3 اپریل 2026 کو پیٹرول ڈیزل قیمتیں مستحکم عالمی اتار چڑھاؤ کے باوجود مقامی نرخوں میں کوئی تبدیلی نہیں

3 اپریل 2026 کو بھارت میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔ عالمی تیل مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ جاری رہنے کے باوجود مقامی قیمتیں مستحکم رہیں، جس سے صارفین کو ریلیف ملا جبکہ آئل کمپنیوں پر مالی دباؤ برقرار رہا۔

3 اپریل 2026 کو ملک بھر میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔ عالمی تیل مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ کے باوجود بھارت میں ایندھن کی قیمتیں مستحکم رہیں۔ آئل مارکیٹنگ کمپنیاں (OMCs) روزانہ صبح 6 بجے قیمتوں کو اپ ڈیٹ کرتی ہیں، تاہم آج صارفین کو کسی قسم کے اضافے کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔

حکومت کی جانب سے بھی اشارے دیے گئے ہیں کہ فی الحال پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں استحکام برقرار رکھنے کی کوشش کی جائے گی۔ عالمی مارکیٹ میں جاری غیر یقینی صورتحال کے درمیان اس اقدام سے صارفین کو ریلیف ملا ہے۔

مغربی ایشیا میں جاری جغرافیائی و سیاسی کشیدگی کا اثر عالمی تیل مارکیٹ پر واضح طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی کے باعث خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اتار چڑھاؤ دیکھا گیا ہے۔ اس ہفتے کے آغاز میں برینٹ کروڈ کی قیمت 115 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی تھی۔

تاہم حالیہ دنوں میں کشیدگی میں کمی کے اشارے ملنے کے بعد قیمتوں میں کچھ نرمی آئی ہے۔ اس کے باوجود مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔ اس صورتحال کا براہ راست اثر ان ممالک پر پڑتا ہے جو تیل کی درآمد پر انحصار کرتے ہیں، جن میں بھارت بھی شامل ہے۔

آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) عالمی تیل کی سپلائی کے لیے ایک نہایت اہم راستہ ہے۔ دنیا کی مجموعی تیل سپلائی کا تقریباً 20 فیصد اسی راستے سے گزرتا ہے۔ اس علاقے میں کسی بھی قسم کی کشیدگی سپلائی چین کو متاثر کر سکتی ہے۔

موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اگر کشیدگی میں اضافہ ہوتا ہے تو سپلائی چین متاثر ہو سکتی ہے۔ تاہم فی الحال صورتحال کو قابو میں بتایا جا رہا ہے، جس کے باعث قیمتوں میں بڑا اضافہ دیکھنے میں نہیں آیا۔

صارفین کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے آئل کمپنیاں اس وقت قیمتوں میں اچانک تبدیلی سے گریز کر رہی ہیں۔ حکومت بھی قیمتوں کے توازن کو برقرار رکھنے کی کوشش کر رہی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ عالمی مارکیٹ کے اتار چڑھاؤ کا مکمل اثر براہ راست صارفین پر منتقل نہیں کیا جا رہا۔

قیمتوں کے استحکام سے صارفین کو فائدہ ہوا ہے کیونکہ ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ روزمرہ اخراجات پر براہ راست اثر ڈالتا ہے۔ ٹرانسپورٹ سے لے کر اشیائے خورد و نوش تک ہر چیز مہنگی ہو سکتی ہے۔

تاہم ملک میں قیمتوں کے مستحکم رہنے کے باعث آئل کمپنیوں پر مالی دباؤ بڑھ گیا ہے۔ عالمی مارکیٹ میں قیمتوں میں اضافے کے باوجود مقامی سطح پر قیمتیں نہ بڑھانے کی وجہ سے کمپنیوں کو نقصان برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔

حکومت پہلے ہی پیٹرول اور ڈیزل پر 10-10 روپے فی لیٹر ایکسائز ڈیوٹی میں کمی کر چکی ہے۔ اس کے نتیجے میں کمپنیوں کو عالمی قیمتوں میں اضافے کا مکمل فائدہ حاصل نہیں ہو پا رہا۔ رپورٹس کے مطابق پیٹرول کی فروخت پر کمپنیوں کو فی لیٹر تقریباً 24 روپے کا نقصان ہو رہا ہے جبکہ ڈیزل پر یہ نقصان تقریباً 104 روپے فی لیٹر تک پہنچ گیا ہے۔

اس نقصان کی تلافی کمپنیاں اپنے منافع سے کر رہی ہیں، تاہم طویل مدت تک ایسا کرنا ایک چیلنج بن سکتا ہے۔

آج ملک کے بڑے شہروں میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں اس طرح ہیں۔ نئی دہلی میں پیٹرول 94.77 روپے فی لیٹر اور ڈیزل 87.67 روپے فی لیٹر ہے۔ ممبئی میں پیٹرول 103.54 روپے اور ڈیزل 90.03 روپے فی لیٹر فروخت ہو رہا ہے۔ کولکاتا میں پیٹرول 105.45 روپے اور ڈیزل 92.02 روپے فی لیٹر ہے۔

چنئی میں پیٹرول 100.80 روپے اور ڈیزل 92.39 روپے فی لیٹر ہے۔ بنگلورو میں پیٹرول 102.92 روپے اور ڈیزل 90.99 روپے فی لیٹر ہے۔ لکھنؤ میں پیٹرول 94.65 روپے اور ڈیزل 87.76 روپے فی لیٹر فروخت ہو رہا ہے۔

اس کے علاوہ پورٹ بلیئر میں پیٹرول 82.46 روپے اور ڈیزل 78.05 روپے فی لیٹر ہے جو ملک میں کم ترین قیمتوں میں شامل ہے۔ جے پور میں پیٹرول 104.88 روپے اور ڈیزل 90.36 روپے فی لیٹر ہے جبکہ پٹنہ میں پیٹرول 105.18 روپے اور ڈیزل 92.04 روپے فی لیٹر فروخت ہو رہا ہے۔

Leave a comment