبل میں انسانوں کو چاند کی سطح پر اتارنے والے مشنز کے لیے انتہائی اہم ہیں۔

اس تاریخی مشن میں چار خلا نورد Reid Wiseman، Victor Glover، Christina Koch اور Jeremy Hansen شامل ہیں۔ اس میں Canadian Space Agency کی شمولیت بھی ہے، جو بین الاقوامی تعاون کی عکاسی کرتی ہے۔ خلا میں اپنے پہلے مکمل دن کے دوران، عملے نے معمول کی سرگرمیوں کے تحت جسمانی فٹنس برقرار رکھنے کے لیے ورزش کی اور آئندہ آپریشنز کی تیاری کی۔ مائیکرو گریوٹی میں جسمانی حالت کو برقرار رکھنا اس مشن کا ایک اہم حصہ ہے۔

ناسا کی قیادت نے اس کامیابی کو ایک تاریخی اور فیصلہ کن لمحہ قرار دیا ہے۔ ادارے کے سربراہ Jared Isaacman کے مطابق، ٹرانسلونر انجیکشن برن کی کامیابی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ امریکہ دوبارہ انسانوں کو چاند پر بھیجنے کے اپنے ہدف کی جانب مضبوطی سے بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے اسے خلائی تحقیق کے ایک نئے دور کے آغاز کے طور پر بیان کیا، جس میں انسانیت گہرے خلاء میں اپنی موجودگی کو مزید مستحکم کرے گی۔

Leave a comment