بھارتی اداکارہ اویکا گور نے کہا ہے کہ وہ اپنے کیریئر میں کام کا انتخاب کرتے وقت صرف مقبولیت یا مالی فائدے کو ترجیح نہیں دیتیں بلکہ اپنی ذاتی اقدار اور سماجی ذمہ داریوں کو بھی یکساں اہمیت دیتی ہیں۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ اپنے اصولوں کے خلاف جانے والی مصنوعات کی حمایت نہ کرنے کے باعث انہوں نے متعدد بار فیئرنیس کریم، شراب اور بیٹنگ ایپس کے اشتہارات کرنے سے انکار کیا ہے۔
ٹیلی ویژن اور فلمی صنعت میں فنکاروں کو اکثر ایسے مواقع ملتے ہیں جو مالی اعتبار سے پرکشش ہوتے ہیں، تاہم ہر فنکار اپنی ذاتی سوچ اور سماجی ذمہ داریوں کی بنیاد پر فیصلے کرتا ہے۔ ٹیلی ویژن اور فلم دونوں شعبوں میں اپنی الگ شناخت قائم کرنے والی اویکا گور کا کہنا ہے کہ وہ اپنی اقدار کے خلاف کسی بھی قسم کا کام قبول نہیں کرتیں۔
حال ہی میں ایک گفتگو کے دوران اویکا گور نے بتایا کہ انہوں نے اپنے کیریئر میں کئی ایسے پیشکشیں مسترد کیں جو تجارتی اعتبار سے فائدہ مند ہو سکتی تھیں، لیکن وہ ان کے ذاتی اصولوں سے مطابقت نہیں رکھتی تھیں۔
فیئرنیس کریم کے اشتہارات سے انکار
اویکا گور نے کہا کہ انہوں نے کئی بار رنگ گورا کرنے والی فیئرنیس کریمز کے اشتہارات کرنے سے انکار کیا ہے۔ ان کے مطابق خوبصورتی کو صرف جلد کے رنگ سے جوڑنا معاشرے میں غلط پیغام دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ دور میں خوداعتمادی، شخصیت اور صلاحیت کو اہمیت دی جانی چاہیے، نہ کہ صرف ظاہری رنگ و روپ کو۔ اسی وجہ سے وہ ایسے کسی تشہیری مہم کا حصہ نہیں بننا چاہتیں جو لوگوں میں احساسِ کمتری پیدا کر سکتی ہو۔
شراب اور بیٹنگ ایپس کی تشہیر سے بھی گریز
اداکارہ نے یہ بھی واضح کیا کہ وہ شراب یا آن لائن بیٹنگ سے متعلق مصنوعات اور پلیٹ فارمز کی تشہیر نہیں کرتیں۔ ان کا ماننا ہے کہ عوامی زندگی میں موجود فنکاروں کی ذمہ داری صرف تفریح تک محدود نہیں ہوتی بلکہ ان کا پیغام لاکھوں لوگوں تک پہنچتا ہے۔ اویکا گور کا کہنا ہے کہ وہ کسی بھی اشتہار یا منصوبے کو قبول کرنے سے پہلے یہ ضرور سوچتی ہیں کہ اس کا معاشرے پر کیا اثر پڑے گا اور آیا وہ خود کو اس پیغام سے وابستہ کرنا چاہتی ہیں یا نہیں۔
فلموں اور کہانیوں کا انتخاب بھی سوچ سمجھ کر
اویکا گور نے بتایا کہ جب انہیں کسی فلم یا منصوبے کی پیشکش ہوتی ہے تو وہ صرف کردار یا اسکرپٹ نہیں دیکھتیں بلکہ یہ بھی سمجھنے کی کوشش کرتی ہیں کہ اس کہانی کے ذریعے معاشرے تک کس نوعیت کا پیغام پہنچے گا۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی فلم میں ایسے موضوعات پیش کیے جاتے ہیں جو معاشرتی حقائق کو ظاہر کرتے ہوں اور ان کے نتائج کو ذمہ داری کے ساتھ دکھایا جاتا ہو تو انہیں ایسے کردار ادا کرنے پر کوئی اعتراض نہیں ہوتا۔
انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ اگر کسی کہانی میں ان کا کردار سگریٹ نوشی کرتا ہے یا شراب پیتا ہے، لیکن کہانی ان عادات کے منفی نتائج بھی ذمہ داری کے ساتھ دکھاتی ہے تو وہ ایسا کردار ادا کرنے کے لیے تیار رہتی ہیں۔ ان کے مطابق یہ معاشرتی حقیقت کو پیش کرنے کا حصہ ہے، نہ کہ اس کی تشہیر۔
فنکاروں کی تخلیقی آزادی کی حمایت
اویکا گور نے کہا کہ فنکاروں پر ضرورت سے زیادہ پابندیاں نہیں ہونی چاہئیں کیونکہ فن اور کہانی سنانے کے عمل میں مختلف موضوعات اور کرداروں کو پیش کرنا ضروری ہوتا ہے۔ ان کے مطابق فلموں اور ویب سیریز کا مقصد صرف تفریح فراہم کرنا نہیں بلکہ معاشرے کے مختلف پہلوؤں کو سامنے لانا بھی ہے۔ اسی لیے فنکاروں کو ذمہ داری کے ساتھ کام کرنے کی شرط پر تخلیقی آزادی حاصل ہونی چاہیے۔
کام کے محاذ پر اویکا گور آئندہ فلم "تیرا سائی" میں نظر آئیں گی۔ اس کے علاوہ وہ مقبول اسٹنٹ پر مبنی ریئلٹی شو "خطرون کے کھلاڑی سیزن 15" کا بھی حصہ ہیں۔







